معلومات کی ونڈو شاہنگ

(Almas Ayoub, Karachi)
زیادہ سے زیادہ جانکاری رکھنا اچھا لیکن آدھی ادھوری اور ہر قسم کی معلومات حاوی کرنا ذہنی پریشانی اور بیماری کا سبب بنتی ہے ، مقصد حاصل کرنے اور معلومات کو زندگی میں صحیح طور سے استعمال کرنے کے لئے اور لوڈڈ اور فوکسڈ انفارمیشن کے فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے ، کم جانکاری غلط جانکاری سے بہتر ہے ۔

انسان کی سب کچھ جان لینے کی خواہش اور جستجوروز اول سے شروع ہوئی جو آج تک قائم ہے، اسی خواہش نے ہمیں ایک ایسے زمانے میں لا کھڑا کیا ہے جہاں معلومات کا خزانہ ہواؤں میں اڑتا اور سمندروں میں بہتا ہے ، پرانے وقتوں میں کسی بھی خبر یا چیز کی معلومات نایاب ہو تی تھیں ، جس کو حاصل کرنے کی جدو جہدنا صرف انسان کو عمل سے جوڑتی بلکہ ذہنی سکون ، قابلیت ،کچھ کر دکھانے کی جستجو پیدا کرنے کا سبب بنتی تھی ، لیکن آج ماحول میں رچی بسی ہر قسم کی معلومات آپ کے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی کسی پسندیدہ یا نا پسندیدہ خوشبو کی مانند آپ تک پہنچ ہی جاتی ہے چاروں طرف سے حملہ آور معلومات کا یہ وافر اور بے ہنگھم خزانہ بیماری کی شکل اختیار کر تا جارہا ہے جس کو کئی نام دئیے جا سکتے ہیں ، جس طرحinsomenia کاشکار انسان اپنی صلاحیتوں کا صحیح سے استعمال نہیں کر پاتا ویسے ہی infomenia کا شکار انسان بھی معلومات کو صحیح طور سے نا استعمال میں لا سکتا ہے نہ آگے بڑھا سکتا ہے ، آلودہ ہواؤں میں سانس لینے والاشخص اچھے سے سمجھ سکتا ہے کہ infoxication اس کی صحت کے لئے زہریلی ثابت ہو سکتی ہے ، موٹاپے کا شکار انسان زندگی کی کئی خوبصورتیوں سے دور ہو جاتا ہے ویسے ہی infobesityکا حامل انسان معلومات کا اسمارٹ استعمال کرنا نہیں جانتااور جس طرح فوگ اور اسموگ کا موسم کسی ماہر ڈرائیور کی رفتار کو بھی بریکیں لگوا دیتا ہے بالکل اسی طرح Data smogبھی ہمارے ذہنوں میں جمود طاری کرکے ہماری قوت فیصلہ کو متاثر کرتا ہے ۔

گئے وقتوں میں کسی ایک چیز کے بارے میں جاننے کے لئے لائبریریوں کی خاک چھان کراور کتابوں کی گرد جھاڑ کر وہ معلومات حاصل کی جاتی تھی جس سے نا صرف ہمارے علم میں اضافہ ہوتا تھا بلکہ حاصل کی ہوئی جانکاری اور معلومات دیر پا اورمصدقہ ہوتی تھیں جو انسانی ذہن پر گھڑی دو گھڑی نہیں بلکہ سالوں نقش رہنے کی وجہ سے انسانی علم کو لمبی زندگی عطا کردیتی تھی، آج سینکڑوں ٹی وی چینلز ، اخبارات کی بھرمار اور ان سب میں سب سے آگے سوشل میڈیا لمحوں میں مہیا کرنے والی معلومات کو لمحے سے بھی کم میں انسانی ذہن سے محو کر دیتا ہے ، یوں لگتا ہے معلومات کی بھی ونڈو شاپنگ جاری ہے دیکھتے جائیں آگے بڑھتے جائیں سب بہت اچھی لگتی ہیں کچھ چونکادینے والی بھی ہوتی ہیں لیکن جب یاداشت کی گھٹریاں سنبھالوں تو سب خالی،معلوم ہوتا ہے جناب ہم نے تو کچھ لیا ہی نہیں ۔
سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے پھیلتی سچی ،جھوٹی ، آدھی ادھوری خبریں گمراہی پھیلانے میں سب سے آگے ہیں ، ایک منٹ میں دس ٹوئٹ پڑھنے والا انسان ایک پر بھی توجہ دینے کے قابل نہیں رہتا ، اچھی خبر کے اگلے لمحے ہی کوئی بری خبر خوشی کا مزا کرکرا کر دیتی ہے ،جس طرح غذائیت سے بھرپور کھانا بھی ہضم ہونے کے بعد ہی انسان کو فائدہ پہنچاتا ہے بالکل ایسے ہی کسی معلومات یا علم بھی سوچ بچار کے بعدہی عمل میں ڈھلتا ہے ، لیکن ایک کے پیچھے ایک آنے والی جانکاری کی اوور ڈوز پیٹ کی خرابی کا باعث بنتی ہے ، نظروں کے سامنے اتنا مواد موجود ہے کہ صحیح غلط کا فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے ۔

معروف کمپیوٹر ساز کمپنی HPکی ایک اسٹڈی کے مطابق تیزی سے بڑھتاinfomenia کسر فہم اور کسر ذہانت جسے عرف عام میں IQ لیول کہا جاتا ہے اس میں 10سے 15فیصد کمی لا چکا ہے جس کی وجہ سے info age کے فوائد کے بجائے نقصانات ہمیں گھیرے ہوئے ہے ،معلومات کی زیادتی انسان کو ضرورت کی چھوٹی بڑی کسی بھی چیز کے خریداری کے باوجود مطمئن نہیں ہونے دیتی ایک چیز کی خامی اور دوسرے کی خوبی اسے ہمیشہ غیر مطمئن رکھتی ہے ، ہفتے میں دو کتابیں پڑھنے والا طالب علم سو کتابوں کی چوائسز میں سے فیصلہ نہیں کرپاتا کہ کونسی کتاب پہلے پڑھی جائے ، انٹرنیٹ پر کام کرنے والا شخص کو hyper link ، غیر ضروری اور تواتر سے آتے اشتہارات باخبر ی پھیلانے کے بجائے ذہن کو منتشر کرنے کا سامان مہیا کرتے ہیں ۔

ضرورت سے زیادہ معلومات کا بوجھ پریشانی ، ڈپریشن اور anxiety پیدا کرتا ہے اور ہم باخبر ہونے کے بجائے کنفیوژ ن کا شکار ہوکر اپنے مقصد سے ہٹ جاتے ہیں ،کسی ایک چیز کے بارے میں مکمل اور جامع معلومات رکھنے والا انسان اس شخص سے کہیں بہتر ہے جو ہر غیر ضروری معلومات کی ادھوری جانکاری رکھتا ہو،یعنی ایسا شخص اپنا نظریہ رکھنے کے قابل نہیں رہتا ۔

اوور لوڈ اور فوکس معلومات رکھنے والے افراد میں فرق بالکل رات اور دن کے تفریق کی طرح واضح ہوتا ہے ، اپنے ذہن اور دماغ کو infomenia اور infobesity جیسی بیماریوں سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم معلومات کی ونڈو شاپنگ بند کریں ، کسی بھی چیز کا مکمل علم اور جانکاری حاصل کریں اور اس کے لئے کسی استاد سے جڑناصحیح اور غلط کی فیصلہ سازی میں مدد فراہم کرتا ہے ، کیونکہ کم معلومات رکھنا غلط معلومات کے شکنجے میں جکڑے ہونے سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Almas Ayoub
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2020 Views: 235

Comments

آپ کی رائے