فرقہ وارانہ کشیدگی کا خاتمہ کیسے ۔؟

(Umer Farooq, )

اسلام آبادمیں آج کل آل پارٹیزکانفرنسوں کاماحول گرم ہے پچھلے چنددنوں میں متعددآل پارٹیزکانفرنسیں منعقدہوچکی ہیں جن میں سے چندخفیہ تھیں اورچندکیمروں کے سانے منعقدہوئیں ،عسکری قیادت سے پارلیمانی لیڈرزکے اے پی سی ہویااپوزیشن جماعتوں کی بیٹھک ،علامہ طاہرمحمود اشرفی کی ایوان صدرمیں تمام مسالک کے قائدین پرمشتمل وحدت امت کانفرنس ہویامذہبی رہنماؤں کی بندکمرے میں مقتدراداروں کے ساتھ مشاورت ،یہ سب اہمیت کی حامل ہیں اوران کے ملک کے سیاسی ومذہبی مستقبل کے حوالے سے دوررس اثرات مرتب ہوں گے ۔

پہلی والی دونوں آل پارٹیزکانفرنس کاسیاسی ایجنڈہ تھا جبکہ آخری دوکانفرنسوں کاایجنڈہ خالصتامذہبی اورنظریاتی تھا پہلی والی کانفرنسوں پربہت کچھ کہااورلکھاجارہاہے جبکہ آخری والی کانفرنسوں میں زیادہ بات نہیں ہورہی بلکہ مقتدراداروں کے ساتھ مذہبی رہنماؤں کاجواجلاس ہواہے اس پرمذہبی قائدین آ ن ریکارڈبات کرنے سے بھی احترازکررہے ہیں کہ جیسے انہوں نے کوئی جرم کیاہوحالانکہ ریاست پاکستان کے حوالے سے یہ اجلاس نہایت اہمیت کاحامل تھا کیوں کہ ملک میں مذہبی اورمسلکی کشیدگی کاجوماحول بن چکاہے اس میں اس طرح کی بیٹھک وقت کاتقاضاتھا تاکہ مل بیٹھ کراس کاکوئی حل نکالاجاسکے ۔
حالیہ محرم الحرام میں چندشرپسندعناصرکی طرف سے صحابہ کرام ،اہل بیت اطہار،خلفاء راشدین اوردیگرمقدس شخصیات کی توہین وتکفیرکی گئی جس پرملک میں سخت ردعمل آیااوریہ ردعمل آنابھی چاہیے تھا کیوں کہ اگرمقدس شخصیات کی توہین وتکفیرکایہ سلسلہ چل نکلاتواس کے بھیانک نتائج برآمدہوں گے شرپسندعناصرکامقصدبھی یہ تھا کہ ملک میں فرقہ وارانہ تصادم کرواکرشام وعراق والی صورتحال پیداکی جائے ،ظاہرکہ اس صورتحال کوملک کے عسکری اورمقتدرادارے بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے ،مقتدرادارے پہلے دن سے مذہبی جماعتوں کے قائدین سے رابطوں میں تھے اوران ہی رابطوں کانتیجہ تھا کہ 22اور23ستمبرکی درمیانی رات اسلام آبادمیں یہ خفیہ آل پارٹیزکانفرنس منعقدہوئی ،

اس کانفرنس سے قبل ملک بھرسے آنے والے تمام مذہبی قائدین کلب روڈ پرواقع ایک ہوٹل میں جمع ہوئے جہاں پرمتفقہ مؤقف پیش کرنے کے حوالے سے مشاورت ہوئی ،اپوزیشن کی آل پارٹیزکانفرنس کاآغازمولانافضل الرحمن کی تلاوت سے ہواتھاجبکہ اس آل پارٹیزکانفرنس کی تلاوت میزبان مکرم نے خودکی اورسورہ الناس کی تلاوت کرکے یہ پیغام دیاکہ ہمیں ہروقت جن وانسان کے شراورشیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگنی چاہیے یہ شیطان ہی ہے جوامت میں فسادپیداکرتاہے اورشرپسند عناصرشیطان کی ایماء پرہی مقدس شخصیات کی توہین وتکفیرکرتے ہیں ،

اس کانفرنس میں تمام مسالک کے جیدعلماء کرام شریک ہوئے جس میں وزیرمذہبی امورپیرنورالحق قادری، مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد رفیع عثمانی، قاری محمد حنیف جالندھری ،مولانااحمد لدھیانوی ،مولانااورنگزیب فاروقی،مو لانامعاویہ اعظم ، مولانا سعید یوسف ،پروفیسر ساجد میر ،مفتی عبدالرحیم ،مولاناڈاکٹرعادل خان ،صاحبزادہ سلطان فیاض الحسن ،علامہ طاہرمحمود اشرفی ،علامہ ضیااﷲ شاہ بخاری ،مفتی منیب الرحمن ،پیرنقیب الرحمن ،علامہ شہنشاہ نقوی ،راجہ ناصر عباس ،علامہ عارف واحدی ، افتخار حسین نقوی ،علامہ یاسین ظفر،مولاناعبدالمالک ودیگررہنماء شامل تھے ۔شیعہ ،سنی ،بریلوی ،اہل حدیث سب ہی ایک چھت تلے پرامن بیٹھے رہے اوراحسن اندازمیں ایک دوسرے کی گفتگوسماعت فرمائی ۔

اس اجلاس میں ان مذہبی رہنماؤں نے کیاگفتگوکی اورکیامطالبات سامنے رکھے ہمیں امیدہے کہ مذہبی قائدین جلدوہ پیغام اپنے کارکنوں تک پہنچائیں گے تاکہ منافرت کاجوسلسلہ چل پڑاہے وہ ختم ہوسکے ،ذرائع کے مطابق مقتدراداروں کی طرف سے واضح پیغام دیاگیاکہ ملک میں فسادکی اجازت نہیں دی جائے گی جوبھی فسادپھیلائے گا اس سے سختی سے نمٹاجائے گا قانون پرعمل درآمدکیاجائے گا اورعلماء سے کہاگیاکہ وہ مل بیٹھ کرایک ماہ کے اندرخودضابطہ اخلاق بنائیں حکومت اس حوالے سے قانون سازی کرے گی جن لوگوں نے گستاخیاں کی ان کے خلاف قانون پرعمل درآمدہوگا۔

جہاں تک ضابطہ اخلاق کی بات ہے تو اس سے پہلے بھی بہت سے ضابطہ اخلاق بنائے گئے ہیں اوران پرتمام مسالک کے علماء کرام کے دستخط بھی موجود ہیں ملی یکجہتی کونسل کاجاری کردہ ضابطہ اخلاق ،عبدالستارخان نیازی رپورٹ ،دوسال قبل جاری کیاگیاپیغام پاکستان اورحال ہی میں سامنے لایاگیا تحفظ بنیاداسلام بل سمیت متعددفورمزکی طرف سے فرقہ واریت کے خاتمے کے حوالے سے سفارشات موجود ہیں مگراس کے باوجود توہین وتکفیرکاسلسلہ بندنہیں ہورہااس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قانون پرعمل درآمدنہیں ہورہاجس دن قانون پرعمل درآمدشروع ہوگیااورمجرمان کوسزائیں ملناشروع ہوگئیں اس دن یہ فرقہ واریت بھی ختم ہوجائے گی ۔

ایوان صدرمیں ہونے والی پاکستان علماء کونسل کے زیراہتمام وحدت امت کانفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ،جس میں تمام مسالک کے دوسوسے زائدعلماء کرام شریک ہوئے ،اس کانفرنس میں بھی یہی پیغام دیاگیاکہ بدقسمتی سے ہم نے اختلاف کومنافرت میں تبدیل کردیاہے اختلاف کواختلاف رہنادیاجائے یہ اختلافات صدیوں سے چلے آرہے ہیں ان اختلافات کوجنگ وجدل کاذریعہ بناناکسی طورپربھی ملک اورقوم کے لیے درست عمل نہیں ،ہمیں یہ بھی دیکھناہوگا کہ ان اختلافات کے پیچھے کون ہے ،؟ان اختلافات کواگرعوام تک پہنچادیاگیاتوپھرتصادم ہوگا ۔

صدرپاکستان ڈاکٹرعارف علوی نے درست فرمایاکہ گذشتہ چند دہائیوں میں سازشوں کے ذریعے ایران اور عراق کے درمیان جنگ کرائی جاتی رہی، عالمی طاقتوں نے اپنا اسلحہ فروخت کرنے کیلئے یہ جنگیں کرائیں، ایران عراق جنگ کے دوران تقریبا دس لاکھ افراد جانوں سے گئے، آپس کی نااتفاقی و ناچاقی نے عراق اور شام کو تباہ کر دیا۔صدرآزادکشمیرنے اس کانفرنس میں خوبصورت اندازمیں بتایاکہ اگرہم یہاں اختلافات کاشکاررہیں گے تواس کے اثرات کشمیرپربھی پڑیں گے مسئلہ کشمیراورفلسطین کایہ تقاضاہے کہ قوم متحدہوکرامت مسلمہ کے ان دواوردیرینہ مسائل کے حل کے لیے پیش قدمی کرے ،

علامہ طاہراشرفی نے اعلان اسلام آبادسے جاری اعلامیے میں کہاکہ مذہب کے نام پر دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ وارانہ تشدد، قتل و غارت گری خلافِ اسلام ہے اور تمام مکاتبِ فکر اور تمام مذاہب کی قیادت اس سے مکمل اعلانِ برات کرتی ہے۔کوئی مقرر، خطیب، ذاکر یا واعظ اپنی تقریر میں انبیا علیہ السلام، اہلِ بیت اطہار، اصحابِ رسول، خلفائے راشدین ،ازواجِ مطہرات، آئمہ اطہار اور حضرت امام مہدی کی توہین، تنقیص اور تکفیر نہ کرے گا اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تمام مکاتبِ فکر اس سے اعلانِ برات کرتے ہیں۔ ایسے شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ شر انگیز اور دل آزار کتابوں، پمفلٹوں، تحریروں کی اشاعت، تقسیم و ترسیل نہ ہو، اشتعال انگیز اور نفرت آمیز مواد پر مبنی کیسٹوں اورنٹرنیٹ ویب سائیٹوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ دل آزار اور نفرت آمیز اور اشتعال انگیز نعروں سے مکمل اعراض کیاجائے۔حکومت قومی ایکشن پلان پر بلا تفریق مکمل عمل کرائے۔محرم الحرام کے دوران اور اس سے قبل مقدس شخصیات کی توہین، تکفیر کرنے والے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور مجرمین کو جلد از جلد سزائیں دی جائیں۔

اس کانفرنس کااعلامیہ بھی اہمیت کاحامل ہے مگردیکھاگیاہے کہ بعض علماء کرام جب بندکمروں میں تقاریرکرتے ہیں تووہ اتحادکے سب سے بڑے داعی نظرآتے ہیں مگرجب مجمع میں بات کرتے ہیں توآگ لگادیتے ہیں ہمیں اپنے رویوں پرنظرثانی کرناہوگی اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ایسے فورمزموجود ہیں کہ جہاں تمام مسالک کے علماء کرام اورقائدین اکٹھے بیٹھتے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل ،متحدہ مجلس عمل ،ملی یکجہتی کونسل ،اتحادتنظیمات مدارس دینیہ جیسے فورمزپرکبھی تنازعات پیدانہیں ہوئے اس کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کوبھی اپنی منجی تلے ڈانگ پھیرناہوگی کہ ان کی صفوں میں موجود کون مذہبی اختلافات کوہوادے رہاہے؟ اورکون مذہبی اختلافات وتنازعات کوسیاسی مفادات کے لیے استعمال کررہاہے ؟


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 90 Articles with 19674 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2020 Views: 131

Comments

آپ کی رائے