تحریک آزادی میں اخلاق و اخلاص کی اہمیت

(Qayuum Raja, )

یہ میری خوش نصیبی ہے کہ جب کبھی میں کسی مسلہ کو اسلامی و اخلاقی نقطۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو میں اپنی سالی نورین اخترکے علم سے استفادہ کر سکتاہوں جو ایک عالمہ، فاضلہ، حافظہ اور معلمہ ہیں۔ اس وقت جو سوال مجھے تنگ کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف ہمارے سیاستدان تحریک آزادی کو ایک مقدس مشن قرار دیتے ہیں دوسری طرف متحد و متفق نہیں؟ آخر اس تضاد کی وجہ کیا ہے؟ مجھے تو اس کی ایک ہی وجہ نظر آئی اور وہ ہے اخلاق و اخلاص کی کمی۔ میں نے نورین اختر سے پوچھا کہ اسلامی نقطۂ نظر سے اخلاق و اخلاص کیسے پیدا اور ختم ہوتا ہے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اﷲ تعالی نے انسان کو دنیا میں اپنا نائب بنا یا۔ یہ رتبہ اﷲ تعالی نے اپنی مخلوق میں سے کسی اور کو نہیں دیا۔ اس مقام کے لیے اﷲ تعالی نے اپنے نبیوں کے زریعے انسان کے اندر مطلوبہ اوصاف پیدا کرنے کا انتظام بھی کیا ۔ نبی کریم نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ـ" مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے" پھر اپنی تعلیم کا اصل مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اخلاق خلق کی جمع ہے۔ خلق اس عادت کو کہتے ہیں جو کسی کام کو ایک ہی طرح کرنے سے پختہ ہو جاتی ہے۔ اخلاق اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ اگر ہمارے معلمین اچھے ہیں جن میں اساتذہ اور والدین دونوں شامل ہوتے ہیں تو وہ ہمارے اندر اچھے اخلاق پیدا کرینگے۔اچھے اخلاق کی مالک قوم ہی عروج پاتی ہے جبکہ بد اخلاق قوم کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے۔ اخلاق ہی انسان کے اندر اخلاص پیدا کرتا ہے۔ اخلاص کے بغیر انسان کا ایمان اور ایمان کے بغیر عمل بھی درست نہیں ہو سکتا۔ جو عمل صرف عزت شہرت اور دولت کے لیے کیا جائے وہ بالآخر انسان کو زلیل و خوار کرتا ہے جبکہ جو خود کو حقیر جانتا ہے وہی بلند مرتبہ پاتا ہے۔ مخلص وہی ہے جس کا نیک عمل رنگ نسل اور تعلق سے بالا ہو۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت کم اور غیر معمولی ہوتے ہیں جو اپنی مدد آپ مشاہدے اور تجربات سے اپنے اندر اچھے اور اعلی اوصاف پیدا کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو خود احتسابی، خود شناسی اور ریاضت کے طویل عمل سے گزرنا پڑتا ہے جسے انگلش دان ٹرائل اینڈ ایرر کہتے ہیں۔ اخلاق ہی انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔جس انسان کے اندر اخلاق نہیں وہ خود بخود حیوان کے لیول پر آ جاتا ہے۔ وہ ہر شہ اور عمل کو پیٹ کے حوالے سے دیکھتا ہے اخلاق اور اخلاص ایک ایسی قوت ہے جو انسانوں کو جوڑتی جبکہ خود غرضی انہیں توڑتی ہے۔ اسی لیے خود غرضی اور ریاکاری کو دنیا کا سب سے بڑا فساد قرار دیا گیا ہے۔ اعمال و نتائج کے لیے نیت بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیت کھوٹی ہو تو بنیاد کھوکھلی ہو گی ۔اگر بنیاد ہی کھوکھلی ہو گی تو اس پر تعمیر ہونے والی عمارت بھی کمزور، کھوکھلی اور بودی ہو گی۔ اپنے اور دوسروں کے اندر اخلاص پیدا کرنے کے لیے نظریہ توحید، اتباع رسول اور نیک و مخلص لوگوں کی صبحت ضروری ہے دنیا میں کچھ قومیں ایسی بھی ہیں جو خدا کے وجود کو نہیں تسلیم کرتیں لیکن وہ یہ جانتی ہیں کہ اخلاق و اخلاص کی ضد بد اخلاقی و بد دیانتی ہے جو اجتماعیت، سیاست اور معیشت کی تبائی کا باعث بنتی ہے۔ آج ہم اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں خو غرضی، ریاکاری اور تنگ نظری کا شکار ہیں جس نے ہمارے اندر عدم برداشت کا جذبہ پیدا کر کے ایک دوسرے سے دور ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ ہم آزادی کے جس مقدس مشن کی تکمیل کے لیے میدان عمل میں نکلے تھے اسکی خاطر لاکھوں جانوں کے نذرانوں کو بھول کر نفس کے غلام بن کر آج اپنی آزادی کے دشمنوں کے خلاف متحد ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے دست و گریبان ہیں ۔ اﷲ تعالی سے عاجزانہ التجا ہے کہ وہ ہمارے دل و دماغ پر لگے تالوں کو کھولے۔ ہمیں اجتماعیت اور اخلاق و اخلاص کی قوت کو سمجھنے کی توفیق دے کہ زندہ وہی ہے جس نے خود کو مٹا دیا!چ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qayuum Raja

Read More Articles by Qayuum Raja: 48 Articles with 20451 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2020 Views: 99

Comments

آپ کی رائے