کھیل کے میدان ختم ہوگئے

(Dr Muhammad Adnan, Lahore)

 پاکستان کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن ہمارے شہروں میں خاص طور پر آبادی کے تناسب سے کھیل کے میدان بڑھنے کی بجائے ختم ہو تے جا رہے ہیں لاہور پاکستان کا بڑا شہر ہی نہیں کھیلوں کے حوالے سے بھی اس شہر نے پاکستان کو بہترین کھلاڑی اور کھیل کے میدان دیے ہیں۔پہلے لاہور میں نوجوانوں کے کھیلنے کے لئے بہت سے میدان یا گرا ؤنڈ ہوا کرتے تھے اور جہاں بسا اوقات چلچلاتی دوپہر میں بھی نوجوان کھیل کے میدان میں مگن نظر آتے تھے خاص طور پر لاہور کا علاقہ کاہنہ میں۔ بہر حال ان نوجوانوں کے پاس اپنے شوق کی تکمیل کی بنیادی ضرورت یعنی کھیل کے میدان موجود تھے۔جب کھیل کے میدان تھے تو سب کھیلتے تھے تو اس دوران با صلاحیت نوجوان ابھر کر سامنے آتے تھے اور آگے چل کر قومی ٹیم کا حصہ بنتے تھے اور آج کم از کم لاہور میں تو کھیل کے میدان جیسے غائب ہو گئے ہیں اور آج لاہور کے زیادہ تر علاقوں کی حالت یہ ہے کہ لاکھوں کی آبادی کے باوجود ایک بھی کھیل کا میدان نہیں۔جن علاقوں میں کھیل کے میدان باقی بچ گئے تھے ان کا حال یہ ہے کہ سوائے چھٹی والے دن ،خال خال ہی کوئی گروپ کھیلتا ہوا نظر آتا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کھیل کے میدان کہاں گئے ؟جواب ہم سب کی آنکھوں کے سامنے ہے یہ کھیل کے میدان مختلف قبضہ مافیا اور ہمارے سیکورٹی اداروں کی نظر ہو گئے بہت سے میدانوں پر ان علاقوں کی قبضہ مافیا نے قبضہ کر نے کے بعد وہاں پلاٹنگ کرکے انھیں بیچ دیا جہاں لوگوں نے اپنے گھر اور دکانیں بنا لیں۔قبضہ مافیا سے جو میدان بچ گئے ان پر مختلف سیاسی جماعتوں نے قبضہ کر لیا کیونکہ کھیل کے میدان پر قبضہ سب سے آسان تھا کہ زمین ہموار کوء تعمیر نہیں، آسانی سے قانون کی عمل داری کے نام پر قبضہ کر لیا گیا۔آج اگر لاہور کے علاقے کاہنہ کے پرانے اور مشہور گراؤنڈ کھوجنے نکلیں تو وہاں پر بھی آپ کو گھر اور دفاتر نظر آئیں گے۔کھیلوں میں پاکستان کی خستہ حالی کی ایک بڑی وجہ ایک تو سماجی اور سیاسی فیکٹرز ہیں اور دوسرا نوجوان نسل کا تیز لائف اسٹائل بھی ہے اگر ہمیں نوجوان نسل کو تباہی سے بچانا ہے تو اس کے لئے کھیل کے میدان دوبارہ بنا نا ہوں گے تاکہ گراؤنڈ پھر سے بھر جائیں اور بچے اور نوجوان اپنی دلچسپی بجائے فضولیات کے کھیل کی طرف دیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Adnan

Read More Articles by Dr Muhammad Adnan: 20 Articles with 9379 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Dec, 2020 Views: 307

Comments

آپ کی رائے