جلتی جھلستی جنتیں

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

کسی بھی ماں کو اپنے قدموں تلے پائی جانے والی جنت پکی کرنے کے لیے پہلے خود کو اس قابل بنانا پڑتا ہے کچھ کر کے دینا پڑتا ہے ۔ بچہ پیدا کر کے اسے پال پوس کر بڑا کر دینا کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے یہ کام تو جانور بھی کر لیتے ہیں ۔ ایک ماں کا اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب ننھا سا گوشت کا لوتھڑا ایک تگڑا جوان بن جاتا ہے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ ہمارا سماجی ڈھانچہ جن بنیادوں پر استوار ہے اس میں عام طور پر ایک نوجوان کے لیے بڑے امتحان اور آزمائشیں ہوتی ہیں ۔ خصوصاً زیریں اور متوسط و نیم متوسط طبقے میں ۔ مثلاً پہلے گھر بنانا پھر بہنوں کی شادیاں کرنا چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانا ۔ یہ بیٹا جتنا زیادہ فرمانبردار اور سعادتمند ہوتا ہے اتنا ہی قربانی کا بکرا بنتا ہے ۔ بیوی کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کے لائق ہونے کے باوجود اس کی باری آ کے نہیں دیتی ۔ خیر جب بالآخر اس کی باری آ جاتی ہے تو اصولاً اس کی زندگی اسے ہی جینے دینا چاہیئے ، مگر ایسا ہونے نہیں دیا جاتا ۔ ماں باپ جو اپنی باری لے چکے ہیں بیٹے کی باری میں بھی اس کی زندگی خود جینا چاہتے ہیں اور عام طور پر وہ ایسا کرتے بھی ہیں ۔ اور شادی شدہ بہنیں بھی اس کام میں پیچھے نہیں رہتیں اور پھر کنواریوں کے تو کیا ہی کہنے ۔

پھر وہ ماں جس کے قدموں تلے جنت ہے وہ بہو کی زندگی کو جہنم بنانے پر تل جاتی ہے ۔ بہو اسے اپنی سب سے بڑی رقیب نظر آتی ہے جس نے اس کا بیٹا چھین لیا ۔ بیوی کا خیال رکھنا اس کی دلجوئی کرنا اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اس کی عزت کرنا یہ تک اس ماں سے برداشت نہیں ہوتا ۔ وہ خود اپنے میاں کے ساتھ پلنگ پر چڑھ کر بیٹھی ہوتی ہے مگر بیٹے کے لیے چاہتی ہے کہ وہ کام سے تھکا ہارا آیا ہے تو اپنے کمرے میں نہ جائے فریش نہ ہو کچھ دیر کو کمر سیدھی نہ کرے بس سیدھا آ کے ان کے چرنوں میں بیٹھ جائے بیوی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے ۔ اگر پہلے اس کی طرف چلا جائے تو دنیا کا سب سے بڑا بےشرم اور بےحیا انسان ۔ یہی بیٹا جو گھر کے کام کاج میں ماں بہنوں کا ہاتھ بٹاتا تھا ان کی مدد کرتا تھا تو ہیرا موتی لعل زمرد تھا ۔ اب اگر کچن میں بیوی کے قریب بھی پھٹک جائے تو زن مرید جورو کا غلام ۔ اس کے شادی شدہ ہوتے ہی سب معیارات بدل گئے ، بہنوں کو لگتا ہے کہ بھائی پہلے جیسا نہیں رہا ، ماں کو لگتا ہے کہ بیوی کے آنے کے بعد بیٹا بالکل بدل کر رہ گیا ہے ۔ اس کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے تنہائیوں کو ایک حسین رفاقت میسر آئی ہے اب وہ بہت مطمئین و مسرور ہے مگر کچھ بدنصیب ماؤں کو خود اپنے جگر کے ٹکڑے کی خوشیاں خار بن کر چبھنے لگتی ہیں ۔ وقت اور وسائل کی تقسیم ان کے دل پر ایک کاری ضرب بن کر لگتی ہے اور ایک بےوجہ کی محاذ آرائی کا آغاز ہو جاتا ہے ۔

یہ مشترکہ خاندانی نظام میں جنم لینے والی ایک عام سی صورتحال ہے جو اکثر ہی سالہا سال جاری رہتی ہے ۔ زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص علیحدہ رہائش کی استطاعت رکھنے کے باوجود محض اپنے والدین کی خوشنودی کی خاطر اپنے بیوی بچوں کو جوائنٹ کے جہنم میں جھونکے رکھتا ہے جبکہ دن رات جوتیوں میں دال بٹ رہی ہوتی ہے ۔ اور اس سے بھی زیادہ اندوہناک بات یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ملازمت کے سلسلے میں بیرون شہر یا بیرون ملک مقیم ہوتا ہے اور فیملی کو ساتھ رکھنے کے قابل ہوتا ہے مگر ماں باپ اسے اجازت نہیں دیتے ۔ یا پھر طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے رکاوٹیں ڈالتے ہیں اس کی جیب میں اتنا چھوڑتے ہی نہیں کہ وہ خود اپنے لیے بھی کچھ کر سکے ۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے کماؤ اور پورے گھرانے کی کفالت کرنے والے مرد اپنے والدین کی ضد کے آگے بےبس ہوتے ہیں کہ ہم بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتے یا یہ کہ ہماری زندگی میں تم الگ ہونے کا سوچنا بھی نہیں ۔ اور کہیں تو ماں صاف کہتی ہے کہ تم بیوی کو لے جاؤ گے تو گھر کا کام کون کرے گا مجھے آرام کب ملے گا ۔ بیٹا بھلے نوکری کے ساتھ ساتھ روٹی ہانڈی بھی کرے اس کی کوئی پروا نہیں ۔ دیس کے دیہاتوں اور شہری علاقوں میں بھی اس طرح کی صورتحال نظر آتی ہے جس میں زیادہ ہاتھ ایک ماں کا ہی ہوتا ہے جو ایموشنلی بلیک میل کرتی ہے کہیں دودھ نہ بخشنے کی دھمکی دیتی ہے ۔ سب سے پہلے تو اس سوچ سے باہر آنے کی ضرورت ہے کہ ماں جیسی بھی ہو جنت اسی کی جوتیوں تلے ہے ۔ اس سوچ کے ساتھ کوئی بھی شخص کبھی بھی انصاف قائم نہیں کر سکتا اور اپنی منکوحہ کو اپنی ماں کے شر کا شکار بننے سے محفوظ نہیں رکھ سکتا ۔ بہو کو جلا کر یا زہر دے کر مار دینے والی اس کے ٹکڑے کر کے مرتبان میں بھر دینے والی ماں کیسے اپنے بیٹے کی جنت کی ضامن بن سکتی ہے ۔ پہلے وہ خود تو جنت میں جا کر دکھائے جو بیٹے کو بیاہتے ہی اس کا اور اس کی بیوی کا جینا حرام کر دے ان کی زندگیوں کو جہنم بنا دے ۔ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور محرومیوں کی سزا کسی دوسرے کی بیٹی کو دے کر اپنی فتح کا جشن منائے ۔ ایسی ایسی مائیں جنہوں نے اپنے حسد بغض اور اپنی فسادی بیٹیوں کے کہنے میں آ کر اپنے بیٹوں کے گھر اجاڑ دیئے یا بیٹے اور بہو کے درمیان جدائیاں ڈالیں انہیں سالہا سال ایکدوسرے سے دور اور تنہا رکھا اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی بادشاہی سلامت رکھنے کے لیے بہو کی زندگی اور خود اپنے بیٹے کی جوانی خاک میں ملائی اور خود اپنے اوپر جہنم واجب کر لی تو کیا وہ اس لائق ہیں کہ ان کے قدموں تلے جنت ہونے کا یقین کیا جائے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 168 Articles with 1020381 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Dec, 2020 Views: 2381

Comments

آپ کی رائے