حکمت آمیز باتیں۔اکتالیسواں حصہ

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
یہ میری فیس بک پر کہی گئی باتوں کا مجموعہ ہے تو راقم السطور کے پاس جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
اپنے مقصد سے جنون رکھنے والے ہی قربانی اور کامیابی کی عظیم مثال قائم کرتے ہیں۔

پھول کے حصول کے لئے کانٹوں سے تو لڑنا ہی پڑتا ہے۔تب ہی خوشبو کی مہک سے لطف واندوز ہو سکتے ہیں۔ اس لئے خود کو مشکل سے لڑنے کا عادی بنائیں۔

بہکنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اپنے آپ پر قابو نہیں، یہ آپ کی آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔

خوش نصیب خود تو زندگی میں کامیابی، سکون کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں، اگر آپ سے جڑ جائیں تو آپ کا بخت بھی جاگ جاتا ہے۔

محبوب بنا لینا آسان ہے مگر محبوب سے وفاداری اوراُس کا مان رکھنا بے حد دشوارہوتا ہے۔

مرجانے کے بعد تو خدا تک پہنچ ہی جانا ہے، مگرخدا کو زندگی میں پالینا اہمیت کا حامل ہے کہ خدا ملے جائے تو دنیا کے ساتھ آخرت سنوار دیتا ہے۔

قصہ المختصر یہ تصویر آپ اگر باشعور انسان ہیں تو آپ کو یہ بات سمجھا دے گی کہ ہمارے ہاں ایسا کیوں ہو رہا ہے، اس کے ذمہ داران کون ہیں؟

جس معاشرے میں جہیزکی استطاعت نہ رکھنے والی خاتون ازخود شادی کی بات کرے تو ہم اُس کے کردار پر بات کرتے ہیں،مگرہم جہیز کے بنا شادی کو ممکن نہیں بنا پا رہے ہیں۔

جب تک آپ کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا۔

اگرخواب دیکھے ہیں تو پھر تعبیر کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں کہ شام کے بعد صبح ضرور ہوتی ہے، آپ اپنے حصے کی روشنی کو ضرور تلاش کیجئے۔

آپ سب کچھ کر سکتے ہیں،مگر کسی بلند حوصلہ شخص کو جو پر اعتماد ہو اُسے ہارا نہیں سکتے ہیں۔

آستین کے سانپوں سے انسان بچ جائے تو پھر زندگی میں کامیابی کی جانب آسانی سے بڑھا جا سکتا ہے۔

آپ جب بہت اچھا کام کرنے لگ جائیں تو پھر کوئی نہ کوئی آپ کی ساکھ کو ضرورخراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جو کھو گیا اس پر کیا پریشان ہونا، جس طرح سے وقت گذر جاتا ہے تو ہم اس پر رو لیں تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے اسی طرح سے کچھ کھونے پر افسردہ ہونا بھی ٹھیک نہیں ہے۔

میرے نزدیک کچھ چلے جانا اتنا اہم نہیں ہے،جتنا اہم یہ ہے کہ آپ کے ہاتھ سے کتنا کچھ نکلا ہے اور آپ نے اس کے بدلے میں کتنا مزید اچھا حاصل کیا ہے یا پھر آپ کو کچھ حاصل ہوا ہے، ہم اکثر تھوڑے پر زیادہ روتے ہیں جو جا چکا ہوتا ہے مگر بہت کچھ ہاتھ میں ہونا بھی ہمیں خوش نہیں رکھ پاتا ہے۔

آپ کے پاس جو ہے آپ کو اُس پر اتنا خوش ہونا چاہے کہ لوگ اپ سے حسد کرنا شروع کر دیں۔

جواہل ہوتے ہیں وہ اپنی قابلیت کا لوہا منوالیتے ہیں، بس اپنے آپ کو یہ اعتماد دیں کہ آپ کہیں جگہ بنانے کے لئے کوشش جاری رکھیں گے

انتظار اور محنت آپ کو آپ کی منزل تک لاکھڑا کرتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں، محض سن لینا، جی ہاں محض سننا ہی آپ کو قابل اعتبار شخص بنا دیتا ہے، آپ سننا شروع کریں دیکھیں لوگ کیسے آپ پر پروانے کی مانند اُمڈتے ہیں۔یہی سننا ہی آپ کے علم میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

آپ کسی کو بھی سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اندر سے کیسا ہے،انسان کو سمجھنے کے لئے انسان ہی کافی ہیں،تب ہی وہ اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔

بعدازمرگ تمغہ جات اورمقالے لکھنے سےبہتر ہے کہ کسی لکھاری یا فنکار کو زندگی میں اورکچھ نہیں بس سراہا دیں کہ آپ اچھا کام کررہے ہیں،یہی بات اُسے تامرگ خوشی دیتی رہے گی۔

جو ہاتھ میں ہو،اُس پر راضی ہوجائیں، آپ کی زندگی خوشگوار اور پرسکون ہو جائے گی۔

دعوی کرنا اور عمل کرنا بے حد مشکل ہے۔

جب آپ ٹھان لیتے ہیں کہ کچھ کرنا ہے توپھر آپ کچھ نہیں دیکھتے ہیں۔بس اپنی منزل کی جانب بڑھتے جاتے ہیں۔

اگر آپ کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جو آپ کو آگے بڑھنے یا کچھ حاصل کرنے میں مدد دے تو اپنے احباب میں تذکرہ کریں تاکہ آپ مشکلات سے ڈر کر بیٹھ نہ جائیں بلکہ یہ سوچ کر کچھ کرتے رہیں کہ آپ رکے تو لوگوں نے آپ کو طعنے دینے ہیں کہ کچھ کرنہیں سکے۔

جو چاہیے، وہ کوشش کرکے حاصل کیجئے۔

کامیاب ہونے کے لئے اگر کامیاب افراد سے تعلق رکھا جائے تو بھی کامیابی تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔

خوف زدہ انسان کبھی کامیا ب نہیں ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جو آپ کو آگے بڑھنے یا کچھ حاصل کرنے میں مدد دے تو اپنے احباب میں تذکرہ کریں تاکہ آپ مشکلات سے ڈر کر بیٹھ نہ جائیں بلکہ یہ سوچ کر کچھ کرتے رہیں کہ آپ رکے تو لوگوں نے آپ کو طعنے دینے ہیں کہ کچھ کرنہیں سکے۔

جب آپ ٹھان لیتے ہیں کہ کچھ کرنا ہے توپھر آپ کچھ نہیں دیکھتے ہیں۔بس اپنی منزل کی جانب بڑھتے جاتے ہیں۔

لوگ آپ پر طنز کرسکتے ہیں۔
ذلیل کر سکتے ہیں۔
بدنام کر سکتے ہیں۔
مگر آپ سے آپ کی صلاحیتیں نہیں چھین سکتے۔
لہذا اپنے اوپر اعتماد رکھیں۔

جب تک پوچھو گے نہیں؟
تب تک سیکھو گے نہیں؟

سوال کرنا ہمیشہ سکھاتا ہے، جواب تو ہر کوئی دے سکتا ہے چاہے وہ جیسا بھی ہو۔

سچ بولنا آسان ترین مگر اُس کے اثرات برداشت کرنا مشکل ترین عمل ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 321 Articles with 270246 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
19 Feb, 2021 Views: 525

Comments

آپ کی رائے