اور پھر کرم ہوگیا

(Ilyas Muhammad Hussain, )

 یہ ایک سچا واقعہ ہے جسے آپ صادق جذبوں کی داستان بھی کہہ سکتے ہیں کافی عرصہ پہلے ایک نجی ٹی وی چینل میں ایک پروگرام عالم آن لائن لگا کرتا تھا اس میں ایک شخص نے اپنی کہانی سنائی تھی آپ بھی پڑھ کر اپنا ایمان تازہ کرلیں اس نے بتایا کہ میرا نام محمد بشیر ہے اس وقت میری عمر 62 سال ہے میں1970 ء گوجرانوالہ گھنٹہ گھر کے پاس چاول کی ریڑھی لگا کر اپنے خاندان کی کفالت کرتا تھا انتہائی غربت تھی اسی دوران شادی ہوگئی اﷲ تعالیٰ نے مجھے دو بیٹیاں عطا کیں . اپنی حیثیت کے مطابق ان کی تعلیم و تربیت کی جب دونوں بچیاں جوان ہوئیں تو ان کی شادی کی فکر ہوئی ہم دونوں میاں بیوی سوچ میں گم رہتے کہ ان کے ہاتھ کیسے پیلے کریں کیونکہ لیکن میرے حالات ایسے نہیں تھے کہ ان کی شادی کر سکتا گھرکا گذربسر بڑی مشکل سے ہوتا تھا گھنٹہ گھر کے پاس ہی ایک صاحب کی کپڑے کی دوکان تھی۔ 2008 کی بات ہے۔ وہ میرے پاس آئے اور کہا بشیر صاحب! مجھے اپنے دونوں بیٹوں کے لئے آپ کی بیٹیوں کا رشتہ چاہیے۔ میرے لیے حیرت کی بات تھی مجھ غریب پر یہ کرم کیسے ہوگیا؟ خیر! گھر جا کر بیوی سے مشورہ کر کے ہم نے ہاں کر دی۔ اندیشوں،وسوسوں،یقین بے بقینی کے عالم میں نہ جانے ایک سال کیسے گزر گیا۔ لڑکے شادی کا تقاضہ کرنے لگے میری آنکھوں میں آنسو آگئے گھر آکر میں اپنی غریبی اور بے بسی پر خوب رویا کہ میرے پاس 10,000 روپے بھی نہیں تھے کہ میں بچیوں کو رخصت کر سکتا۔ بیوی کہنے لگی۔ آپ پر بھروسہ رکھیں اﷲ کوئی سبیل ضرورپیداکردے گا آپ شادی کا دن طے کر دیں۔ ہم نے تاریخ طے کر دی۔ 25 نومبر 2009ء۔ شادی کو 7 دن رہ گئے تھے۔ میں پریشان، اب کیا ہوگا؟ شادی کیسے ہوگی؟ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ مجھے اچھی طرح یادہے مغرب کا وقت تھا۔ انہیں سوچوں میں غرق صحن میں بیٹھا تھا کہ دروازے پر کسی نے دستک دی۔ میں اٹھ کر باہر گیا۔ دروازہ کھولا۔ سامنے ایک باریش نوجوان کھڑا تھا جو شکل صورت سے کسی کھاتے پیتے گھرانے کا فرد معلوم ہوتا تھا جسے آج سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں نے پوچھا آپ کون۔؟
نوجوان بولا۔ کیا بشیر صاحب کا گھر یہی ہے جو چاول کی ریڑھی لگاتے ہیں؟
جی! میں ہی بشیر ہوں۔ میں نے جواب دیا۔
کیا ہم اندر بیٹھ کر تھوڑی دیر بات کر سکتے ہیں؟
میں اسے گھر کے صحن میں لے آیا بیٹھنے کی کوئی معقول چیزنہیں تھی۔ میں سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ بولا، میں کراچی سے آیا ہوں۔ دو دن سے آپ کو تلاش کر رہا ہوں۔ مجھے بتائیں، آپ ایسا کیا عمل کرتے ہیں کہ مجھے وہاں 'مدینہ طیبہ' سے حکم ملا ہے۔ گوجرانوالہ جاؤ۔ ہمارے غلام کی مدد کرو۔ اس کی بیٹیوں کی شادی ہے۔ یہ سن کر میری چینخ نکل گئی۔ میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگاعرض کی۔ بیٹا! میں تو بہت گنہگار ہوں۔ ہاں! پچھلے 45 سال سے بلا ناغہ سرکار ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام پڑھا کرتا ہوں اور تو کوئی نیکی میری دامن میں نہیں۔ وہ نوجوان بھی رونے لگا پھر اٹھ کر مجھے گلے لگالیا اور دیوانہ وار میرے ہاتھ اور سرکو چومنے لگ گیا میں حیران پریشان سوچ میں گم تھا کہ نہ جانے اس نوواردکو کیا ہوگیاہے۔ بولا، جن پر آپ درود پڑھتے ہیں، انہوں نے ہی مجھے بھیجا ہے۔ اس کے ہاتھ میں بریف کیس تھا۔ وہ دیکر مجھے گلے سے لگالیا۔ میں نے اس کا نام پتہ پوچھا اس نے کہا میں کچھ نہیں بتا سکتا البتہ ایک التجاہے میرے حق میں ضرور دعا کیجئے مجھے مل کر رخصت ہوگیا۔ میں نہیں جانتا، وہ کون تھا؟ کہاں سے آیا تھا؟بعد میں بریف کیس کھول کر دیکھا۔ اس میں تیس 30 لاکھ روپے تھے اور ایک خط کہ آپ بچیوں کی شادی کریں۔ یہ مدد وہاں سے آئی ہے جنہیں آپ روز یاد کرتے ہیں یہ سن کر میری ہچکی بندھ گئی یہ کرم ،یہ بندہ نوازی تو میری سوچ اور اوقات سے بھی بڑھ کر تھی میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا میں اتنا خوش بخت بھی ہو سکتاہوں کہ سرکار ﷺ میر داد رسی فرمائیں گے یہ تو زندہ معجزہ تھا دل نے کہا جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے نبی پاک ﷺ کو اپنے غلاموں کی خبر نہیں وہ کس قدر غلطی پر ہیں کاش ان کی سوچ مثبت ہوجائے کہ نبی ٔ اکرم ﷺ کا فیض و برکات آج بھی جاری ہیں۔ میں نے بچیوں کی شادیاں بھی کیں۔ پھر حج بیت اﷲ کی سعادت بھی حاصل کی۔ مدینہ شریف سنہری جالیوں کے سامنے میرے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے ایک معمولی انسان پر اتنا کرم میں اﷲ اور اس کے حبیب ﷺ کا جتنبھی شکراداکروں کم ہے اور آج الحمداﷲ میرا کاروبار بھی بہت اچھا ہے یہ سب درود پاک کی فضیلت کا ثمر ہے اﷲ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں ارشاد فرمایا *''بے شک اﷲ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجو۔ میری تمام مسلمان بہن بھائیوں سے لیک ہی درخواست ہے کہ وہ درودشریف پڑھنا اپنا معمول بنا لیں آپ پر بھی کرم ہوجائے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Muhammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Muhammad Hussain: 321 Articles with 118199 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Feb, 2021 Views: 767

Comments

آپ کی رائے