محبت کسے کہتے ہیں؟

(Rahmatullah Sheikh, )

حقوقِ نسواں ، حقوقِ انسانیت اور پیار و محبت جیسے نعرے سننے میں تو خوبصورت لگتے ہیں لیکن اس قسم کے نعروں کے پیچھے باطل کے کچھ اور ہی مقاصد ہوتے ہیں۔ ایک عرصے سے پرفریب نعروں اور مخصوص ایام کا سہارا لے کر معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے مخصوص ایام میں ویلنٹائن ڈے بھی شامل ہے۔ محبت کے نام پر پوری دنیا میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کے لیے اس دن کا سہارا لیاجاتا ہے۔ قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے مسلمان بھی اس غیر اسلامی تہوار کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں اور محبت جیسے پاکیزہ نام کا سہارا لے کر فحش کاری اور فسق و فجور کی ترویج کرتے نظر آتے ہیں۔ محبت کے نام پر ویلنٹائن ڈے منانے سے پہلے محبت کا مفہوم سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

محبت ایک پاکیزہ نام ہے جو اسلام جیسے پاکیزہ مذہب کو ہی جچتا ہے۔ اسلام ایک مکمل دین کا نام ہے۔ اس دین کی تعلیمات اس قدر کافی شافی ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے دین کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ایک مسلمان ہونے کی ناطے ہمیں دل و جان سے یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں میں ہے۔ اسلام محبت کرنے کی ہرگز مخالفت نہیں کرتا البتہ محبت کے نام پر بے حیائی کے فروغ سے ضرور روکتا ہے۔محبت کے نام پر نامحرم مر دو زن کا آپس میں ملنا، باتیں کرنا اور گھومنا پھرنا اسلامی نقطۂ نظر سے جائز نہیں۔ اسلام ایسی محبت کی اجازت دیتا ہے جو پاکیزہ ہو اور ذاتی مفادات سے پاک ہو۔

محبت کی مثال دیکھنی ہو تو آپﷺ کی امت سے محبت دیکھ لیں ۔ روزِ قیامت جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ باپ بیٹا ایک دوسرے سے بھاگیں گے۔ ماں جیسی عظیم ہستی اولاد سے منہ پھیر لے گی۔ یہاں تک کہ انبیاء علیھم السلام بھی نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے۔ ایسے وقت میں آقائے نامدارﷺ کو اپنی امت کی فکر لاحق ہوگی۔ ایسے عالم میں بھی آپﷺ امتی امتی پکار رہے ہوں گے اور بارگاہِ ایزدی میں اپنی امت کی سفارش کررہے ہوں گے۔

آپﷺ کی امت پر شفقت و رحمت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہہر نبی کے لیے ایک مخصوص دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اس دعا کو روزِ قیامت اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا کر رکھا ہے۔ اس سے بڑھ کر محبت اور شفقت کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔

محبت ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے جس میں بے حیائی اور اخلاق باختگی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ حقیقی محبت وہی ہے جو بندے کو اپنے خالق کے قریب کرے۔ محبت تو اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہیے جس کی محبت دلوں میں سکون و اطمینان پیدا کرتی ہے۔ محبت تو آپﷺ سے ہونی چاہیے جو ہمیشہ امت کے لیے فکرمند رہتے تھے۔ محبت تو صحابہ کرام اور سلف صالحین سے ہونی چاہیے جن کی بے شمار قربانیوں کی بدولت ہمیں اسلام جیسی عظیم نعمت ملی۔ محبت تو علماء اور صلحاء سے ہونی چاہیے جن کی صحبت انسان کو انسان بنادیتی ہے۔ محبت کے حقدار تو والدین ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ ہم پر قربان کردیا۔ محبت کے حقدار وہ تمام حلال رشتے ہیں جن سے محبت کرنا عبادت ہے۔ یہی حقیقی محبت ہے۔ باقی سب محبت کے نام پر دھوکا ہے۔ محبت کے نام پر نامحرم مرد و زن کا آپس میں اختلاط، گھومنا پھرنا اور ویلنٹائن ڈےجیسے ایام پر ایک دوسرے کو تحائف دینا شرعًا اور اخلاقًا درست نہیں۔ کوئی باحیا اور سلیم الطبع شخص ایسے قبیح اور نامناسب افعال کی قطعًا اجازت نہیں دے سکتا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rahmatullah Sheikh

Read More Articles by Rahmatullah Sheikh: 30 Articles with 18791 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Feb, 2021 Views: 934

Comments

آپ کی رائے