میری دنیا

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: طارق جاوید سیال
میرا آج کا موضوع کھیل ہیں۔ کیوں کہ میرا کھیلوں سے بہت پرانا اور گہرا تعلق ہے ، میرے ارد گرد کھیلوں کے حوالے سے بہت سی چیزیں ہیں جو کہتی ہیں مجھے دیکھو، پرکھو اور مجھ پر لکھو،اور میں ہمیشہ کہتا تھا جو میں سالوں سے دیکھ رہا ہوں،محسوس کررہا ہوں جب باری آئے گی تم کو ایک کالم کی شکل ضرور دوں گا، مگر اطمینان سے۔

میں کھیلوں کے بہت قریب رہا ہوں، ہوش سنبھالتے ہی پتا چلا کہ والد محترم ایک ریسلر ہیں وہ نماز فجر کے بعد اپنے اکھاڑے میں اپنی ٹرینینگ کے سلسلے میں جاتے تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ میرا بیٹا ایک پروفیشنل ریسلر بنے۔لیکن ایسا نہ ہوسکا کیونکہ میں کرکٹ کی جانب راغب ہو گیا تھا۔ بابا نے جب میری رغبت دوسرے سپورٹس کی جانب دیکھی تو اپنے من میں چھپائی میرے ایک پہلوان بننے کی خواہش بھی مٹا ڈالی۔

وقت اور حالات کی ستم ظریفیاں ان کے دل میں ناسور پالتی رہیں اور پھر ایک دن ان کے دل کو ساکن کر گئیں اور مجھے وہ جوانی میں قدم رکھنے سے پہلے چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔تب میں کرکٹ کو سمجھ رہا تھا، لیکن کھیلنے کا مکمل ڈھنگ آ گیا تھا۔خاندانی ذمہ داری کو صدق دل سے قبول کیا اور چھوٹی موٹی محنت اور نوکریوں سے اپنے فرائض منصبی کو انجام دیتا رہا۔

اپنے خوابوں اور خواہشات کو اپنے ہی پیروں تلے روندتا ہوا آگے کی جانب دیکھتا ہوا گزر گیا،پندرہ سال کے بعد اپنی تعلیم(ماسٹر ان سپورٹس سائنسز & ماسٹر ان ہسٹری) مکمل کی اور پھر اپنا ایک چھوٹا سا کھیلوں کے سامان کا کاروبار شروع کیا۔یعنی جہاں سے میرا خمیر نکلا تھا پھر سے میں وہیں آن بسا۔آج میرا اوڑھنا بچھونا اور خاندانی کفالت اسی کھیلوں کے کاروبار سے وابستہ ہے۔۔

دکان پر بیٹھتا ہوں، سپورٹس سے وابستہ کسٹمر آتے ہیں، بہت سی باتیں ہوتی ہیں،بہت ساری چیزیں ایک دوسرے کو دھکیلتی ہوئی بالکل اس طرح جیسے لوگ بس میں سوار ہوتے ہیں میری طرف بڑھتی ہیں اور میرے دماغ پر سوار ہوتی جاتی ہیں۔ تیز و تند لہجے، کھیلوں میں پلتی منافقت، غیر سنجیدہ اور خود پرست لوگوں کی بالا دستی کو دیکھتا ہوں تو تڑپ جاتا ہوں، کبھی کبھار تو بہت مایوس ہوتا ہوں تو کبھی معاف کر دیتا ہوں جیسے بس کنڈیکٹر نئی سواریوں کے آتے ہی پچھلی سواریوں کے مسائل اور چھبتی باتوں کو بھول جاتا ہے۔

میرا بھی کچھ یہی حال ہوتا ہے۔میرا علاقہ پہلے سے ہی پسماندہ ہے اور کھیلوں کی کوئی خاطر خواہ سہولیات نہیں ہیں اور سونے پر سہاگا غیر سنجیدہ اور ان پروفیشنل لوگ کا ان سرگرمیوں میں گھس جانا تباہ کن ہے،کھیلوں میں آئے روز بدلتے بگڑتے رویے، شخصیت پسندی، انا، ہٹ دھرمی اور لوگوں کی میں، میں کو دیکھتا ہوں، محسوس کرتا ہوں تو دل اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بے لوث ہیں بغیر کسی غرض،لالچ مطلب کے کھیلوں کے فروغ پر بے انتہا اور مثبت کام کررہے ہیں، کھیلوں میں محبت اور بھائی چارہ کو پروان چڑھانے میں اپنا جاندار اور مثبت کردار ادا کررہے ہیں، اپنا قیمتی وقت اور مال خرچ کررہے ہیں، یہ لوگ نوجوان نسل کے لئے رول ماڈل ہیں، ایک نئی نسل ایک اچھا سبق حاصل کر کے آنے والے دنوں کھیلوں کو مزید بہتر بنانے میں کار آمد ثابت ہونے میں پیش پیش ہوگی۔

کچھ اچھا ہوتے وقت جب میری آنکھیں دیکھتی ہیں کان سنتے ہیں، تو میرا دماغ ان سب کو اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیتا ہے اور پھر میرا قلم کاغذ پر اور میرے انگوٹھے اور انگلیاں ان احساسات کو لفظوں کا لبادہ دے سوشل میڈیا پر اگل دیتی ہیں۔۔جو اچھا دیکھتا ہوں، سنتا ہوں وہی لوٹا دیتا ہوں۔

جیسے کھیل کا میدان، کھلاڑی اچھا کھلاڑی، اچھا کھلاڑی کے ساتھ بہترین اسپورٹس مین، بڑا کھلاڑی، چھوٹا کھلاڑی، وہ لالچی،وہ ایسا، وہ مطلبی، یہ خود غرض، میچ کی منصوبہ بندیاں، ایسا ہوتا تو ویسے ہو جاتا، فلاں ایسے کرتا تو یہ نتیجہ برآمد ہوتا، کھلاڑیوں کے پویلین سے لے کر ایمپائر کی پوزیشن تک اور گھر سے لے دکان تک اور پھر کھیلوں کی بات چیت تک۔۔

غرض جدھر جدھر جاتا ہوں مجھے کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے،کچھ ہماری سپورٹس کمیونٹی کی حماقتیں اور کچھ اپنی، اور کبھی کبھی میں ان دونوں کو ایسے ملا دیتا ہوں جیسے دودھ میں پانی مل جاتا ہے۔ جیسے میں اب تک لکھ چکا ہوں وہ ایک کالم کا رنگ ہے۔ یعنی ذہنی تخلیق۔۔میرا ذہن جو کچھ سوچتا اور سمجھتا ہے، آنکھیں دیکھتی ہیں کان سنتے ہیں وہی ایک خاکہ بنا لیتا ہوں۔

یہ ساری چیزیں مجھے سپورٹس سوسائٹی میں کچھ مصنوعی فرنٹ مین بنے لیڈروں کے بیان، خود کے علاوہ سبھی بڑے جیسے تعصب میں لتھڑے متضاد بیانات اور ان کی دلچسپ منافقت۔۔غرض یہ چیونٹی سے لے کر ہاتھی تک اور گدھے ریڑھے سے جہاز تک میری دنیا ہے۔۔میں کھیلوں کے فروغ اور بہتری کے لیے جو بھی لکھتا ہوں وہ کافی دن میرے ذہن رہتے وہ لہجے،رویے اور قول و فعل کے تضاد کے وار ہوتے ہیں جو میں سہتا ہوں۔کھیلوں میں سرایت بے انتہا منافقت اور مفاد پرستی کو دیکھتا ہوں تو ایسی چیزیں میرے ذہن میں ہفتوں تک گردش کرتی رہتی ہیں۔اور جب میں کسی نتیجے پر پہنچتا ہوں تو سب لکھنے پر مجھے میرا من اکساتا ہے۔۔

سالوں سے اسی کوشش میں ہوں کہ ہو سکتا ہے میرے لکھنے سے اگر کھیلوں کی دنیا میں تھوڑا سا بھی مثبت ردعمل ظاہر ہوا تو میں سمجھوں گا کہ میں اپنی کوشش میں کامیاب و کامران رہا۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ کھیلوں میں اجارہ داری بنائے کچھ لوگوں کو اپنا نقطہ نظر ہمیشہ ٹھیک لگتا ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے علاوہ سپورٹس میں بیٹھے لوگ جو کھیلوں کو فروغ دینا چاہ رہے ہیں سبھی بے وقوف ہیں سوائے ان کے۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520170 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Feb, 2021 Views: 118

Comments

آپ کی رائے