عصرِ حاضر، نقائصِ امن اور میڈیا کا کردار

(Sheeraz Khan, )

تعلیم برائے امن کے سب سے بڑے استاد و ماہر جان گلیٹن کا کہنا ہے کہ امن ایک رشتہ ہے جو کہ اشخاص، فریقین، ریاستوں، قوموں،خطوں اور تہذیبوں کے درمیان تعلق سے قائم ہوتا ہے۔ یہ بات تو واضع ہے کہ ان میں سے کسی بھی درجے کے تعلقات کے قیام کے دوران مفادات، نقصانات، سوچ، معاشرت اور مذاہب کے اختلافات آڑے آتے ہیں یہیں سے ان تعلقات میں نقص امن کے خدشات پیدا ہوتے ہیں اور یہ ہی خدشات آگے چل کر تنازعات کا باعث بنتے ہیں۔

اب یہاں ضرورت پیش آتی ہے کسی ادارے کی جو کہ ان تنازعات کی تصویرکشی کرنے کے ساتھ ہی ان کا درست حل تلاش کرنے میں مدد فراہم کر سکیں ریاستی اور بین الاقوامی میدان میں عدالتی نظام اس مسئلے کا احاطہ کرتے ہیں، یا پھر بین الاقوامی طور پہ ادارے موجود ہیں جیسا کہ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی وغیرہ پر بہت سے مقامات و عواقب میں ان کی فعالیت اور غیر جانب داری پر سوالیہ نشانات اٹھتے ہیں ۔

قومیں یا تہذیبیں دراصل لوگوں کے گروہی تعلق پر انحصار کرتی ہیں جنہیں عوام کہا جاتا ہے پر عوام کے شعور یا رہنمائی کی جب بات کی جائے تو بہت سارے معاملات میں ان کی شرکت کا پیمانہ انتہائی محدود ہوتا ہے اور جہاں تک بات ہے جاننے کی تو یہ فقط اتنا جانتے ہیں جتنا ان کے سرکردہ انہیں بتاتے ہیں مثال کے طور پہ برِ صغیر کی تقسیم کے دوران اور آج کے وقت کی ان علاقوں میں موجود سکھ برادری کی لے لیتے ہیں جو قوم ایک دور میں مسلمانوں کی جان، مال اور عزتوں کء پامالی کا سبب بنی تھی آج کچھ بہترین فیصلوں اور ان کی افادیت کو درست طریقے سے پیش کرنے کی وجہ سے وہی سکھ برادری آج اس خطے میں آباد مسلمانوں کی مشکور و ممنون ہے اور مسلمان بھی پرانی باتوں کو بھلا کر امن و آشتی کے ایک نئے تعلق سے وابستہ ہو گئے اس میں حکومتی فیصلوں کا عمل دخل اپنی جگہ مگر اصل بات جذبات اور امنگوں کی ترجمانی کی ہے یہ بتانے کی ہے کہ ہم آپ کی امنگوں اور جذبات کو سمجھتے ہیں ان کا احساس کرتے ہیں اور ان کی تسکین کا عملی سامان بھی کرتے ہیں اس میں کردار فقط ایک ادارے کا ہے جی ہاں میڈیا یہ تمام عمل اقدام کے بعد میڈیا کے کردار ادا کرنے کا مرہونِ منت ہوتا ہے میڈیا جس انداز میں ان معاملات کو پیش کرتا ہے لوگ اس ہی سوچ کے پیروکار بنتے ہیں یہ رائے عامہ کو بنانے میں سب سے کلیدی کردار ادا کرنے والا ادارہ ہے۔ اب اس بات کو ہم گذشتہ ادوار سے نتھی کر کے دیکھتے ہیں کہ آیا ماضی قریب میں میڈیا اپنے اس کردار کو ادا کرنے میں کامیاب رہا ہے؟

گذشتہ صدی کا اگر ان معنوں میں جائزہ لیا جائے تو اس دور میں میڈیا کو پروپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا گیا جنگ عظیم اول و دوئم سے ہوتے ہوئے ویت نام ، کیوبا ، افغانستان، عراق اور شام تک کی حالیہ جنگوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں میڈیا کے رویے میں واضع فرق نظر آئے گا، پچھلے دور میں فقط اپنے قومی افکار و نظریات اور مفادات کی عینک لگا میڈیا تھا اس کی بڑی وجہ میڈیا کا محدود ہونا تھا اس وقت فقط اخبارات ہی ایک ایسا ذریعہ تھا جو کہ ایک حد تک صحافت کی اصل روح کا واحد علمبردار تھا، گو کہ ریڈیو کا اثر اس سے زیادہ تھا مگر ایک نیا ذریعہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر حکومتی کنٹرول کی حدود آڑے آ ہی جاتی تھیں، اخبارات کو بھی ان مسائل کا سامنا تھا مگر ایک پرانا ذریعہ ہونے کی وجہ سے اس میں کہیں نہ کہیں گنجائش نکل ہی آتی تھی، مگر یہ کافی نہیں ہوتی تھیں۔

کسی بھی باہمی تنازع کی صورت میں عوام کو زیادہ تر احمقوں کی جنت میں ہی رکھا جاتا تھا اس کی ایک بڑی مثال ہمارے اپنے ملک کی ہے 16 دسمبر 1971 سے پہلے ہمارے ملک کا میڈیا جو کردار ادا کرتا رہا یا اس کو جو کردار ادا کرنا تھا اس کے نہ کرنے کا خمیازہ ایک ہی ملک کے دو حصوں میں نفرتیں پیدا کرنے کا سبب بنا اور آخر کار ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے،ملک دولخت ہونے کی اصل وجہ اس غلط تصویر کا دکھانا تھا جو کے اس وقت کے کرتا دھرتا دکھانا چاہ رہے تھے اور یہ تصویر ایک طویل عرصے تک جوں کی توں پیش کی گئی اور آج کے دور کی صحافت بھی مکمل طور سے اس تصویر کو پیش کرنے سے قاصر ہے وجہ فقط اتنی سی ہے کہ اس دور کے چند ہیروز زیرو نہ ہو جائیں ۔ لیکن موجودہ صحافت نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ہے اور کسی نہ کسی حد تک عوام کو ڈھکے چھپے الفاظ میں ہی صحیح شعور دینے کی کوشش ضرور کی ہے۔

قومی مفادات صحافت کا راستہ روکتے ضرور ہیں اور کسی حد تک ان کا خیال رکھناضروری بھی ہے، ابھی تازہ مثال دیکھیں تو ابھی چند دنوں پہلے جاری آرمینیا اور آذر بائی جان کی جنگ میں ترکی اور فرانس کا میڈیا ایک ہی واقع کو انتہائی مختلف انداز میں پیش کر رہے دونوں کے اپنے اپنے تجارتی اور معاشرتی مفادات تھے جن کی بناء پر وہ اپنے نظریات کی عینک سے حالات کی منظر بینی کرتے رہے اور یقین جانیے کہ مجھے بھی اپنی مذہبی نظریات کی عینک لگانی پڑی ایک رائے کو قائم کرنے کے لئے، مگر اصل صحافت حق اور امن کی علمبردار ہوتی ہے بقول اقبال
نا حق کے لئے اٹھے تو شمشیربھی فتنہ شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

صحافت کا کام نفرتیں مٹانا ہے پیدا کرنا نہیں۔
اپنے قیام سے ہی پاکستان اور ہندوستان ایک دوسرے سے مختلف معاملات و وجوہات کی بناء پر تنازعات کا شکار رہے ہیں اور ان تنازعات کی وجہ سے کئی مرتبہ ایک دوسرے سے جنگ کر چکے ہیں لیکن پھر بھی مسائل جوں کے توں ہی رہے حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر امن کی کوششیں فقط اپنے اپنے عوام کو طفل تسلی سے زیادہ نہیں تھیں اور کبھی بھی کوئی سنجیدہ کوشش دونوں اطراف سے نہ کیں جا سکیں لیکن یہاں بھی صحافت نے بارش کے پہلے قطرے کا کام کیا اور بہت عرصے تک اس امن کی بارش کو برساتے رہے، سن دو ہزار دس میں ٹائمز آف انڈیا اور جنگ گروپ آف پبلیکیشن کے اشتراک سے امن کی آشا نام کے ایک پروجیکٹ کو شروع کیا گیا جس کے ذریعے دونوں اطراف کے لوگوں کے مابین ادبی، ثقافتی، معاشرتی، صحافتی تعلقات کو فروغ دیا گیا، یہ طریقہ انتہائی کار آمد ہوا جس کے ذریعے دونوں ممالک کے لوگ واقعی قریب آئے خاص کر ثقافتی میدان میں تو اس نے واقعی انقلابی اثر ڈالا مگر دونوں اطراف کے کچھ فشاری گروہوں کی پہ در پہ مداخلت آڑے آئی اور آخر کار اس پروجیکٹ کا اختتام ہوا، اس کے علاوہ کامیڈی انفوٹینمنٹ شو حسب حال سے شہرت پانے وا لے اور بعد ازاں خبرناک نامی انفوٹینمنٹ پروگرام کے بانی صحافی آفتاب اقبال بھی اپنے پروگرامز میں بارہا ان دونوں ممالک کی دوستی کا پرچار کرتے رہتے ہیں ان کے پروگرام کے ناظرین دونوں اطراف ہیں اور ان کی کاوشوں سے بھی لوگوں کے درمیان نفرتیں مٹی ہیں اور امن کا دروازہ کھلا ہے۔

ریاست کی سطح پر بھی آج کے دور میں صحافت کا امن کے قیام کے لئے کردار ہے، ہمارے ملک میں لوگوں کو اپنے مفادات کے لئے مختلف شخصیات اور گروہ استعمال کرتے ہیں، اور پچھلے ادوار میں صحافت بھی ان لوگوں کے ہاتھوں حد درجے استعمال ہوئی کہیں کہیں سے کوئی نعرہ مستانہ گونج جاتا تو وہ بھی کسی نہ کسی طریقے سے دبا دیا جاتاحبیب جالب اور فیض کی مثال ہمارے سامنے ہیں مگر آج کے دور میں میڈیا کمزور نہیں ہے چاہے حکمران ہوں یا کوئی اور طاقت اب ایک نڈر اور بے باک صحافی کھل کے اپنا نظریہ اس کے خلاف پیش کر سکتا ہے کہیں کہیں ہم دیکھتے ہیں کے کچھ مقدس گائے بنے لوگ اور اداروں کے خلاف یہ ذرا ہلکا ہاتھ رکھتے ہیں مگر وہ ہلکا ہاتھ ہی ان اداروں کی صفوں کو ہلا دیتا ہے، ورنہ پاکستان وہ ملک ہے جو کہ ماضی میں جمہوری حکومتوں کا قبرستان کہلاتا تھا مگر سن 2000 کے میڈیا کے انقلاب کے بعد اس ہی ملک میں جمہوری حکومتیں باقاعدہ اپنی مدت پوری کرنے لگ گئی ہیں کوئی مانے یا نہ مانے یہ میڈیا کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

یہ سب ہو تو رہا ہے مگر انتہائی سست رفتاری سے مگر ابتداء میں مشکلات آتی ہی ہیں اس لئے امن کے لئے میڈیا کی کوششیں رنگ لائیں ہیں اب شہر کراچی کے لوگ بات بات پر مرنے مارنے پر نہیں تل جاتے، فقہی اختلافات کے باوجود اب دوسرے کو سر عام کافر اور واجب القتل قرار دینے کے واقعات میں مثبت فرق نظر آیا ہے، یہ میڈیا کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے ضرورت فقط اس امر کی ہے کہ یہ سفر چلتا رہے اور اس کی رفتار میں اضافہ ہوتا رہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sheeraz Khan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Feb, 2021 Views: 106

Comments

آپ کی رائے