21 فروری عالمی یوم مادری زبان!

(Abid Hashmi, Azad Kashmir)

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی انسانی ثقافتی میراث کے تحفظ کی جنرل کانفرنس کے دوران 17نومبر1999ء میں عام اسمبلی میں زبان کے تحت یہ فیصلہ کیاگیا کہ عالمی مادری زبان کا ایک دِن ہونا چاہئے۔بحث و مباحثے کے بعد 21فروری کا دن منتخب ہوا۔جسے یونیسکو کی انسانی ثقافتی میراث کے تحفظ کی جنرل کانفرنس کے اعلامیہ میں جاری کیا گیا۔اس کے بعد 21فروری 2000 ء سے بین الاقوامی یوم ِمادری زبان منانے کا سلسلہ جاری ہے۔جہاں دُنیا کے ہر اہل ِزبان اپنی اپنی زبان کے مطابق مناتے آرہے ہیں۔

مادری زبان کسی بھی انسان کی شخصیت کی تعمیر‘ تعلیم اور ہمہ جہت ترقی میں بنیادی کردارادا کرتی ہے۔ مادری زبان ایک امانت ہے جونسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ زبان فکر و خیال یا جذبے کے اظہار و ابلاغ کا ذریعہ ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ لفظوں اور فقروں کے توسط سے انسانوں کے ذہنی مفہوم و دلائل اور ان کے عام خیالات کی ترجمانی کرے۔ Oliver Wendell Holmesکے مطابق:
[English”Language is the blood of the soul into which thoughts run and out of which they grow.”/Englishزبان ایک ایسا سماجی عطیہ ہے جو زمانے کے ساتھ ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتاہے۔ زبان انسان کی تمام پہلی‘ موجودہ نسلوں کا ایک قیمتی سرمایہ اور اہم میراث ہے۔ زبان ایک ایسے لباس ہے‘ جسے اُتار کر پھینکا نہیں جا سکتا۔ زبان تو انسان کے دل کی گہرائیوں میں اتری ہوئی ہوتی ہے۔ یہ خیالات کی حامل اور آئینہ دار ہی نہیں ہوتی بلکہ زبان کے بغیر خیالات کا وجود ممکن نہیں۔ کہتے ہیں کہ کوئی ایسا خیال کہ جس کے لیے کوئی لفظ نہ ہو دماغ میں نہیں آسکتا۔ شاید اسی لیے یونانی زبان کا ترجمہ کرتے ہوئے انسان کو حیوانِ ناطق کہا گیا۔ حیوانِ ناطق سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ انسان بول سکتا ہے‘ بولتے تو سب جانور ہیں۔ اس سے مراد ہے کہ انسان سوچ سمجھ کر بول سکتا ہے۔ لارڈ ٹینی سن (Lord Tennyson) نے کہا تھا کہ:English]”Words like nature, half reveal‘And half conceal the should within”/English

زبان انسانی زندگی کا اہم جُز ہے۔ مقامی یا مادری زبانوں کو انسان کی دوسری جلد (Second Skin) بھی کہا جاتا ہے۔ مادری زبانوں کے ہر ہر لفظ اور جملے میں قومی روایات‘ تہذیب و تمدن‘ ذہنی و روحانی تجربے پیوست ہوتے ہیں‘ اسی لیے انہیں ہمارے مادی اور ثقافتی ورثے کی بقا اور اس کے فروغ کا سب سے موثر آلہ سمجھا جاتا ہے۔

Berton کی کہاوت ہے کہ”Help brezhoneg, breizhebat’یعنی (without Breton, there is no Brittany)“برٹن زبان کے بغیر برٹنی بھی نہیں ہے۔“ بلاشبہ مادری زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے‘ اسی لیے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ اقتصادی‘ سماجی اور ثقافتی حقوق پر بین الاقوامی معاہدے کے مشمولات کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم‘ سائنس اور ثقافت کی قراردادوں کی صورت میں اس حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ قومیتی شناخت اور بیش قیمت تہذیبی و ثقافتی میراث کے طور پر مادری زبانوں کی حیثیت مسلّمہ ہے۔

پاکستان‘ ہندوستان‘ امریکہ‘ افریقہ‘ چین‘روس‘ فرانس‘جرمنی‘ ایران‘ اٹلی و دیگر ممالک کی اقوام کی اپنی علیحدہ زبانیں ہیں جو کہ اقوام کے افراد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی طرح ہر ملک کی ایک قومی زبان ہوتی ہے جس سے ہر ملک کے افراد کی نشاندہی ہوتی ہے پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے جسے 48 فیصد افراد بولتے ہیں جبکہ 12 فیصد سندھی‘ 10 فیصد سرائیکی‘ انگریزی‘ اُردو‘ پشتو 8 فیصد‘ بلوچی 3 فیصد‘ہندکو 2 فیصد اور ایک فیصد براہوی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔


آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 516 ناپید ہو چکی ہیں۔دُنیا میں سب سے زیادہ زبانیں پاپوانیوگنی میں بولی جاتی ہیں جہاں کل زبانوں کا 12 فیصد یعنی 860 زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ 742 زبانوں کے ساتھ انڈونیشیاء دوسرے‘ 516 کے ساتھ نائیجیریا تیسرے، 425 کے ساتھ بھارت چوتھے اور 311 کے ساتھ امریکا پانچویں نمبر پر ہے۔ آسٹریلیا میں 275 اور چین میں 241 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق دُنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان چینی ہے جسے 87 کروڑ 30 لاکھ افراد بولتے ہیں جبکہ 37 کروڑ ہندی‘35 کروڑ ہسپانوی‘34 کروڑ انگریزی اور 20 کروڑ افراد عربی بولتے ہیں۔ پنجابی 11 اور اردو بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے۔ مادری زبانوں کے فروغ اور تحفظ کی تمام کوششیں نہ صرف لسانی رنگا رنگی اور کثیر اللسانی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں‘ بلکہ یہ د’نیا بھر میں پائی جانے والی لسانی اور ثقافتی روایات کے بارے میں بہتر آگہی بھی پیدا کرتی ہیں اور عالمی برادری میں افہام و تفہیم‘ رواداری اور مکالمے کی روایات کی بنیاد بنتی ہے۔

کرہ ارض پر انسان5700سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں مگر ان مادری اور مقامی زبانوں کو چند زبانوں کے وائرس سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ خاص طور پر انگریزی دُنیا کی ہزاروں مقامی زبانوں کو نگل گئی ہے اور ابھی بھی اس کی زبان خوری ختم نہیں ہوئی۔ چند اقوام اور طبقات کی لسانی دہشت گردی سے زبانیں محبت و اخوت کے بجائے نفرت و تقسیم کا موجب بننے لگی ہیں۔ اس سے عالمگیریت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔29فروری 1956ء کو بنگالی کو سرکاری سطح پر پاکستان کی بنیادی ریاستی زبانوں میں سے ایک کا درجہ دے دیا گیا۔ یہی لسانی تحریک بعد ازاں سقوط ڈھاکا کا ایک اہم سبب ثابت ہوئی۔ اسی دن کی یاد میں یونیسکو کے ممبر کی حیثیت سے بنگلہ دیش نے مادری زبانوں کے عالمی دن کی تجویز منظور کروائی۔مادری زبانیں بطور ذریعہاظہار و ابلاغ فرد کی شخصیت کی تشکیل و تکمیل میں موثر کردار ادا کرتی ہیں۔ چیک ری پبلک کے صدر Jan Kavan نے جنرل اسمبلی سے مادری زبانوں کے حوالے سے خطاب میں کہا تھا کہ:[English]”Mother Language is the most powerful instrument of preserving and developing our tangible and intangible heritage.”[/English]

آج کے جدید دور میں مادری زبان میں تعلیم بنیادی انسانی حق ہے۔ دُنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان فہم اور زود اثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔ مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلدی نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں، انہیں ہضم کر لیتے ہیں اور پوچھنے پر بہت روانی سے انہیں دھرا کر سنا دیتے ہیں۔ مادری زبان میں دی جانے والی تعلیم بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ خوشی خوشی تعلیمی ادارے میں بھاگتے ہوئے آتے ہیں اور چھٹی کے بعد اگلے دن کا بے چینی سے انتظارکرتے ہیں۔

معلم کے لیے بھی مادری زبان میں بچوں کو تعلیم دینا بہت آسان ہوتا ہے اور اس کے لیے اسے اضافی محنت نہیں کرنا پڑتی اور مہینوں کا کام دنوں یا ہفتوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ مادری زبان کی تعلیم سے خود زبان کی ترویج و اشاعت میں مدد ملتی ہے‘ زبان کی آبیاری ہوتی ہے‘ نیا خون داخل ہوتا ہے اور پرانا خون جلتا رہتا ہے جس سے صحت مند اثرات اس زبان پر مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی معاشرہ ہمیشہ سے ارتقاء پذیر رہا ہے چنانچہ مادری زبان اگر ذریعہ تعلیم ہو تو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی مادری زبان بھی ارتقاء پذیر رہتی ہے‘نئے نئے محاورے اور روزمرے متعارف ہوتے ہیں‘ نیا ادب تخلیق ہوتا ہے اور استعمال میں آنے والی چیزوں کے نئے نئے نام اس زبان کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو تو قوم کی روایات‘ اس کی تہذیب‘ اس کی تاریخ اور اس کی قومیت غرض سب کچھ مٹ جائے گا۔ بلاشبہ پھولوں کی رنگارنگی گلدستے کا حُسن اور طاقت ہوتی ہے‘ قباحت اور کمزوری نہیں۔

جس قوم کو اپنی کوئی چیز اچھی نہ لگے اور دوسروں کی ہر ادا پر فریفتہ ہو‘ وہ کیا زندہ رہ سکتی ہے۔ قوم بے جان افراد کے مجموعے کا نام نہیں ہوتا‘ بلکہ قوم معتقدات‘ تاریخ‘ عصبیت‘ ثقافت اور انفرادیت پر اِصرار سے ہی وجود میں آتی ہے اور استحکام حاصل کرتی ہے۔ مذکورہ قومی عناصر کے اظہار کا اہم ذریعہ زبان ہی تو ہوتی ہے۔ جب لوگوں سے اُن کی زبان چھین لی جائے تو ان سے سب کچھ چھین لینے کے مترادف ہی ہوتا ہے۔ ہمیں بھی قومی یکجہتی کے گلدستے کی تشکیل کے لیے زبانوں کی رنگارنگی کو اہمیت اور فروغ دینا ہو گا۔ کیونکہ کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو تو قوم کی روایات‘ اس کی تہذیب‘ اس کی تاریخ‘ اس کی قومیت سب کچھ مٹ جائے گا۔ہمیں اگر اقوام میں زندہ رہنا ہے‘ تو مادری زبان کو ترجیح دینا ازبست ضروری ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abid Hashmi

Read More Articles by Abid Hashmi: 131 Articles with 43515 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Feb, 2021 Views: 77

Comments

آپ کی رائے