سسستی

(MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, Jhelum)

'انسان کوئی کام کرتے ہوئے اپنے دل و دماغ کو بوجھل محسوس کرے۔'

سستی کی اقسام:
عقل کی سستی: انسان اپنی عقل کو غوروفکر میں استعمال نہ کرے۔جسم کی سستی: انسان کا جسم اس کو نیکی اور عبادت سے دور رکھے۔

سستی انسان کو دنیاوی ترقی سے بھی دور رکھتی ہے۔

آپ(صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم) نے سستی سے پناہ مانگی۔
"اَلَّھُمَّ أَنِّى أَعُوذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالكَسَلِ وَالجُبْنِ والْھَرَمِ وَاَعُوْذُبِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَ المَمَاتِ."
'اے اللہ!بے شک میں پناہ مانگتا ہوں عاجزی،سستی،بزدلی،بہت بڑھاپے اور بخل سے اور میں پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنوں سے۔'

سستی نفاق کی علامت ہے۔سستی سے انسان بھلائی سے محروم ہو کر برائی کی راہ کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔

سستی کی وجوہات
سُستی اور کاہلی
کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں
*جن میں سے چند وجوہات مندرجہ ذیل ہیں*:
. *طاقت سے زیادہ کام کرنا*
بعض دفعہ انسان اپنی جسمانی قوت سے زیادہ کام کرلیتا ہے۔
اللہ پاک نے ہمارے جسم میں ایک خاص حد تک قوت رکھی ہے ہم اس قوت سے زیادہ کام کریں گے تو یقیناًتھک جائیں ہے اور جسم سُستی کا شکار ہوجائے گا۔
*کبھی کبھی خور ونوش کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا بھی سُستی کی وجہ بنتا ہے*
اس لیے خور ونوش میں توازن اپنایئے،
تلی ہوئی اشیاء کم مقدار میں لیں،
سونے جاگنے میں توازن کا نہ ہونا بھی
سُستی کا ایک بڑا سبب ہے۔

نفاق: نفاق سے دینی فرائض میں سستی آ جاتی ہے۔انسان محض دنیا کی سزا سے ڈرتا ہے۔
آرام پسندی: آرام پسندی کی بنا پر انسان خود کو تکلیف نہیں دینا چاہتا جس کی وجہ سے سستی حاوی ہو جاتی ہے۔
عیش پسندی: دوسرے لوگوں کے کام کرنے کی وجہ سے سے فراغت ھو جاتی ھے, جس سے سستی آتی ہے۔
زیادہ کھانا اور سونا: زیادہ کھانے اور سونے سے جسمانی سستی ہوتی ہے اور بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
سست لوگوں کی صحبت:سست لوگوں کی صحبت سے انسان سست ہو جاتا ہے۔

سستی دور کرنے کے حل
ٹال مٹول اور کاہلی کی عادت اگر پکی ہو جائے تو اس کے برے اثرات آپ کی صحت پر بھی پڑ سکتے ہیں، آپ مستقل طور پر ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، ورزش کو ملتوی کرتے ہوئے آپ مزید غیر صحت مند خوراک کھاتے رہتے ہیں اور حتیٰ کہ کسی بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود ڈاکٹر کے پاس جانے میں بھی لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔
تو کیا نفسیات کے شعبے میں ہونے والی کوئی تحقیق اس عادت سے ہماری جان چھڑا کر وقت پر کام کرنے کا جذبہ اجاگر کر سکتی ہے؟ اس حوالے سے میں آپ کو کچھ مشورے، کچھ ٹوٹکے بتا سکتی ہوں۔
1 -صرف قوت ارادی پر انحصار نہ کریں

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
ہو سکتا ہے کہ آپ کی قوت ارادی آپ کو منزل پر پہنچا دے، لیکن یہ اتنی نازک ہوتی ہے جلد ٹوٹ بھی سکتی ہے
لیکن ایئن پیٹر کے بقول ’قوت ارادی کام کا جذبہ پیدا کرنے کے مختلف طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے، لیکن یہ بہترین طریقہ نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی کام کے ناپسندیدہ پہلوؤں کو نظر انداز کرنے کے لیے اپنی قوت ارادی پر بھروسہ کرنے کی بجائے، آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ ان پہلوؤں سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی اور اس سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ناگوار پہلوؤں کو نظر انداز کر کے اپنا بڑا مقصد حاصل نہیں کر سکتے۔
ہر کام میں مثبت پہلو تلاش کریں
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
ناکامی کا خوف ختم کریں
کیا کسی کام کو ٹالنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ آپ کو ناکام ہو جانے کا خطرہ ہے؟
ھارنے کاخوف نکالیں جیت کی لگن اپنے دل و دماغ میں ڈالیں آپ یہ سوچیں کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں اور مزید یہ کہ آپ ہر کام میں منفی کی بجاۓ مثبت پہلو کو تلاش کریں
یونیورسٹی آف شفیلڈ کی محقق فوچیا سیروس کو سستی اور ٹال مٹول کے معاملے کا مطالعہ کرتے ہوئے 15 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ اس مسئلے کی وجہ ہمیشہ سستی اور وقت کا درست استعمال نہ کرنا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی وجہ اپنے جذبات کو درست سمت میں استعمال نہ کرنا بھی ہو سکتی ہے۔
3 - منصوبہ بندی کریں

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
یہ سوچنا حقیقت پسندی نہیں کہ آپ مستقبل میں یکسر بدل جائیں گے، لیکن آپ منصوبہ بندی کا ہنر سیکھ سکتے ہیں
اگر آپ جانتے ہیں کہ کوئی ایسی خاص چیز ہے جو آپ کو ٹال مٹول پر مجبور کر سکتی ہے تو آپ کو چاہیے کہ آپ وہ نفسیاتی حکمت عملی استعمال کریں جسے ’اگر۔ ۔ پھر‘ کی حمکت عملی کہتے ہیں۔ یوں اگر آپ وقت سے پہلے کام کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو سوچ لیتے ہیں کہ ’اگر‘ یہ ہوا تو میں ’پھر‘ کیا کروں گا۔
اللہ سے مدد مانگنا۔
نفع مند چیزوں کا حرص رکھنا۔
نیت سابقون السابقون میں شامل ہونا ھو۔
سستی منافق کی علامت ہے ہے،یہ ذہن میں رکھنا۔
جسمانی صحت کا خیال رکھنا۔
اللہ تعالی کا ذکر زیادہ سے زیادہ کرنا۔
فارغ اوقات میں خدمت خلق کرنا یا مطالعہ کرنا۔

سستی کے نقصانات:
دل کی سختی۔
جسمانی بیماریاں۔
احساس ذمہ داری کا خاتمہ۔
اس سے دینی نقصان بھی ہے اور دنیاوی بھی
وقت کا ضیاع۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI

Read More Articles by MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI: 120 Articles with 100154 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2021 Views: 115

Comments

آپ کی رائے