" />

مردان میں آل پاکستان انٹر یونیورسٹی آرچری چیمپن اور کھیلوں کی سرگرمیاں

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
فنڈز کی کمی کا رونا تو آرچری چیمپئن شپ کے دوران بھی کھیلوں سے وابستہ افراد نے کیا -پنجاب یونیورسٹی کے تیر اندازوں نے مقابلوں کے دوران بتایا کہ ان کے کھیلوں کا فنڈز سالانہ تقریبا آٹھ کروڑ روپے ہیں تقریبا اسی طرح کی صورتحال کراچی یونیورسٹی کی بھی دیکھنے کو ملی جن کے تیر اندازوں کے پاس تیر اندازی میں استعمال ہونیوالے " بو" دیکھنے کو ملی جبکہ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخواہ کے یونیورسٹیوں کو لاکھوں میں ملنے والے فنڈز سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت غیر نصابی سرگرمیوں میں کس حد تک سنجیدہ ہے -جس کا نقصان حکومت کو ہی ہورہا ہے کیونکہ بہترین کھیلوں کے میدان اور سہولیات کے باعث دیگر صوبوں کے کھلاڑی نمایاں پوزیشن حاصل کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ہم پروفیشنل مقابلوں میں سوائے چند کھیلوں کے پیچھے ہی ہیں جس کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے.

عبدالولی یونیورسٹی مردان میں آل پاکستان انٹر یونیورسٹی آرچری چیمپئن شپ میں فاتح ٹیم اپنی ٹرافی کے ساتھ

مردان کے عبدالولی خان یونیورسٹی میں آل پاکستان انٹر یونیورسٹی آرچری چیمپئن شپ اختتام پذیر ہوگیا ' تین روزہ چیمپئین شپ میں ملک بھرسے بارہ یونیورسٹیوں کے طلباء نے چیمپئین شپ میں حصہ لیا اور اپنے تیر انداز ہونے کا مظاہرہ کیا- طاقت اور تکنیک کے اس کھیل میں پنجاب یونیورسٹی کے تیر انداز ٹاپ سکور رہے اور انہوں نے ملک بھر کی یونیورسٹیو ں میںاپنی پوزیشن بہترین ثابت کردی-
ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے تعاون سے ہونیوالے اس چیمپئن شپ پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تیر اندازوں نے 1437 پوائنٹس حاصل کرکے گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا اور انکی ٹیم سبقت لے گئی جبکہ سلور میڈل کراچی سے تعلق رکھنے والے آئی بی اے کی ٹیم نے حاصل کرلی جنہوں نے 1176 پوائنٹس حاصل کرلی جبکہ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کی ٹیم نے 1097 پوائنٹس حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کرکے براونز میڈل لے لیا -چوالیس کھلاڑیوں پر مشتمل اس چیمپئن شپ ہر یونیورسٹی کی طرف سے چار تیر انداز مقابلوں میں شریک رہے اور اپنے یونیورسٹی کی طرف سے کھیلے -اس چیمپئن شپ میں ٹاپ سکورر بھی پنجاب یونیورسٹی کے غلام دستگیر ہی رہے جنہوں نے 503 پوائنٹس کیساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی .سات مارچ سے 9 مارچ تک کھیلے جانیوالے اس چیمپئن شپ کے فائنل کے موقع پر ڈیپارٹمنٹ آف فزیکل ایجوکیشن عبدالولی خان یونیورسٹی کے چیئرمین ڈاکٹر فاروق نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں میں انعامات تقسیم کئے -
َ
خوبصورت بلڈنگز اور بڑے بڑے کھیلنے کے میدان رکھنے والے عبدالولی خان یونیورسٹی میں آرچری چیمپئن شپ کے موقع پر انتظامات بھی بہترین تھے مقابلے گرائونڈ میں ہوتے تھے اور عموما آرچری کے مقابلوں کے دوران لوگوں کی بڑی نشانہ بازی کیلئے استعمال ہونیوالی ٹارگٹ کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے اس لئے تیر اندازی کرنے والوں کو بہت مشکل درپیش آتی ہے کیونکہ تیر اندازی میں استعمال ہونیوالے تیر خطرناک ہوتے ہیں - تین روزہ اس چیمپئن شپ میں اس طرح کی صورتحال بہت کم دیکھنے میں آئی اور خصوصا اس وقت کوئی طالب علم یونیورسٹی گرائونڈ میں داخل ہی نہیں ہوتا تھا جب مقابلے شرو ع ہوتے تاہم یونیورسٹی ٹائمنگ ختم ہونے کے بعد ہاسٹل میں زیر تعلیم طلباء آرچری کو دیکھنے کیلئے آتے اور ٹارگٹ کیساتھ کھڑے ہوتے تاہم انہیں پروگرام آرگنائز کرنے والے پختونخواہ آرچری کلب اور انتظامیہ دور رہنے کی ہدایت کرتے اور یوں تیر اندازی کے مقابلے احسن انداز میں اختتام پذیر ہوگئے- گرائونڈ میں طلباء کی بڑی تعدا د میں آمد اور آرچری میں طالبات کی دلچسپی بھی زیادہ رہی او ر اس کی وجہ شائد پی ٹی وی پر چلنے والے ترکی کا ڈرامہ بھی ہے جس کی وجہ سے ہر ایک کو تیر اندازی کے مقابلے دیکھنے کا شوق رہا -

عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں بننے والی اس یونیورسٹی میں نہ صرف مردان بلکہ چارسدہ نوشہرہ حتی کہ ملاکنڈ ڈویڑن سے تعلق رکھنے والے طلباء و و طالبات کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے ' جہاں پر انہیں تعلیمی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا بھی موقع ملتا ہے اور یہ اس یونیورسٹی کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے کہ کھیلوں کے اتنے گرائونڈز ہیں کہ دیکھ کردل خوش ہوتا ہے کیونکہ یہاں پر قومی سطح کے مختلف مقابلے کروائے جاسکتے ہیں.اے این پی کے دور میں بننے والے اس یونیورسٹی پر نیب کے کیسز بھی چل رہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں پر ترقیاتی کام بھی نہیں ہورہے اور کچھ ایسے بلڈنگز بھی ہیں جنکی مرمت ہونی ہے لیکن جس کے خلاف کیسز نیب نے شروع کئے ہیں وہ تو کئی سالوں سے جاری ہے مگراس کا نقصان یونیورسٹی کو ہورہا ہے . موجودہ حکومتی پارٹی کا سیاسی اختلاف اپنی جگہ ' لیکن عبدالولی خان یونیورسٹی پر نیب کیسز کی وجہ سے فنڈز اور کام کی بندش یہاں پڑھنے والے طلباء و طالبات کیساتھ زیادتی ہے جو کہ ملک و قوم کا اصل سرمایہ ہے جس کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے.

فنڈز کی کمی کا رونا تو آرچری چیمپئن شپ کے دوران بھی کھیلوں سے وابستہ افراد نے کیا -پنجاب یونیورسٹی کے تیر اندازوں نے مقابلوں کے دوران بتایا کہ ان کے کھیلوں کا فنڈز سالانہ تقریبا آٹھ کروڑ روپے ہیں تقریبا اسی طرح کی صورتحال کراچی یونیورسٹی کی بھی دیکھنے کو ملی جن کے تیر اندازوں کے پاس تیر اندازی میں استعمال ہونیوالے " بو" دیکھنے کو ملی جبکہ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخواہ کے یونیورسٹیوں کو لاکھوں میں ملنے والے فنڈز سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت غیر نصابی سرگرمیوں میں کس حد تک سنجیدہ ہے -جس کا نقصان حکومت کو ہی ہورہا ہے کیونکہ بہترین کھیلوں کے میدان اور سہولیات کے باعث دیگر صوبوں کے کھلاڑی نمایاں پوزیشن حاصل کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ہم پروفیشنل مقابلوں میں سوائے چند کھیلوں کے پیچھے ہی ہیں جس کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے.

مردان سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی عاطف خان جو کہ کھیلوں کے وزارت کے نگران بھی رہے نے اس یونیورسٹی میںکھیلوں کے مختلف پراجیکٹس پر کام شروع کرنیکا وعدہ بھی کیا تھا لیکن پھر ان کی فراغت کے بعد یہ سلسلہ رک گیا -مردان میں قائم اس یونیورسٹی میں کھیلوں کے مختلف سہولیات کی فراہمی میں اگر کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات کی فراہمی کیلئے کام کرنے والے اگر یونیورسٹی کا دورہ کرلیں تو یقینا وہ اس یونیورسٹی میں کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرسکیں گے کیونکہ اس وقت کھیلوں کے مختلف پراجیکٹس میں سب سے بڑا مسئلہ زمین کی فراہمی کا ہے اور اگر سرکاری زمین مل جائے تو مختلف پراجیکٹس کی کاسٹ بھی کم ہوسکتی ہے اور زیادہ فنڈز دیگر جگہوں پر استعمال ہوسکتے ہیں- اور حکومت کے ہی یونیورسٹی عبدالولی خان یونیورسٹی میں اس طرح کی سہولیات کی فراہمی نہ صرف یونیورسٹی کے طلباء وطالبات بلکہ مردان کے نوجوا ن نسل کیساتھ بھلائی اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنیکی کوشش بھی ہوگی جس کی ذمہ داری وزیراعلی خیبر پختواپر سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے جو کہ کھیلوں کے نگران وزیر بھی ہے- نظریاتی اور سیاسی اختلافات ہر جگہ پر ہوتے ہیں لیکن ملک کے مستقبل کی بہتری کیلئے یہ تمام چیزیں بے معنی ہوتی ہیں خصوصا اس صورت میں جب ملک کی بیشتر آبادی نوجوانو ں پر مشتمل ہوتی ہے اور حکومت کے پاس انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کیلئے صرف کھیل کے میدان ہی ہوں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 354 Articles with 187237 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
10 Mar, 2021 Views: 181

Comments

آپ کی رائے