" />

ایک ہزار کھیلوں کا پراجیکٹ ' گدھے اور افسران

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
داخل دفتر ہونیوالے اس منصوبے کی سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود صرف مخصوص لوگ تنخواہیں لے رہے ہیں ' ڈرائیور ' کلاس فور تک نہیں لئے جاسکے ہیں کیونکہ انہوں نے این ٹی ایس پاس کرنا ہے ' سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا موقف ہے کہ ان کے پاس ڈویلپمنٹ کا الگ سیکشن ہے لیکن اتنے بڑے صوبے کے تمام اضلاع میں جانا مشکل ہے اس لئے الگ پراجیکٹ ترتیب دیا گیا ہے. لیکن کچھ لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ اس ڈیپارٹمنٹ کے "انجنیئر" کو پانچ ارب والے پراجیکٹ میں تعینات کر گئے ہیں-
خیبر پختونخواہ میں کھیلوں کے سہولیات کے ایک ہزار منصوبوں پر کام جاری ہے اس منصوبے کیلئے پانچ ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہیں اورمختلف جگہوں پرکام بھی جاری ہے لیکن اس منصوبوں کی تفصیلات تبدیلی والی سرکار کی طرح صرف " سوشل میڈیا" پر مخصوص افراد کی تصاویر اور دورے تک ہی محدود ہے- ایک ہزار کھیلوں کے منصوبوں کی شفافیت کتنی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈیپوٹیشن پر آنیوالے " وڈے وڈے " افسران اس پراجیکٹ اور اپنے اصل ڈیپارٹمنٹ سے پانچ سال تک تنخواہیں ڈبل وصول کرنے کیساتھ ٹی اے ڈی اے بھی لیتے رہینگے اور پھر اللہ اللہ خیر صلا.. کیونکہ پوچھنے والے جب پوچھنے آئیں گے تو پتہ چلے گا کہ صاحب ہم تو پراجیکٹ کے ملاز م تھے اب ہمیں کیا پتہ .. اصل ڈیپارٹمنٹ سے پتہ کیا جائے. اور پھر کیس داخل دفتر ہو جائیگا-

داخل دفتر ہونیوالے اس منصوبے کی سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود صرف مخصوص لوگ تنخواہیں لے رہے ہیں ' ڈرائیور ' کلاس فور تک نہیں لئے جاسکے ہیں کیونکہ انہوں نے این ٹی ایس پاس کرنا ہے ' سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا موقف ہے کہ ان کے پاس ڈویلپمنٹ کا الگ سیکشن ہے لیکن اتنے بڑے صوبے کے تمام اضلاع میں جانا مشکل ہے اس لئے الگ پراجیکٹ ترتیب دیا گیا ہے. لیکن کچھ لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ اس ڈیپارٹمنٹ کے "انجنیئر" کو پانچ ارب والے پراجیکٹ میں تعینات کر گئے ہیں-

سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ نئے ضم ہونیوالے ضلع خیبر کے علاقے میںفضل محمد شہید گرائونڈ شلمان کرکٹ گرائونڈ بنا دیا گیا ہے اور اس پرکم بیش پینسٹھ لاکھ روپے کی لاگت آئیگی لیکن وہ شہر سے اتنا دور ہے کہ کھلاڑی پینتالیس کلومیٹر دور روزانہ جا نہیں سکتے اور اگر کوئی جانا بھی چاہے تو ڈیڑھ سو روپے کونسے کھلاڑی کے پاس ہونگے جو روزانہ اس گرائونڈ میں جانے کیلئے لگائے یہ وہ سوال ہے جو نہ تو کھیلوں سے وابستہ افراد کو سمجھ آرہی ہیں اور نہ ہی ایر کنڈیشنر گاڑیوں اور بڑے بڑے دفاتر میں بیٹھ کر سفارش پر آنیوالے افسران کو پتہ ہے -ہاں انہیں " خوشامد " اور "چمچہ گیری" خود بھی آتی ہے اور انہیں ایسے ہی لوگ پسند ہیں جو ان کے ہر غلط کام کو " واہ سر جی " کہہ کر ٹھیک کرنے کی کوشش کریں-باقی کھلاڑی' کھیل اور میدان جائے بھاڑ میں ' ان کی دکانداری لگی ہوئی ہیں ' ویسے ضلع خیبر میں بننے والے اتنے بڑے گرائونڈ کی سیکورٹی کیلئے بھی کوئی انتظام نہیں ' نہ ہی کوئی دکان ' بس زمین مختص کی گئی ' صفائی کی گئی سائیڈ وال تین فٹ بنا دی گئی اور یوں گرائونڈ بن گئی یہ کھیلوں کے ایک ہزار منصوبوں کے صرف ایک کھیل کا حال ہے- اور اگر اس حوالے سے بات کریں تو پھر انہیں یہ کہہ کردبا یا جاتا ہے کہ "ہاتھ ہولا رکھو" بڑے صاحب ناراض ہوتے ہیں-

ہاتھ ہولا رکھنے کی بات پر یاد آیا کہ کہ کھیلوں کے ایک ہزار سہولیات کے اس منصوبے میں کبڈی کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے اس کھیل کیلئے پورے صوبے میں کہیں پر گرائونڈ نہیں بنایا جارہا ' کبڈی جو زیادہ تر چارسدہ ' پشاور ' بنوں ' ہریپور سمیت مختلف اضلاع میں زیادہ کھیلا جاتا ہے کی جانب ایک ہزار کھیلوں کے افسران کی توجہ بالکل نہیں گئی اس بارے میں انہوں نے مکمل طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہوئی ہیں - یہی حال آرچری کا بھی ہے جن کیلئے کوئی جگہ مختص نہیں کی جارہی او ر نہ ہی کوئی رینج بنائی جارہی ہیں ہاں پہلے سے "افسران" کیلئے بنائے گئے متعدد کھیلوںکے میدان پر سنتھٹیک کا اضافی لفظ لگا کر " افسران "کو خوش کیا جارہا ہے ایسے افسران کو جو اپنے بڑے ہوئے پیٹ بھی نہیں سنبھال سکتے لیکن چونکہ ان کے پاس طاقت ہے اس لئے ایس منصوبوں پر لاکھوں اور کروڑوں لگائے جارہے ہیں جبکہ عوامی کھیلوں کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی- کیونکہ عوام تو صرف ٹیکس ادائیگی کیلئے " گدھے "ہیں اور ان " گدھوں پر "افسران" سواری کرتے ہیں نہ کہ ان کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں-

ہاکی کے ٹرف بھی ایسی ہی صورتحال سے دو چار ہیں ' لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم سے لیکر ایبٹ آباد میں واقع ہاکی سٹیڈیم کا آسٹرو ٹرف ختم ہو چکا ہے لیکن اس جانب توجہ کوئی نہیں دی جارہی ' باتیں تو کرنے والے بہت کرتے ہیں لیکن صورتحال کچھ یوں ہیں کہ پاکستان کے قومی کھیل کی جانب کسی کی توجہ بالکل نہیں 'پورے صوبوں میں ہاکی کے کھیل کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے کسی سکول ' کالج یا یونیورسٹی میں نئے کھلاڑیوں کو لانے کیلئے کوئی کوشش' کیمپ تک نہیں لگایا جارہا نہ ہی گرائونڈ کی طرف کوئی توجہ دی جارہی ہیں کہ چلو اگر آسٹرو ٹرف نہ ہو تو کوئی بات نہیں کھلاڑیوں کے پریکٹس کیلئے کوئی جگہ ' گرائونڈ مختص کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول رکھا جاسکے- لیکن یہاں پر بھی خیر خیریت ہے.

رہی بات خیر خیریت کی ' تو صاحب جن لوگوں کی یعنی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ صاحب " لوگوں " کو اصل صورتحال سے آگاہ کریںکہ یہ غلط ہے اور یہ ٹھیک ہے.. وہ خوشامد کی انتہا تک پہنچ گئے ہیں اور لوگوں کو اب خبریں اس طرح بنانے کی تلقین کرنے لگے ہیں کہ اب ہر خبر کے انٹرو میں لکھاجائیگا کہ " عمران خان کے وژن کے مطابق وزیر کھیل محمود کی نگرانی میں چلنے والے سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں سیکرٹری سپورٹس کی احکاما ت پر ڈائریکٹر سپورٹس کی ہدایت پر پراجیکٹ کی سپرویژن میں ڈی ایس او فلاں نے کام کردیا ., ایسے میں حقیقت کتنی سامنے آئیگی..ورنہ کہا جاتا ہے کہ اس کے بغیر کوئی خبر ہی نہیں.اور یہ ان لوگوں کے کارنامے ہیں جن کی عمریں سپورٹس کیلئے لکھتے ہوئے میدان میں گزری ہیں .
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 354 Articles with 187233 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
14 Mar, 2021 Views: 191

Comments

آپ کی رائے