وومن ڈے پر خاتون میزبان بے عزتی اور جعلی ٹیمیں

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
آٹھ مارچ کی تقریب کے حوالے سے منعقد ہونیوالی تقریب میں چارسدہ سے تعلق رکھنے والی طالبات کی ڈرم بجانے والی ٹیم نے حصہ لیا ' جنہوں نے بہترین ترتیب اور انداز میں اسے پیش بھی کیا لیکن خواتین کے خدمات کے اعتراف اور عالمی دن کی مناسبت سے ہونیوالی تقریب میں مرد اینکر نے متعلقہ ڈرم بجانے والی ٹیم اور طالبات کو سٹیج سے مائیک پر یہ کہہ کر شرمندہ کرنے کی کوشش کی کہ متعلقہ طالبات کو چارسدہ مں موٹے چاول کھلائے گئے ہونگے.اس بات کی نہ تو کوئی تک بنتی ہے اور نہ ہی یہ براہ راست مائیک پر کہنے کی باتیں ہیں ' کیونکہ یہ طالبات اور انکی اساتذہ اگر تقریب میں آئی تھی تو وہ عزت کیلئے آئی تھی نہ کہ انہیں سٹیج سے یہ کہہ کر پکارا جائے جس سے ان معصوم طالبات کی توہین کا پہلو نکلتا ہو-

قیوم سپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ وومن ڈے کی تقریب کا منظر

پشاور میں خواتین کے خدمات کے اعتراف کے طور پر منائے جانیوالی قیوم سپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ تقریب میں خواتین کیساتھ زیادتی کی گئی اور سب سے حیران کن بات جو کہ دیکھنے میں آئی کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی خاتون ڈائریکٹر کی موجودگی میں یہی سب کچھ ہوا جو کہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہیں. خواتین کی اس تقریب میں مردوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پروگرام کے انعقاد کیلئے وقت تو کچھ اور دیاگیا تھا لیکن مخصوص میڈیا صبح آٹھ بجے ہی گرائونڈ پر پہنچ گیا تھا -اس تقریب میں مقامی کالج میں پڑھانیوالی ایک خاتون اینکر کو بات کرنے کا موقع دیا گیا لیکن افسوس کی بات کہ سپورٹس سیکرٹری خیبر پختونخواہ کیساتھ ہاکی کھیلنے والے ایک سابق کھلاڑی اور سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے چہیتے مرد صبح سے گرائونڈ میں مائیک پکڑ کر یہ ظاہر کرتے رہے کہ کیا سپورٹس ڈائریکٹریٹ اور کیا یوتھ ڈائریکٹریٹ میں کام کرنے والے مرد و خواتین سب اس کے غلام ہیں-مائیک پر جس طرح سے خاتون اینکر کی بے عزتی کی گئی وہ قابل افسوس ہے ' کیونکہ متعلقہ خاتون کو اگر پہلی مرتبہ اینکر شپ کا موقع ملا تھا تو چاہئیے یہ تھا کہ اسے ہی اوپن ہینڈ دیا جاتا لیکن خواتین کے عالمی دن پر بھی خاتون اینکر کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا ' حالانکہ اس تقریب میں متعلقہ خاتون نے کئی مرتبہ برملا اس بات کا اظہار کیا کہ انہیں بولنے دیا جائے لیکن خاتون جو بات کرتی اس کے بالکل الٹ ہی مرد اینکر بولتے .

حال ہی میں انتقال پانے والے ٹیسٹ کرکٹر کی بیٹی اینکر نے اپنی طرف سے پروگرام کی ترتیب مانگی تو " زبان " سے منہ پھٹ مرد نے یہ کہہ کر انہیں شرمندہ کیا کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ کے دیوان چند متعلقہ خاتون اینکر کو پچاس صفحات لیکر دیدیں تاکہ وہ خاتون لکھیں اور پھر لکھ کر بولیں . ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ اگر کاغذ اڑ گئے تو پھر خاتون اینکر کیا بولے گی جس پر سٹیج پر بیٹھی خاتون روہانسی بھی ہوگئی حالانکہ جس ترتیب سے متعلقہ خاتون بول رہی تھی اس لحاظ سے ایک اچھی کاوش تھی لیکن افسوس کی بات کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی خاتون ڈائریکٹر کی موجودگی میں ہی متعدد مرتبہ اس خاتون کی بے عزتی کی گئی جو کہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے کیونکہ کسی خاتون کی بے عزتی کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں اور وہ بھی خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ہونیوالی تقریب میں' کیونکہ خاتون خواہ وہ کسی بھی روپ میں ہو قابل عزت اور قابل احترام ہے.خاتون اینکر نے اپنی حد تک بھرپور کوشش کی کہ تقریب کے حوالے سے بات کرے لیکن مسلسل بولنے والے مرد اینکر نے خاتون کو موقع ہی نہیں دیا جس کے بعد متعلقہ خاتون نے مجبورا سٹیج پرکھڑے ہونے سے معذرت کی اور بیٹھ گئی اور مرد اینکر خواتین کے اس تقریب میں بے تکان اور مسلسل بولنے کی وجہ سے بہت ساری باتیں غلط بھی بول گئے.لیکن انہیں احساس بھی نہیں ہوا-خاتون اینکر کے ہدیہ نعت کے بعد متعلقہ صاحب نے یہ کہہ کر کالج کی خواتین اساتذہ کو بھی حیران کیساتھ پریشان بھی کردیا کہ کہ سب الحمد اللہ پڑھے تاکہ ثواب میں بھی آپ کی شرکت ہو.

آٹھ مارچ کی تقریب کے حوالے سے منعقد ہونیوالی تقریب میں چارسدہ سے تعلق رکھنے والی طالبات کی ڈرم بجانے والی ٹیم نے حصہ لیا ' جنہوں نے بہترین ترتیب اور انداز میں اسے پیش بھی کیا لیکن خواتین کے خدمات کے اعتراف اور عالمی دن کی مناسبت سے ہونیوالی تقریب میں مرد اینکر نے متعلقہ ڈرم بجانے والی ٹیم اور طالبات کو سٹیج سے مائیک پر یہ کہہ کر شرمندہ کرنے کی کوشش کی کہ متعلقہ طالبات کو چارسدہ مں موٹے چاول کھلائے گئے ہونگے.اس بات کی نہ تو کوئی تک بنتی ہے اور نہ ہی یہ براہ راست مائیک پر کہنے کی باتیں ہیں ' کیونکہ یہ طالبات اور انکی اساتذہ اگر تقریب میں آئی تھی تو وہ عزت کیلئے آئی تھی نہ کہ انہیں سٹیج سے یہ کہہ کر پکارا جائے جس سے ان معصوم طالبات کی توہین کا پہلو نکلتا ہو-

خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ہونیوالی اس تقریب میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ کے مہمان خصوصی بننے کی اطلاع تھی تاہم وہ نہیں آئے اور ڈائریکٹر خواتین سپورٹس تقریب میں موجود رہی تاہم وہ اتنی بے بس نظر آئی کہ کئی مرتبہ انہوں نے پروگرام میں مائیک پر بولنے والے مرد کو بلانے کی کوشش کی تاہم انہیں بھی متعلقہ اینکر نے گھاس نہیں ڈالی اور یہ ظاہر کیا کہ متعلقہ خاتون کی کوئی اوقات ہی نہیں حالانکہ عہدے ' عمر اور خاتون ہونے کے ناطے وہ مرد اینکر سے ہر لحاظ سے بہترین تھی لیکن متعلقہ خاتون ڈائریکٹر بھی خاموش رہی پتہ نہیں ان کی کیا مجبوری تھی لیکن اس بات کو تقریب میں تقریبا ہر شخص نے نوٹ کیا -

چونکہ تقریب کھیلوں کے حوالے سے تھی او ر کھیلوں کے وزارت کے نگرا ن وزیر کھیل محمود خان وزیر اعلی خیبر پختون ہی ہے اس لئے سترہ لاکھ کی فنڈنگ بھی سپورٹس ڈائریکٹریٹ اور یوتھ ڈائریکٹریٹ نے ہی کی تھی خواتین کی اس تقریب میں خواتین کیساتھ بھی زیادتی کی گئی کیونکہ فٹ سال کی خواتین کی جو ٹیمیں ڈیپارٹمنٹ سے ظاہر کی گئی وہ بھی پشاور سے تعلق رکھنے والی مختلف کالجز کی طالبات تھی جن میں سے پبی کالج کی طالبات کو ہائیر ایجوکیشن کے شرٹس پہنا دی گئی جبکہ ایک اور کالج کی طالبات کو دوسرے ڈیپارٹمنٹ سے ظاہر کرنیکی خواہش کا اظہار کیا گیا لیکن ٹریک سوٹ فراہم نہیں کئے گئے اسی بنیادپر طالبات نے انکار کیا مقصد یہی ظاہر کرنا تھا کہ پشاور میں ہونیوالا فٹ سال کے مقابلے پاکستان سطح کے ہیں جو کہ جھوٹ پر مبنی تھا..

اسی طرح خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک اور فراڈ بھی کیا گیا ایک ٹیم جنہیں " success " کا نام دیا گیا تھا ان کے ٹریک سوٹ پر پرائیویٹ لکھا گیا لیکن متعلقہ ٹیم کی خواتین ممبر کو یہ ظاہر کیا گیا کہ ان کا تعلق ڈیپارٹمنٹ سے ہے لیکن یہ بتایانہیں گیا کہ یہ " سکسسس " نامی کونسا ڈیپارٹمنٹ ہے بعد میں بتایا کہ یہ بھی اسلام آباد کی ٹیم ہے.حالانکہ اسلام آباد کی ایک اور ٹیم بھی ظاہر کی گئی -مقصد صرف فٹ سال ایسوسی ایشن کو سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی طرف سے جاری کئے جانیوالے گیارہ لاکھ روپے کو ہضم کرنے کیلئے " خواتین ٹیموں" کا اندراج تھا . جو کہ نہ صرف سرکاری مال سوری غریب عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں کو " مخصوص پیٹوں" میں جانے کیلئے راستے کی فراہمی تھی'جبکہ اس اقدا م سے ڈیپارٹمنٹس کی خواتین کھلاڑیوں کیساتھ بھی زیادتی کی گئی کیونکہ اگر وہ ان مقابلوں میں حصہ لیتی تو بہتر ہوتا نہ کہ پشاور اور پبی کی طالبات کو دیگر ڈیپارٹمنٹس کی طرف سے ظاہر کیا جاتا.جبکہ اس میں اہم بات یہ ہے کہ فٹ سال کے مقابلوں کے آرگنائز ر پراجیکٹ ڈائریکٹرسپورٹس ڈائریکٹریٹ جو کہ قانونا بھی ایسوسی ایشن کے صدر رہنے کے قابل نہیں کی سرپرستی میں چلنے والے ایسوسی ایشن کے زعماء سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کو ڈیلی دی جائے .حالانکہ روزانہ الائونس کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کو ان کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ ہی ادا کرتے ہیں .جبکہ یہاں پشاور میں منعقدہ فٹ سال مقابلوںمیں تو کالجز کی طالبات دیگر ڈیپارٹمنٹ کی ظاہر کی گئی .اب یہ رقم کالجز کی طالبات کو ملیں گی یا کہاں پر جائینگی.

قیوم سپورٹس کمپلیکس پشاور میں منعقد ہونیوالے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ پروگرام جسے اگر خواتین میلہ کہا جائے تو بہتر ہوگا لیکن اس میلے میں کہیں پر سٹال نظر نہیں آئے تاکہ پتہ تو لگ جاتا کہ خواتین سپورٹس کیساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی نمایاں طور پر کام کررہی ہیں لیکن یوتھ ڈائریکٹریٹ بھی اس معاملے میں سکول کی پی ٹی ٹیچر کی طرح رہی .تقریب میں شرمندہ کرنیوالی بات میڈیا کیلئے روٹی کے انتظام کرنا تھا جس کا بھی مرد اینکر نے باقاعدہ اعلان کرکے کہہ دیا کہ "ملگرو " لہ دہ روٹی غم کوے" یعنی کھانے کا انتظام کیا جائے ' ٹھیک ہے پیٹ سب کیساتھ لگا ہوا ہے لیکن یہ پیٹ بھی نیچے ہی ہے عزت بھی کوئی چیز ہی ہے لیکن موٹے پیٹوں والوں کومائیک پر صحافیوں کی بے عزتی کرکے کیا ملا یہ تو ان سے پوچھنے کی ضرورت ہے لیکن مجموعی طور پر خواتین کا یہ پروگرام ایک طرح سے خواتین کیلئے ٹیسٹ بھی تھا . جس میں کسی حد تک اگرخواتین کامیاب رہی تو ایک حد تک ایک مرد اینکر اس پروگرام پر حاوی بھی رہا جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آج بھی مخصوص مرد خواتین کی حقوق اس حد تک دینے کے حق میں ہیں جہاں تک انکے مفادات ہوں .



Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 349 Articles with 184139 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
09 Mar, 2021 Views: 119

Comments

آپ کی رائے