محرم الحرام کے فضائل،مسائل عبادات

(Pir Farooq Bahaul Haq Shah, Bhalwal)

اسلامی سال کا پہلا مہینہ جسے محرم الحرام کہا جاتا ہے۔یہ ماہ مبارک اپنے فضائل اور اہمیت کے اعتبار سے تمام مہینوں میں اپنی الگ سے اہمیت رکھتا ہے۔ محرم الحرام کے مہینے میں ایک دن ایسا بھی ہے جسکے مراتب و فضائل کلام الٰہی قرآن مجید و احادیث نبویہ اور سیرت و تاریخ کی کتابوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ وہ دن ’’ یومِ عاشورہ‘‘ کہلاتا ہے۔ہم۔نے دیکھنا ہے کہ ایک مومن ہونے کے ناطے ہم محرم الحرام کا استقبال کیسے کریں اور اسے کس انداز میں گزارنے کا اہتمام کریں

عاشورہ کا لفظی معنیٰ دسواں دن یا دسویں تاریخ ہے۔ مگر اب عرف عام میں یومِ عاشورہ کا اطلاق محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو ہوتا ہے جس دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ‘ نے اپنے 72 نفوس قدسیہ کے ساتھ مذہب اسلام کی خاطر حق کیلئے راہ خدا میں جامِ شہادت نوش فرمایا تھا۔

محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے بعد دعا
اسلامی تعلیمات میں نمایاں بات یہ ہے کہ ہر ماہ کئ ابتدا میں اللہ کریم کی بارگاہ سے دست سوال دراز کیا جاتا ہے۔لہزا اس ماہ مقدس کے استقبال کا پہلا تقاضہ یہ ہے کہ اس کا چاند دیکھ کر مسنون دعا کی جاے۔ایک روایت میں اس وقت یہ دعا پڑھنے کاذکر ہے :

”اللھم أَھِلَّہ علینا بالیُمْنِ والإِیْمَانِ والسَّلامَةِ والإِسلامِ، ربِّيْ ورَبُّکَ اللّٰہ“․ (مسند أحمد بن حنبل، مسند أبي محمد طلحہ بن عبید اللہ، رقم الحدیث: ۱۳۹۷، ۲/۱۷۹، دارالحدیث، القاھرة)

ترجمہ: اے اللہ! اس پہلی رات کے چاند کو امن وسلامتی اورایمان واسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما، (اے چاند ) میرا اور تمہارا رب اللہ تعالی ہی ہے۔

ہمیں بھی مہینے کی ابتدا ء اُسی طرح کرنی چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا ؛ تاکہ برکتیں اور رحمتیں حاصل ہوں۔
محرم الحرام اللہ رب العزت کی طرف سے احترام والا مہینہ قرار دیا گیا۔اس اس ماہ مبارک کی دس تاریخ میں ہمیشہ سے اہمیت کی حامل رہی ہے۔اور آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلان نبوت کے بعد بھی اس کی وہی اہمیت برقرار رہی۔تاہم سن 60 ہجری میں واقعہ کربلا کے بعد اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا۔زیل میں یوم عاشور کے کچھ اعمال زکر کیے جارہے ہیں۔

عاشورہ کے اعمال
:یومِ عاشورہ کا روزہ بہت فضیلت رکھتا ہے ۔ یوم عاشورہ کا روزہ اسلام سے قبل اہل مکہ اور یہودی لوگ بھی رکھا کرتے تھے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ‘ سے مروی ہے کہ اُمُ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ’’ قریش زمانہ جاہلیت میں یوم عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے آپ ﷺ بھی زمانہ جاہلیت میں اس دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھر جب حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے ، تب یومِ عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا، تاہم عاشورہ کے دن انبیاء کرام روزہ رکھا کرتے تھے۔ حضور محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔اور فرمایا نو ، دس کا رکھو یادس،گیارہ کا رکھو۔

صُوْ ْمُو یَوْمَ عَا شُوْرَآئَ یَوْمَ کَا نَتِ الْاَ نْبِیْآ ئُ تَصُوْ مُہ‘ (ترجمہ) : عاشورہ کے دن کا روزہ رکھو، کیونکہ یہ وہ دن ہے کہ اس کا روزہ انبیاء کرام رکھتے تھے۔ (الجامع الصغیر جلد 4 صفحہ 215) یومِ عاشورہ کا روزہ رکھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عام معمول میں شامل تھا اور آپ اس دن کا روزہ خاص اہتمام کے ساتھ رکھتے تھے۔ ایک حدیث پاک میں حضورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چار معمولات کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ انہیں کبھی ترک نہ فرماتے تھے۔ ان چار معمولات میں ایک یوم عاشورہ کا روزہ رکھنا بھی ہے۔ روایت اس طرح سے ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنھافرماتی ہیں کہ چار چیزیں ایسی تھیں جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں کیا۔ یومِ عاشورہ کا روزہ اور ذو الحجہ کا عشرہ یعنی پہلے نو دن کا روزہ اور ہر ماہ کے تین روزے (یعنی ایام بیض) کے روزے اور فرض نماز فجر سے پہلے دو رکعت (یعنی سنّتیں) (رواہ النسائی و مشکواۃ شریف صفحہ 180) جس نے عاشورہ کا روزہ رکھا اسے ایک ہزار شہیدوں کا ثواب ملتا ہے۔ اور ایک روایت کے مطابق ساتوں آسمانوں میں بسنے والے فرشتوں کا ثواب ملتا ہے۔ جس نے عاشورہ کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں 60 (ساٹھ) سال کی صوم و صلواۃ کی صورت میں عبادت کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ (غنیتہ الطالبین جلد 2 صفحہ 53)

یوم عاشور۔یوم توبہ۔
:یومِ عاشورہ کے فضائل کے تعلق سے صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ‘ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر غالب گمان ہے کہ عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ، اسی فضیلت کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم ماہِ رمضان کے علاوہ روزہ رکھنا چاہتے ہو تو عاشورہ کا روزہ رکھو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی فضیلت قرآن پاک میں آئی ہے اور اس مہینہ میں ایک دن ایسا بھی ہے جس میں اللہ سبحانہ‘ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور دوسری قوم کی توبہ کو قبول فرمائے گا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ‘ نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات کی طرف رغبت دلائی کہ وہ یومِ عاشورہ کو (توبتہ النصوح) کی تجدید کریں اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ استغفار کی قبولیت کے لئے خوب گڑ گڑائیں۔ کیونکہ اس دن جس نے بھی اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ جس طرح اس سے پہلے والوں کی توبہ قبول فرمائی

یوم ِ عاشورہ میں دسترخوان وسیع کرنا:
عاشورہ کے دن سخاوت کرنا یعنی غریب پروری کرنا، اپنے گھر کے دسترخوان کو وسیع کرنا، گھر والوں پر خرچ کرنا رزق کے اندر وسعت و فراخی کا باعث بنتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے سیدنا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ‘ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے عاشورہ کے دن اپنے اہل و اعیال پر نفقے (خرچ) کو وسیع کیا اللہ پاک سارا سال اس پر رزق کی وسعت فراخی (زیادتی) فرماتا ہے۔ حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو اسے بالکل ایسے ہی پایا۔ (مشکواۃ شریف صفحہ 170 غنیتہ الطالبین جلد 2 صفحہ 54) کشادگی رزق والی حدیثیں مختلف روایتوں کے ساتھ ملتی ہیں۔روایات کی کثرت اس حدیث مبارکہ کی صحت کو ثابت کرتی ہیں۔

یومِ عاشورہ اور واقعہ کربلا:
ومِ عاشورہ ماہِ محرم الحرام کا دسواں دن مندرجہ بالا فضیلتوں و باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے اندر ایک بالکل مختلف پہلو بھی رکھتا ہے۔اسی دن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ‘ کو میدان کربلا میں شہید کر دیا گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نہایت شفقت آمیز لہجہ میں ارشاد فرمایا کہ ’’ حسن اور حسین میرے لئے دو مہک (خوشبو) دار پھول کی مانند ہیں‘‘ اسی حدیث پاک کی ترجمانی حضرت مولانا احمد رضا خان قدس سرہ فرماتے ہیں
*کیا بات ہے رِضَا اس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین و حسن پھول*

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے زیادہ محبوب ان دونوں نواسوں میں حضرت امام حسین رضی اللہ کو حضور ﷺ کے وصال مبارک کے کم و بیش 50 سال کے عرصہ کے بعد 60 ھجری میں 10محرم الحرام کو شہید کر دیا گیادسویں محرم یعنی عاشورہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی مٹی شیشی (بوتل) کے اندر خون ہوگئی۔ ترمذی شریف جلد دوم میں ہے کہ دس تاریخ (یوم عاشورہ) کو ایک عورت حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہاکی خدمت میں مدینہ شریف کے اندر حاضر ہوئی اسنے دیکھا حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہااشک بار ہیں عورت نے رونے کی وجہ پوچھی تو حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ میںنے ابھی ابھی خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ریش مبارک (داڑھی) مبارک گرد و غبار سے الجھے ہوئے ہیں۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی میں کربلا سے آ رہا ہوں آج میر ے حسین کو شہید کر دیا گیا۔ حضرت اُم المو منین رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ مجھے وہ مٹی یاد آ گئی جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ‘کی پیدائش کے وقت حضرت جبرائیل امین نے میدان کربلا سے لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی مجھے دے کر فرمایا تھا کہ ’’ اے اُم سلمہ اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کیونکہ جس دن میرا حسین شہید ہوگا یہ مٹی بھی خون ہو جائے گی۔‘‘ آج جب میں نے دیکھا تو وہ مٹی خون ہو چکی ہے جسے میں نے ایک شیشی کے اندر سنبھال کر رکھا تھا۔یوم عاشور کا سب سے اہم واقعہ یہی ہے جسمیں امام عالی مقام نے دین محمدی کی خاطر اپنا کنبہ قربان کردیا لیکن اسلام پر آنچ نہ آنے دی

اللہ تعالیٰ ہمیں فلسفہ کربلا سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pir Farooq Bahaul Haq Shah

Read More Articles by Pir Farooq Bahaul Haq Shah: 14 Articles with 3908 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Aug, 2021 Views: 324

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ