عالمی رابطہ سازی کا مرکز

(Shahid Afraz Khan, Beijing)
چین کا علاقہ سنکیانگ قدیم شاہراہ ریشم کی بدولت ہزاروں سال سے یوریشیائی علاقے میں چین کے تجارتی تعلقات کا بنیادی مرکز رہا ہے۔ چین کے مغرب میں واقع یہ علاقہ اپنے اسٹریٹجک محل وقوع کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی سرحدیں آٹھ ممالک بشمول پاکستان، منگولیا ، روس ، قازقستان ، کرغزستان ، تاجکستان ، افغانستان اور بھارت سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنکیانگ قدیم وقتوں سے ہی شاہراہ ریشم کی ترقی کے ساتھ ساتھ تجارتی اور ثقافتی روابط کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔چین کی اعلیٰ قیادت بھی اس علاقے کی ترقی کو خصوصی اہمیت دیتی ہے اورگزشتہ سال امور سنکیانگ سے متعلق تیسرے مرکزی سمپوزیم میں چینی صدر شی جن پھنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سنکیانگ کے جغرافیائی فوائد سے بھرپور استفادے کی خاطر اسے شاہراہ ریشم اقتصادی پٹی کے بنیادی علاقے کے طور پر ترقی دی جائے۔

اس ضمن میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ سنکیانگ کو بیرونی دنیا کے لیے مزید کھولتے ہوئے یہاں تعمیر و ترقی کو مزید فروغ دیا جائے۔ان کوششوں کو سنکیانگ کو آگے بڑھانے کے لیے ایک تاریخی مشن قرار دیا گیا ہے۔اس کا مقصد یہی ہے کہ چین اور متعلقہ ممالک کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تبادلوں کی ترقی کو مزید فروغ ملے ،یوں سنکیانگ کی ترقی کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بھی وسیع پیمانے پر مستفید ہو سکتے ہیں اور مشترکہ مفادات کا حصول ممکن ہے۔

حالیہ برسوں میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تناظر میں سنکیانگ میں بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے ترقی دی گئی ہے۔ سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی میں واقع بین الاقوامی لینڈ پورٹ کو ایک مربوط ریل ، روڈ اور فلائٹ لاجسٹک مرکز کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے تاکہ نہ صرف چین کے پڑوسی ممالک بلکہ چین۔یورپ ریلوے ایکسپریس کے ذریعے یورپ تک تجارت کو آسان بنایا جا سکے۔یہاں دورے کے دوران یہ بات تعجب انگیز لگی کہ اس وقت یہاں مجموعی طور پر 19 لائنیں فعال ہیں ، جو 21 ممالک کے 26 شہروں تک پہنچ رہی ہیں۔ یوں سنکیانگ کے آس پاس وسطی ایشیائی خطہ بشمول روس ، اور بحیرہ کیسپین اور بحیرہ اسود کے اطراف میں واقع ممالک وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ارمچی بین الاقوامی لینڈ پورٹ نے چین۔یورپ ریلوے ایکسپریس سسٹم کو ایک ایسے بنیادی مرکز میں ڈھال دیا ہے جو لاجسٹکس اور تجارت سمیت دیگر سہولیات فراہم کرتا ہے۔ لینڈ پورٹ کا رقبہ 67 مربع کلومیٹر ہے جبکہ یہاں عملے کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے ۔ یہاں فراہم کردہ سہولیات میں ریلوے کسٹم اور دیگر متعلقہ سرکاری خدمات بھی شامل ہیں۔ بکنگ ہال بھی 24 گھنٹے فعال ہے۔ اس پورٹ نے شہروں میں کئی لاجسٹک ہینڈلنگ کاروباری اداروں کی ترقی کو متحرک کیا ہے ، جس سے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ روزگار کے مواقع بڑھانے کے علاوہ ، گزشتہ چند سالوں میں بی آر آئی سے منسلک منصوبوں نے سنکیانگ کی مقامی صنعتوں کو بھی بھرپور فروغ دیا ہے ، مقامی صنعتوں کے لیے نئی بین الاقوامی منڈیاں کھلی ہیں اور نقل و حمل کے وقت اور لاگت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔مثلاً یہاں مقامی طور پر تیارشدہ کیچپ یورپ کو برآمد کیا جاتا ہے ۔پہلےسنکیانگ سے کیچپ کو سڑک یا ٹرین کے ذریعے تھیان جن بندرگاہ تک پہنچانا پڑتا تھا اور پھر ساحلی بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا تھا۔ پھر ایک مال بردار جہاز اسے یورپی مارکیٹ میں لے جاتا تھا۔ اس عمل میں 45 دن سے زیادہ کا وقت لگتا تھا۔ اب چین۔ یورپ ریلوے ایکسپریس فعال ہونے کے بعد ، ارمچی سے اٹلی کے تیسرے بڑے شہر نیپلس تک پہنچانے میں صرف 15 دن لگتے ہیں۔دوسری جانب تیز رفتار ریلوے نے سنکیانگ میں مسابقتی پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے ہیں۔ سنکیانگ کے اہم شہری مراکز اور ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ان کے رابطے کے درمیان گھٹتے ہوئے سفری وقت نے یہاں تجارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی ہے ، جس سے معاشی ترقی کو فروغ ملا ہے۔ لینڈ پورٹ کے علاقے کی تعمیر اور ترقی کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اندرون اور بیرون ملک روابط اور مشرق اور مغرب کے درمیان دو طرفہ باہمی تعاون کو جامع طور پر آگے بڑھایا جائے۔اس ضمن میں برآمدی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے منظم اور جامع لائحہ عمل اپنایا گیا ہے جبکہ درآمد کے نقطہ نظر سے بنیادی طور پر پڑوسی ممالک کی کچھ روایتی مصنوعات مثلاً اناج ، تیل اور لکڑی کے ساتھ ساتھ ملکی پیداوار اور کھپت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی صنعتی خام مال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے .اسی کے ساتھ ساتھ سنکیانگ کی مقامی صنعتیں بھی بھرپور فروغ پا رہی ہیں جن میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس سرفہرست ہے۔ہمیں زیر تعمیر انٹرنیشنل ٹیکسٹائل اینڈ گارمنٹس ٹریڈ سینٹر کا دورہ بھی کروایا گیا جسے جدید اور جامع پیمانے پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ سینٹر آئندہ سنکیانگ کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو عالمی سطح پر فروغ دینے اور بیرونی تجارتی روابط کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

مجموعی طور پر سنکیانگ کی تجارتی ترقی پر نگاہ دوڑائی جائے تو اس علاقے نے رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں تقریباً 97.4 بلین یوآن کی غیر ملکی تجارت ریکارڈ کی ہے جس میں سالانہ بنیادوں پر 9.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔جنوری سے اگست تک سنکیانگ کی برآمدات 76.51 ارب یوآن تک پہنچ چکی ہیں جبکہ درآمدات 20.88 ارب یوآن سے تجاوز کر گئی ہیں۔بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک کے ساتھ سنکیانگ کی بیرونی تجارت میں تقریباً 5 85.5 بلین یوآن کا اضافہ ہوا ہے۔حقائق کے تناظر میں قدیم شاہراہ ریشم سے لے کر آج بیلٹ اینڈ روڈ انیشٹو تک ، سنکیانگ چین کے لیے ایک بڑے تجارتی مرکز کے طور پر پنپ رہا ہے۔ یہ چین کی حالیہ دوہری گردش پر مبنی اقتصادی حکمت عملی کی ایک بہترین مثال کے طور پر بھی ابھرا ہے جس سے آئندہ عرصے میں دنیا کو بھی بے شمار ثمرات حاصل ہوں گے۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Afraz Khan

Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 362 Articles with 111134 views »
Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More
23 Sep, 2021 Views: 179

Comments

آپ کی رائے