سطح آب پر تیرتا نوری جام تماچی کا مقبرہ

(Rafi Abbasi, Karachi)
کینجھر جھیل میں تعمیری فن کا اچھوتا شاہ کار ہے

سطح آب پر تیرتا نوری جام تماچی کا مقبرہ
کینجھر جھیل میں تعمیری فن کا اچھوتا شاہ کار ہے

کراچی سے 122کلومیٹر کے فاصلے پرکلری یا کینجھر جھیل واقع ہے جو پاکستان میں میٹھے پانی کی دوسری بڑی جھیل ہےجو کراچی کو آب رسانی کا اہم ذریعہ ہے۔ یہ ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے اور حسن و جمال میں اپنی مثال آپ اورسندھ کا اہم تفریحی مقام ہے۔یہاںہر اتوار اورعام تعطیلات کے دنوں میں ہزاروں افراد سیر کرنے آتے ہیں۔ وہ موٹر سے چلنے والی کشتیوں پر جھیل کی سیرسے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں آنے والے سیاحوں کو جھیل کے عین وسط میں ایک مزار نظر آتا ہے جسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ سطح آب پر تیر رہا ہے۔ فن تعمیر کے ماہرین تقریباً 50 فٹ گہری جھیل میں مزار کا بنانا ، سول انجینئرنگ کا محیر العقول کارنامہ قرار دیتے ہیں ۔ اس مزار سے ’نوری جام تماچی ‘‘ کی محبت کی داستان جڑی ہوئی ہے جس کا ذکر سندھ کے صوفی شاعر، شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے صوفیانہ کلام میں کیا ہے۔

سمہ دورمیں ’’کینجھر جھیل‘‘ کے کنارے مچھیروں کی بستی تھی جہاں ماہی گیروں کی کثیرتعداد آباد تھی۔ ان مچھیروں کا رہنا سہنا زیادہ تر کشتیوں پر ہی ہوتا تھا۔ مردجھیل میں مچھلیاں پکڑتے اورعورتیں انہیں فروخت کرتی تھیں۔اسی دور میںایک مچھیرے کے یہاںبیٹی نے جنم لیاجو اتنی حسین و جمیل تھی کہ مچھیروں کی بستی کا ہر شخص اسے دیکھنے آیا۔ بچی کا چودھویں کے چاندجیسا روشن چہرہ اور پرنورصورت دیکھنے کے بعدبستی کےسردار نے فیصلہ کیا کہ اس کا نام ’’نوری‘‘ رکھا جائے۔ ’’نوری‘‘ جوں جوں بڑی ہوتی گئی، اس کے حسن جمال میں اضافہ ہوتاگیا۔لیکن وہ لوگوں کی بد نظر کا شکار ہوکرجوانی میں کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہوگئی۔ اس بیماری کی وجہ سے وہ سب سے منہ چھپاتی پھرتی تھی۔ایک روزاس بستی سے ایک بزرگ کا گزر ہواجنہیں سخت بھوک لگی تھی،انہوں نے نوری کا دروازہ کھٹکھٹایا۔اس کی والدہ نے دروازہ کھولا تو بزرگ نے ان سے مدعا بیان کیا۔ اس نے انہیں ٹھہرنے کا کہہ کر نوری کو آکر بتایا۔ نوری کو بزرگوں سے گہری عقیدت تھی۔ اُس نے انہیں گھر میں بلاکر عزت و احترام سے بٹھایا۔اس کے بعد جلدی جلدی کھانا تیار کرکے ان کی خدمت میں پیش کیا۔اس دوران بھی نوری بڑی سی چادر سے اپنا چہرہ اور جسم چھپانے کی کوشش کرتی رہی۔وہ اللہ کے نیک بندے اور صاحب کشف بزرگ تھے، نوری کی حرکات و سکنات دیکھ کر پہچان گئے کہ بچی کسی پریشانی مبتلا ہے۔کھانا تناول فرمانے کے بعدانہوں نے نوری سے پوچھا کہ وہ اس طرح اپنا چہرہ اور ہاتھ پیروں کوکیوں چھپائے کھڑی ہے، کیا پریشانی ہے؟ پہلے تو اُس نے ٹالنا چاہا پھر انتہائی دکھ سے بولی کہ’’ بابا جی، میں کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہوں، ہرشخص سے اپنا منہ اور ہاتھ پاؤں چھپائے پھرتی ہوں۔ بس زندگی کےآخری دن گن رہی ہوں، نہ جانے کب دنیا سے چلی جاؤں‘‘۔ بزرگ اس کا جواب سن کربے ساختہ بولے، ’’ بیٹی ، کس نے کہا کہ تمہیں کوڑھ ہے‘‘۔ یہ کہہ کرانہوں نےکچھ پڑھ کر دور سے ہی نوری پر دم کیا ۔ان کی پھونک میں اتنی قوت تھی نوری کا چہرہ ، ہاتھ پاؤں سمیت پورا جسم بالکل ٹھیک ہوگیااور کوڑھ کے داغ ، دھبے غائب ہوگئے۔ اس کے بعد وہ نہ صرف پہلے والی نوری ہوگئی بلکہ اس کے حسن و جمال کا یہ عالم ہوگیا کہ جواسے دیکھتا، اس کے سحرمیں مبتلا ہوجاتا۔

اس زمانے میں سندھ پر سمہ خاندان کے سردار جام انڑ کی حکمرانی تھی۔ ہندوستان کے بادشاہ، علاؤالدین خلجی نے سندھ پر حملہ کرکے بکھر کے قلعے پر قبضہ کرلیا اور جام انڑ اور اس کے سارے خاندان کو قیدی بنا کر اپنے پایہ تخت ، دہلی لے گیا۔ قید کے دوران جام انڑ نے وفات پائی، جس کے بعد علاؤالدین خلجی نے جام انڑ کے بیٹے، شہزادہ جام خیرالدین المعروف جام تماچی کوطلب کرکے حکم دیا کہ وہ فوراً بکھر جائے او ر اپنے قبیلے کی سرداری کے علاوہ سندھ کی حکومت سنبھالے۔ جام تماچی نے بکھرواپس آکر سندھ پر اپنی حکومت قائم کی۔ ٹھٹھہ میں قیام کے دوران ایک روز وہ کشتی میں بیٹھ کرکینجھر جھیل کی سیر کر رہا تھا کہ اتفاقاً اس کی نظرنوری پر پڑی۔ اس کی حسین و جمیل صورت دیکھ کر وہ پہلی ہی نظر میں اس کا دیوانہ ہوگیا،اور اسی روز بکھر واپس چلاگیا۔ جب وہ اپنے محل میں آکر بستر پر لیٹا تو نوری کی خوبصورت آنکھوں اور من موہنی صورت نے اس کا چین و سکون چھین لیا۔ آخرکار جام تماچی نے فیصلہ کیا کہ وہ ’’نوری‘‘ سے شادی کرے گا۔اس کے مصاحبین اور قریبی اعزا نے اسےسمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن ذات پات اور اونچ نیچ ،نوری کے حسن کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ جام تماچی نے ’’نوری‘‘ کے رشتہ داروں کو اپنے محل میں طلب کرکے نوری کا رشتہ مانگا ۔ نوری کے عزیز و اقارب،بادشاہ کی دامادی کواپنی خوش قسمتی تصور کرتےہوئےفوراً رضامندہوگئے۔اس کے عوض ماضی میںسمہ حکم رانوں کی جانب سے مچھیروں سے جو محصول وصول کیاجاتا تھا، جام تماچی کے حکم سے اسے معاف کر دیا گیا، جس کے بعد غریب مچھیروں کے دن پھر گئے اور وہ چین و سکون کی زندگی بسر کرنے لگے۔

شادی کی تاریخ طے ہوئی اورمقررہ دن نوری، جام تماچی کی رانی بن کر محل میں آگئی۔شادی کے بعد اسےمعلوم ہوا کہ بادشاہ، شادی شدہ تھا اورمحل میں اس کی سات بیگمات پہلے سے موجود تھیں۔لیکن جام تماچی نے نوری کو دوسری بیگمات پرترجیح دیتے ہوئے اسے ’’مہارانی ‘‘ کا رتبہ دے دیا، جس کے بعد تمام ملکاؤںپر نوری کی اطاعت اور فرماں برداری لازمی ہوگئی۔لیکن اس کے بعدوہ نوری سے حسد کرنے لگیں اور اسے نقصان پہنچانے اور بادشاہ کی نظروں سے گرانے کے طریقے ڈھونڈنے لگیں۔دوسری جانب بادشاہ کے درباریوں اور محل کےملازمین نے بھی اسےصرف اس وجہ سے مہارانی کی حیثیت سے قبول کرنے سے انکار کردیاکیوں کہ وہ ایک غریب مچھیرے کی بیٹی تھی۔جام تماچی نے اس پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے نوری کو نہ صرف محل میں تعظیم و تکریم دلائی بلکہ اہل ٹھٹھہ کے سامنے بھی اسے سمہ خاندان کی ’’مہارانی ‘‘ کے طور پر روشناس کرایا۔ نوری سادہ دل کی مالک تھی ،وہ اپنی ساتوں سوکنوں سے عزت و احترام سے پیش آتی جب کہ درباریوں اور ملازمین کی ضرورتوں کا خاص خیال رکھتی تھی۔ لیکن اس کے برعکس ،ساتوں بیگمات ملازمین کے ساتھ مل کر نوری کے خلاف سازشیں کرکے بادشاہ کو اس سے بدگمان کرنے کی کوششیں کرتیں۔اس کے باوجودجام تماچی کے دل میں نوری کے لیے بے پناہ چاہت تھی ۔

ایک روز درباریوں اور بڑی بیگمات نے جام تماچی سے کہا کہ ہر تیسرے روز نوری کا بھائی محل میں آتا ہے جسے وہ لکڑی کے باکس میں زیورات اور مال و زر بھر کر دیتی ہے۔بادشاہ پر یہ سن کر سکتہ طاری ہوگیا اور وہ وقتی طور پر نئی ملکہ سے بدگمان ہوگیا ۔ اس نے ملازمین یا درباریوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے جب اس الزام کی خود چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ نوری کومحل کے کھانے پسند نہ تھے جب کہ شادی سے قبل وہ مچھلی اور اس کے کانٹے کھاتی رہی تھی۔ اس کا بھائی اس کے لیے لکڑی کے بکس میں مچھلی اور اس کے کانٹے لاتا ہے ، جنہیں کھا کر وہ بکس اسے واپس کردیتی ہے۔ بادشاہ کو اپنی بیگمات کی دروغ گوئی سے بہت قلق ہوا اور اس کے دل میں نوری کی محبت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی۔ لیکن نوری کو اس بات کا اتنا صدمہ ہوا کہ اس واقعے کے بعدوہ کچھ ہی عرصے زندہ رہ سکی۔ اس کے مرنے کے بعد جام تماچی نے اس کی خواہش پر جھیل کے وسط میں اسے دفن کرکے سطح آب پراس کا مزار بنوایاجو تعمیری فن کا اچھوتا شاہ کار ہے۔جام تماچی بھی اسی مقبرے میں نوری کے برابر میں مدفون ہے، اسی لیے یہ نوری جام تماچی کے مزار کے نام سغ مشہور ہے۔ پاکستان کے دور دراز کے علاقوں سے اس جھیل کی تفریح کی غرض سے آنے والےبیشتر سیاح کشتی پر بیٹھ کر نوری جام تماچی کے مزار پربھی حاضری دیتے ہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 180 Articles with 105787 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Nov, 2021 Views: 560

Comments

آپ کی رائے