قُرآنی معاشرے کا تیسرا قانُونِ معاشرت !!

(Babar Alyas , Chichawatni)

#العلمAlilm علمُ الکتاب سُورَةُالاَحزاب ، اٰیت 33 ، 34 اخترکاشمیری
علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !!
براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں !!
اٰیات و مفہومِ اٰیات !!
و
قرن فی
بیوتکن و
لا تبرجن تبرج
الجاھلیة الاولٰی
واقمن الصلٰوة واٰتین
الزکٰوة واطعن اللہ ورسوله
انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس
اھل البیت ویطھرکم تطھیرا 33 واذکرن
مایتلٰی فی بیوتکن من اٰیٰت اللہ والحکمة ان اللہ
کان لطیفا خبیر 34
جن شادی شدہ عورتوں کو ھمارے سابقہ اَحکام مل چکے ہیں اُن تمام شادی شدہ عورتوں کے لیۓ ھمارا موجودہ حُکم یہ ھے کہ تُم اپنے لَمحہِ موجُود سے لے کر اپنے لمحہِ موت تک دن چڑھے جو گھر سے نکلو تو دن ڈھلے لازما گھر میں واپس پُہنچ جاؤ اور تُم اپنے دن اور رات کے اِن تمام اوقاتِ کار میں فکری و قلبی طور پر اللہ کی اُن اٰیات و ھدایات کے ساتھ مُنسلک رہو جن اٰیات و ھدایات میں سے کُچھ اٰیات و ھدایات اِس سے پہلے تُم تک پُہنچ چکی ہیں اور کچھ اٰیات و ھدایات اِس کے بعد بھی تُم تک پہنچتی رہیں گی ، تُم اپنے گھر کے اندر اور باہر کے ان دونوں اوقات و مقامات پر دورِ جاہلیت کی اُن انسانی سرمستیوں سے دُور دُور رہنا جن انسانی سرمستیوں نے انسانی اَخلاق و عادات کو جہالت کی پستیوں میں دھکیل دیا ھے ، ھماری ان اٰیات و ھدایات پر عمل کا یہی واحد طریقہ ھے کہ تُم ہمیشہ ہی اللہ کے بناۓ اور رسُول کے بتاۓ ہوۓ اس قُرآنی نظام کی اتباع کرو اور اسی سے اپنا تزکیہِ جان و مال اور تسویہِ فکر و خیال بھی کرو اور اسی نظام کے سکھاۓ اور سمجھاۓ ہوۓ طریقوں کے مطابق اللہ و رسول کی اطاعت کیا کرو کیونکہ اللہ تعالٰی نے اِس اَمر کا حتمی فیصلہ کر لیا ھے کہ وہ تُمہارے دلوں کو علم و حکمت کی اسی کتاب کے ذریعے پاکیزہ سے پاکیزہ تر بناۓ جس کتابِ علم و حکمت کی تُمہارے گھروں میں بھی تلاوت و تعلیم شروع ہوچکی ھے ، اگر تُم اللہ کی اِن اٰیات و ھدایات پر اسی طرح عمل کرتی رہو گی جس طرح ھم نے بتایا ھے تو اللہ تُم کو اسی طرح اس دُنیا میں بھی اپنی اُن دائمی راحتوں اور رحمتوں کی خوشخبریاں دیتا رھے گا جن دائمی راحتوں اور دائمی رحمتوں کی تُمہارے جسموں اور تُمہاری جانوں کو ہمیشہ ضرورت رہتی ھے !
مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات !
اِس سُورت کی سابقہ پانچ اٰیات میں سے پہلی دو اٰیات میں سیدنا محمد علیہ السلام کی اور دُوسری تین اٰیات میں سیدنا اَصحابِ محمد علیہ السلام کی جن بیویوں کو جو اَحکام دیۓ تھے اِس سُورت کی اِن موجُودہ دو اٰیات میں بھی سیدنا محمد علیہ السلام اور سیدنا اَصحابِ محمد علیہ السلام کی اُن ہی بیویوں کو اللہ تعالٰی نے یہ حتمی حکم دیا ھے کہ وہ اِس تنزیل کی تعمیل و تکمیل کے لیۓ اپنی حیات کے لَمحہِ موجُود سے لے کر اپنی حیات کے لَمحہِ موت تک اِن ہی اٰیات و ھدایات کے ساتھ مُتعلق و مُنسلک ہو کر اور مُتعلق و مُنسلک رہ کر ہمیشہ اِن ہی اٰیات و ھدایات پر عمل کرتی رہیں جو اٰیات و ھدایات اُن تک اِس سے پہلے بھی پُہنچ چکی ہیں اور اِس کے بعد بھی پُہنچتی رہیں اور اُس قدیم زمانے کی قدیم جہالت کی اُن تمام انسانی سرمستیوں سے ہمیشہ دُور رہیں جس قدیم زمانے کے قدیم انسان نے اِس نوشتہِ اٰیات و ھدایات کو فراموش کر دیا تھا جو نوشتہِ اٰیات و ھدایات پہلے اُس زمانے کے اُن لوگوں کو عمل کے لیۓ دیا گیا تھا اور اَب تُمہارے زمانے میں تُم لوگوں کو بھی عمل کے لیۓ دیا گیا ھے اور تمہیں اِس بات کا موقع دیا گیا ھے کہ تُم اپنے حسنِ عمل سے اپنے آپ کو اُن پہلے لوگوں سے زیادہ بہتر ثابت کر سکو ، اٰیاتِ بالا میں جو چار تشریح طلب الفاظ وارد ہوۓ ہیں اُن چار تشریح طلب الفاظ میں سے پہلا تشریح طلب لفظ "قرن" ھے جس کا ایک لُغوی معنٰی ایک انسان کا کسی دُوسرے انسان کے فکر و خیال سے مُتفق و مُنسلک ہونا ہوتا ھے لیکن اگر اُس انسان کا اُس انسان کے ساتھ وہ اتفاق مُثبت ہو اور اَمرِ مُثبت کے لیۓ ہو تو وہ مُثبت اتفاق"قران السعدین" ہوتا ھے اور اگر اُس پہلے انسان کا دُوسرے انسان کے ساتھ وہ اتفاق مَنفی ہو اور اَمرِ مَنفی کے لیۓ ہو تو وہ مَنفی اتفاق" قران الشیطان" ہوتا ھے جو ایک انسان نما شیطان دُوسرے انسان نما شیطان کے ساتھ کرلیتا ھے ، قرن کا دُوسرا معنٰی کسی انسان کا کسی دُوسرے انسان کی اتباع میں مصروف و مُنہمک ہونا بھی ہوتا ھے اور ظاہر ھے کہ اگر وہ انسان خالق کے اَحکام کی تعلیم و تفہیم کے لیۓ کسی کی اتباع کر رہا ھے تو وہ اُس انسان کی ایک عملی سعادت ھے لیکن اگر وہ انسان مخلوق کے غیر قُرآنی اَحکام کی تعلیم و تفہیم کے لیۓ کسی انسان کی اتباع کر رہا ھے تو وہ اُس انسان کی عملی شقاوت ھے اِس لیۓ اللہ تعالٰی نے اپنے رسُول و اَصحابِ رسُول کی بیویوں کو اِس اَمر کا پابند بنایا ھے کہ وہ قُرآن کے اَمرِ ھدایت کی اتباع کر کے ہمیشہ ہی سعادت حاصل کرتی رہیں اور قُرآن کے اَمرِ ھدایت کے خلاف کسی اَمرِ غیر ھدایت کی اتباع کر کے اہلِ شقاوت کے قافلے میں کبھی بھی شامل نہ ہوں ، اٰیاتِ بالا میں جو دُوسرا تشریح طلب لفظ ھے"بیوت" ھے وہ اُس واحد اسمِ بیت کی جمع ھے جو بیت اپنی صورت لے کر انسانی بصارت میں آۓ تو ایک مُجرد نشان ہوتا ھے اور اپنی صوت لے کر انسانی سماعت میں آجاۓ تو وہ ایک مُکمل بیان ہوتا ھے اور اُس طے شدہ بیان کا طے شدہ مفہوم کسی مقام پر شب بسری کرنا ہوتا ھے اور قُرآنِ کریم نے قرن اور بیت کے آگے پیچھے آنے والے ان دونوں الفاظ کے ذریعے نبی و اَصحابِ نبی کی اُن تمام بیویوں کو یہ حکم دیا ھے کہ اگر وہ دن چڑھے کسی کام کے لیۓ گھر سے باہر جائیں تو دن ڈھلے تک وہ لازما اپنے اُس حفاظتی حصار میں واپس آجائیں جس کا نام بیت یا گھر ھے کیونکہ اگر ایک شادی شدہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ گھر سے باہر جانے کے بجاۓ اکیلی ہی گھر سے باہر چلی گئی ھے تو دن ڈھلنے کے بعد گھر سے باہر ہر زمین کے ہر مقام اُس کے لیۓ ہر طرف خطرات ہی خطرات ہوتے ہیں اِس لیۓ اُس کی حفاظتِ جان اور حفاظتِ ایمان کا تقاضا ھے کہ اگر وہ تنہا گھر سے باہر جائیں تو جتنی بھی جلدی ہو سکے اتنی ہی جلدی وہ اُس شہر و بازار کے اُن خطرات سے نکل کر اپنے اُس محفوظ گھر کے اُس محفوظ حصار میں پُہنچ جائیں جو گھر ہر انسان نے اپنی حفاظت کے لیۓ بنایا ہوتا ھے اور ہر انسان کو اُس کا وہ گھر ہی اُس کی وہ مطلوبہ حفاظت فراہم کر سکتا ھے جس کی ہر انسان کو ہر روز ضرورت ہوتی ھے ، اٰیاتِ بالا میں وارد ہونے والا تیسرا لفظ "تبرج" ھے جس کا مقصدی معنٰی کسی انسان کا اپنے جسم اور لباس کو کسی مصنوعی طریقے سے نمایاں کر نا اور اُس کے ذریعے اپنی شخصیت کو اِس طرح اُجاگر کرنا ہوتا ھے کہ جس اجنبی نے اُس کو توجہ سے نہیں بھی دیکھنا ہوتا ھے تو وہ اُس کے اِس نمائشی اور فرمائشی اظہارِ جسم و لباس کے بعد لازما دیکھتا ھے اِس لیۓ قُرآنِ کریم نے اپنی اِن اٰیات و ھدایات پر عمل کرنے والی تمام عورتوں کو اِس نمائشی عمل سے بھی منع کیا ھے اور اٰیاتِ بالا میں آنے والا چوتھا لفظ "رجس" ھے جس کا معنٰی اونٹ کی معلوم آواز کا معدوم ہونا ، بادلوں کی سنائی دینے والی گرج کا بند ہونا ، اَمواجِ سمندر کی آواز کا رُک جانا اور انسان کے انسان کی نظر آنے والے اعمال کا نظر آتے آتے نظر سے اوجھل ہوجانا ہوتا ھے اور اِن موجُود چیزوں کا غیر موجُود ہونا اِن کا ایک مُثبت کیفیت سے نکل کر ایک مَنفی کیفیت میں داخل ہونا ہوتا ھے اِس لیۓ قُرآنِ کریم نے قُرآن پڑھنے والی اُن تمام عورتوں کو اللہ تعالٰی کے اِس حُکم سے آگاہ کیا ھے کہ اگر ایک سُننے والے کان کو سنائی دینے والی آواز کے سُنائی نہ دینے کا اور دیکھنے والی آنکھ کو نظر آنے والی چیز کے نظر نہ آنے کا فورا ہی ادراک ہوجاتا ھے تو پھر یہ کس طرح مُمکن ھے کہ تُمہاری کوئی ظاہری یا پوشیدہ حرکت اور تُمہارا کوئی دیدہ و نادیدہ عمل اللہ تعالٰی کی چشمِ بینا سے چُھپا ہوا رہ جاۓ اِس لیۓ تُم اپنے ہر مُثبت و مَنفی عمل کے بارے میں یقین رکھو کہ وہ اللہ تعالٰی کے علم و نظر میں ھے اور اللہ تعالٰی نے تُمہارے اِن ہی مُثبت و مَنفی اعمال پر تُم کو اپنے مقررہ وقت پر دُنیا و آخرت میں جزا یا سزا دینی ھے ، یہ اللہ تعالٰی کا ایک قانُونِ عام ھے جو ہر خاص و عام کے لیۓ عام ھے اور اِس قانُون کا ہر ایک فردِ بشر اور ہر ایک فردِ بشر کے ہر ایک گھر اور گھرانے پر اطلاق ہوتا ھے ، اہلِ روایت کے جس احمق طبقے نے اللہ تعالٰی کے اِس فرمان کو جس خاص گھر اور جس خاص گھرانے کے ساتھ جوڑنے کی احمقانہ کوشش کی ھے تو وہ احمق طبقہ چند اَفراد کے چند گھروں اور چند گھرانوں کو اپنی خواہش کے مطابق پاک ثابت کر سکا ھے یا نہیں کر سکا ھے لیکن اُس نے ہر انسان کے ہر گھر اور ہر گھرانے کو اپنی حماقت سے ناپاک ضرور بنادیا ھے !!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 630 Articles with 221426 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
21 Nov, 2021 Views: 132

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ