قُرآنی معاشرے کا آخری قانُونِ معاشرت !!

(Babar Alyas , Chichawatni)

#العلمAlilm علمُ الکتاب سُورَةُالاَحزاب ، اٰیت 35 ، 36 اخترکاشمیری
علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !!
براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں !!
اٰیات و مفہومِ اٰیات !!
ان المسلمین
والمسلمٰت والمؤمنین
والمؤمنٰت والقٰنتین والقٰنتٰت
والصٰدقین والصٰدقٰت والصٰبرین
والصٰبرٰت والخٰشعین والخٰشعٰت
والمتصدقین والمتصدقٰت والصائمین
والصٰئمٰت والحٰفضین فروجھم والحٰفضٰت
والذٰکرین اللہ کثیرا والذٰکرٰت اعداللہ لھم مغفرة
و اجرا عظیما 35 وماکان لمؤمن ولامؤمنة اذاقضی
اللہ ورسوله امرا ان یکون لھم الخیرة من امرھم ومن
یعص اللہ ورسولهٗ فقد ضل ضلٰلا مبینا 36
ہرایک تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ہو چکی ھے کہ حق کو تسلیم کرنے والے تمام مرد اور حق کو تسلیم کرنے والی تمام عورتیں ، حق پر ایمان لانے والے تمام مرد اور حق پر ایمان لانے والی تمام عورتیں ، فرمانِ حق ماننے والے تمام مرد اور فرمانِ حق ماننے والی تمام عورتیں ، راستی اختیار کرنے والے تمام مرد اور راستی اختیار کرنے والی تمام عورتیں ، صبر کرنے والے تمام مرد اور صبر کرنے والی تمام عورتیں ، فروتنی اختیار کرنے والے تمام مرد اور فروتنی اختیار کرنے والی تمام عورتیں ، خیرات دینے والے تمام مرد اور خیرات دینے والی تمام عورتیں ، بَدکاری سے باز رہنے والے تمام مرد اور بَدکاری سے باز رہنے والی تمام عورتیں ، جسم کے چُھپے حصوں کو چُھپاۓ رکھنے والے تمام مرد اور جسم کے چُھپے حصوں کو چُھپاۓ رکھنے والی تمام عورتیں اور حق کا پاس رکھنے والے یہ سارے کے سارے مرد و زن اللہ کی طرف سے اللہ کی خطا پوشی و مہربانی کے حق دار ہوجاتے ہیں لیکن یہ بات بھی یاد رھے کہ جن ایمان دار مرد و زَن کی ایمان داری کا ذکر کیا گیا ھے اگر وہ ایمان دار مرد و زَن اللہ و رسُول کا فیصلہ صادر ہونے اور سُن لینے کے بعد اپنی مرضی سے دست بردار ہوجاتے ہیں لیکن جو ایمان دار مرد و زَن اللہ اور رسُول کے فرمان کی نافرمانی کرتے ہیں تو وہ حق کے اِس راستے سے دُور ہو جاتے ہیں !
مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات !
مدینے کی ریاست پر اَحزابِ عرب کا حملہ اگر ہجرتِ کے پانچویں برس ہوا تھا تو اُس وقت تک مدینے کے مہاجر و اَنصار کی علمی و عملی اور سیاسی و معاشرتی تربیت پر چار برس اور چند ماہ گزر چکے تھے اور جنگِ اَحزاب کے نتائج سے سیدنا محمد علیہ السلام کو اِس اَمر کا یقین ہوگیا تھا کہ اِس جنگ کے بعد اہلِ ایمان کی اِس جماعت کو جو بھی مُشکلات پیش آئیں گی اہلِ ایمان کی یہ جماعت اُن تمام مُشکلات کا پُوری پامردی کے ساتھ مقابلہ کر لے گی اور اہلِ کفر و اہلِ نفاق کے لیۓ اِس کے وجُود کو ختم کرنے کا وہ خواب اِس آسانی سے کبھی بھی شرمندہِ تعبیر نہیں ہو گا جس آسانی کے ساتھ وہ اپنے اِس خواب کو شرمندہِ تعبیر کرنا چاہتے ہیں لیکن اِن دفاعی جنگوں کے لیۓ جس قدر مردوں کی مردانگی کی ضروت ہوتی ھے اسی قدر عورتوں کی فرزاندگی کی بھی ضروت ہوتی ھے چانچہ جیسے ہی مردوں کی علمی و عملی تربیت مُکمل ہوئی تو اللہ تعالٰی کی طرف سے عورتوں کی اُس معاشرتی تربیت کا وہ حُکم آگیا جو اِس سُورت کی اٰیت 28 سے اٰیت 34 تک جاری رہا ھے اور جس کا قُرآنی معاشرے کے پہلے ، دُوسرے ، تیسرے اور آخری قانُونِ معاشرت کے عنوانات کے تحت ھم نے ذکر کیا ھے ، مرد و زَن کی اِس جُدا گانہ علمی و عملی تربیت کے بعد موجُودہ دو اٰیات میں مرد و زَن کے اُس مُشترکہ سیشن session کے مُشترکہ خطاب میں اُن مومن و مُسلم مرد و زَن کی اُن 10 مُشترکہ صفاتِ حسنہ کا ذکر کیا گیا ھے جو اِس علمی و فکری اور سیاسی و اَخلاقی تربیت کے بعد اِن میں پیدا ہونی چاہئیں ، اگر وہ 10 صفاتِ حسنہ اِن میں پیدا ہو چکی ہیں تو اِن کی تربیت یقیناً قابلِ اطمینان ھے اور اگر وہ 10 صفاتِ حسنہ اِن میں پیدا نہیں ہوئی ہیں تو اِن کو اپنے جسم اور اپنی رُوح پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ھے اور چونکہ یہ صفاتِ ایمان ایک ترتیب کے ساتھ بیان کی گئی ہیں اِس لیۓ ہر انسان اپنی قُرآنی تربیت کا یہ نقش اور نقشہ دیکھ کر جان سکتا ھے کہ کون سی صفت اُس کی ہستی میں موجُود ھے اور کون سی صفت اپنی ہستی میں زندہ و بیدار کرنے کی ابھی بھی اُس کو ضرورت ھے تاہم انسانی معاشرت کا یہ ایک ہی زیرِ بحث شُعبہ ھے جس کا اِن اٰیات کے اِس سلسلہِ کلام میں ذکر کیا گیا ھے ، جہاں تک انسانی معاشرت کے دُوسرے شُعبوں کا تعلق ھے تو قُرآنِ کریم نے اٰیاتِ بالا کی دُوسری اٰیت میں انسان کو اِس کا یہ آسان حل بتایا ھے کہ انسانی حیات کو قُرآن کے رنگ میں رنگنے کا طریقہ یہ ھے کہ قُرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی کے جو اَحکامِ امر و نہی وارد ہوۓ ہیں اُن اَحکامِ اَمر و نہی کی ایک جامع الجہات فہرست List مُرتب کی جاۓ اور انسانی حیات کے بارے میں اللہ تعالٰی اور اُس کے رسُول کا قُرآن میں جو جو اَمر وارد ھے اور جو جو نہی وارد ہوئی ھے اُس کو ہُوبہُو اسی طرح اپنے قول و عمل کے لیۓ قبول کیا جاۓ جس طرح کہ وہ قُرآنِ کریم کی اٰیات میں موجُود ھے کیونکہ اِس اٰیات کے مطابق اللہ تعالٰی اور اُس کے رسُول کے اِن اَحکامِ امر و نہی کو قبول کرنے کی شرطِ لازم یہ ھے کہ جو انسان اِس کتابِ ھدایت کے کسی تحریری فیصلے کو اپنی راۓ سے بدلنا چاھے گا تو یہ اُس کا ایک قابلِ مواخذہ جُرم ہوگا جس کی اُس کو اِس دُنیا کی اِس زندگی میں بھی کسی نہ کسی شکل میں کوئی نہ کوئی سزا ملے گی اور اِس زندگی کے بعد ملنے والی زندگی میں بھی ہر وہ سزا ملے گی جو قُرآنِ کریم نے مُختلف اٰیات و مقامات میں پُوری شرح و تفصیل کے ساتھ بیان کی ہوئی ھے !!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 636 Articles with 221702 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
22 Nov, 2021 Views: 268

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ