محمد حفیظ ( پاکستان کرکٹ ٹیم ایک ستارے سے محروم ہوگئی)

(Syed Mansoor Hussain, Karachi)
محمد حفیظ کا کرکٹنگ کیرئیر ہمیں یہ سیکھ دیتا ہے کہ نامساعد و مشکل ترین حالات میں وطن کی حرمت پر آنچ نہ آنے دی جائے اور جو کوئی اسکا مرتکب ہو اسکو علی الاعلان للکارا جائے۔

قارئین!
کہا جاتا ہے کہ جو انسان اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتا کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال پاکستانی کرکٹ ٹیم کو الوداع کہنے والے محمد حفیظ کا بھی ہے۔

ایک وقت تھا کہ جب پاکستانی بالنگ اٹیک آف سپنرز، لیگ اسپنرز، پیسرز کے بہترین کمبینیشن کا مظہر ہوا کرتی تھی۔ بلے باز چاہے کتنا بھی اسکور کرلیں گیند بازوں کے پاس جب کھیل آتا تھا تو راقم بغیر کسی فکر کے میچ سے محظوظ ہوتا تھا۔ پھر 2010 کا بدقسمت سال آیا کہ جب پیس بیٹری کی جیسے جان ہی نکل گئی۔

بین الاقوامی سطح پر مانے جانے والا پیس اٹیک فکسرز کی بھینٹ چڑھ گیا۔ایسے میں عمر گل، وہاب ریاض، شاہد آفریدی محمد حفیظ سعید اجمل 2011 کے ورلڈکپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیمی فائنل تک لے کر جاتے ہیں اور دنیائے کرکٹ میں پاکستان کے وقار کو گراوٹ کا شکار ہونے نہیں دیتے۔

انہی آل راؤنڈرز میں ایک ہیں محمد حفیظ. جی ہاں ! پروفیسر کہ جن کی کرکٹ کی سمجھ اور کلین ہٹنگ کے شیدائ دنیا بھر میں موجود ہیں۔

جنہوں نے اس وقت کرکٹ ٹیم کو سنبھالا کہ جب کرکٹ پاکستان اپنے بدترین دور سے گزر رہی تھی۔

جنہوں نے اس کرکٹ ٹیم کو ان وقتوں میں سنبھالا کہ جب دہشتگردی، میچ فکسنگ، انتظامیہ کی بدعنوانیوں کے سبب یہ سبز ہلالی پرچم زیب تن کرنے والے مایوسی کا شکار تھے۔

جنہوں نے اپنی انگلیوں سے الٹے ہاتھ کے بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچایا۔

جنہوں نے پاکستان کرکٹ کی عالمی لیگز میں نمائندگی کی تو پاکستان کا نام مزید بہتر کردیا۔

انکے کرکٹ کے اعداد و شمار پر آج میں بات نہیں کروں گا۔ وہ سب کے سامنے ہیں۔ آج اس مدعا پر بات کی جائے کہ جس سے ہر محب وطن پاکستانی کا بلواسطہ یا بلا واسطہ پڑتا ہے۔ جی ہاں !!! وہ فیکٹر ہے فیورٹ ازم۔ جس نے گرین شرٹ کے وقار کو ہمیشہ نیچے کی طرف دھکیلا ہے۔

اسی فیورٹ ازم نے آج اس کھلاڑی کی آنکھیں پرنم کر دیں۔

وہ کھلاڑی جب آج پریس کانفرنس میں بیٹھا تو وہ دل برداشتہ ہوکر یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ جب " مجھے وطن کی عزت نیلام کرنے والوں کیساتھ ڈریسنگ روم شئیر کرنا پڑا تو وہ لمحہ اپنے اندر میرے لئے کرب سمیٹے ہوئے تھا"

ایسا کیونکر کہا ہوگا اس نے ؟

ظاہر ہے جب ظالم اپنی تمام تر ظلم کے بعد بھی تمام کریڈٹ کا حقدار بنے تو ہر ذی شعور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جب بے ایمانی سے سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے تو پھر ایمانداری کی چکی کیوں پیسی جائے ؟

ایسے میں وہ لوگ جو اس چکی پیسنے کو بدعنوانیت پر ترجیح دیتے ہیں تو دنیا ان کو آنکھوں پر بٹھاتی ہے جس کی مثال محمد حفیظ کی شکل میں آ پ کے سامنے ہے۔

بڑے لوگوں کی زندگی سبق دیتی ہے۔
محمد حفیظ کا کرکٹنگ کیرئیر ہمیں یہ سیکھ دیتا ہے کہ نامساعد و مشکل ترین حالات میں وطن کی حرمت پر آنچ نہ آنے دی جائے اور جو کوئی اسکا مرتکب ہو اسکو علی الاعلان للکارا جائے۔

اور یہی تو حق کی تعریف ہے۔

متلاشی حق
سید منصور حسین (مانی)

#HafeezRetires

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Mansoor Hussain

Read More Articles by Syed Mansoor Hussain: 26 Articles with 7896 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jan, 2022 Views: 583

Comments

آپ کی رائے