ٹرف پر کرکٹ اور لالہ ایوب ہاکی ٹرف کو ٹھکانے لگانے کیلئے کوشاں افسران

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم کے آسٹرو ٹرف سے اکھاڑے جانیوالے آسٹرو ٹرف کو کہاں پر رکھاجائیگا یا اسے فٹ سال کے گراﺅنڈ کیلئے استعمال کیا جائیگا ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن لمبائی میں کم و بیش 150 یارڈ اور چوڑائی میں 80 یارڈ کے آسٹروف ٹرف کو ذاتی استعمال میں لانے کیلئے سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے بعض افسرا ن نے رابطے شروع کردئیے ہیں تاکہ وہ کروڑوں روپے مالیت کے اس آسٹرو ٹرف کو اپنے گھر میں لے جا کر استعمال کرسکیں. یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کے حلقہ میںبننے والے ایبٹ آباد کے واحد آسٹروٹرف جہاں سے اٹھایا گیا تھا وہ مخصوص افسران اپنے گھروں میں لے گئے ہیں اور وہ یہ ٹرف اپنے گھروں میں استعمال کررہے ہیں حالانکہ یہ ٹرف فٹ سال کے گراﺅنڈ میں بھی استعمال ہوسکتا تھا لیکن چونکہ ڈیپارٹمنٹ میں رہنے کاایک فائدہ یہ ہے کہ سرکار کے مال کو افسران اپنے باپ کا مال سمجھ کر گھر لے جانا اپنا حق سمجھتے ہیں.

پشاور کے تاریخی اسلامیہ کالج جو اب یونیورسٹی بن چکی ہے کے آسٹرو ٹرف پر ہاکی کے بجائے کرکٹ کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والے آسٹرو ٹرف پر ہاکی کے بجائے کرکٹ کھیلی جارہی ہیں.کم و بیش تین ماہ قبل وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے پشاور کے دوسرے بڑے آسٹرو ٹرف کا افتتاح کیا تھا اور اس پر صوبائی حکومت کے 90.304 ملین روپے کی لاگت آئی تھی جو کہ غریب عوام کے ٹیکسوں سے وصول ہونیوالی ان کی خون پسینے کی کمائی ہے.پشاور سپورٹس کمپلیکس کے بعد اسلامیہ کالج میں دوسرا بڑا ٹرف اس لئے بنایا گیا تھا کہ یہاں پر قومی کھیل ہاکی کو بھی فروغ ملے گا اور ایک نیاآسٹروٹرف بھی سامنے آجائیگا.
وزیراعلی خیبر پختونخواہ محمودخان نے اس کا افتتاح کیا تھا اور اسے ہاکی کے کھیل کیلئے سنگ میل قرار دیا تھا افتتاح کے تقریب ایک ہفتے بعد اس گراﺅنڈ پر کے پی ہاکی لیگ کا میچ بھی کرایا گیا لیکن خیبر پختونخواہ ہاکی ایسوسی ایش اور صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے زیر انتظام ہونیولے اس میچ کے دوران بھی عجیب صورتحال دیکھن کو ملی کیونکہ آسٹرو ٹرف کیلئے پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا . جس کے باعث بالٹیوں میں پانی لا لاکر گراﺅنڈ پر ڈالا جاتا رہا ، ہاکی سے وابستہ ماہرین نے آسٹرو ٹرف کے معیار پر بھی اعتراض کیا تھا اور کہا تھاکہ اس میں رنکل آئے ہیں اور بعض جگہوں پر ٹرف کا بیس بہتر نہ ہونے کی وجہ سے کھڈے بنے ہوئے ہیں اور یہ تقریبا افتتاح کے دس دن بعد کی صورتحال تھی..
تاریخی اسلامیہ کالج و یونیورسٹی کے گراﺅنڈ پر بننے والے اس آسٹرو ٹرف کی منظوری بھی سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ نے دی تھی اور اس کی نگرانی بھی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے انجنیئرنگ ونگ نے کی ہی کی تھی. لیکن قومی ہاکی کھیل کے بارے میں گھنٹوں مائیک پر باتیں کرنے والے اور اپنے آپ کو بین الاقوامی ہاکی کھلاڑی متعارف کرنے والے اس معاملے میں ابھی تک خاموش ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اتنے بڑے منصوبے کا پہلے کسی نے سوچا بھی تھاکہ نہیں کیونکہ سڑک کنارے بننے والے اس آسٹرو ٹرف پر روڈ کی ساری گرد روزانہ کی بنیاد پر گرتی جاتی ہیں. نہ تو اس کے سائیڈ پر کھیل کو دیکھنے والوں کیلئے کوئی جگہ بنائی گئی اور نہ ہی اس کیلئے پانی کا کوئی انتظام کیا گیا .تو کیا یہ منصوبہ جلد بازی میں شروع کیا گیا یا پھر صرف "آنکھوں میں سرمہ ڈالنے والی بات "ہے جو صوبائی وزیراعلی خیبر پختونخواہ کی وزارت ہونے کی وجہ سے انہیں خود اوراپنے ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران سے کرنے کی ضرورت ہے.کیا مہنگائی کی ماری عوام سے نکلنے والے ٹیکسوں کے پیسوں سے ایسے منصوبے بنائے جاتے ہیںجو تین ماہ بعد خراب ہوناشروع ہوجائے اور اس کی طرف کسی کادھیان ہی نہ ہو..
گذشتہ روز وائرل ہونیوالی ویڈیو کے بارے میں اسلامیہ کالج و یونیورسٹی کے سپورٹس ڈائریکٹر کا یہ موقف ہے کہ یہاں پر لیول ون کا کوچنگ کورس تھا اور اس میں تربیت حاصل کرنے والے تمام کے تمام پروفیسر تھے.ان کے مطابق کورس میں شامل افرادکو مختلف گراﺅنڈز کے حوالے سے بتایا جاتا ہے ...
پشاور کے اسلامیہ کالج و یونیورسٹی میں ہاکی ٹرف پر کھیلے جانیوالے کرکٹ کے میچ کے بارے میں سپورٹس ڈائریکٹر اسلامیہ کالج کا موقف اپنی جگہ ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کوچنگ کورس کرکٹ کا تھا تو اسے آسٹرو ٹرف پر کرانے کی ضرورت ہی کیا تھی اور اگر کوچنگ کی تربیت حاصل کرنے والے افرا د کو گراﺅنڈز کے بارے میں بتانا ہی تھا تو پھر انہیںہاتھ میں بیٹ پکڑانے کی ضرورت کیا تھی.صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ کیلئے اچھی اقدامات کررہی ہیں اور پشاور میں دوسرے آسٹرو ٹرف کا بنایا جانا صوبائی وزیراعلی خیبر پختونخواہ محمود خان کا احسن اقدام ہے لیکن اتنے غیر معیاری کام اور پھر اس پر ہاکی کے بجائے کرکٹ کے کھیل کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیورو کریسی کو صرف اپنا مفاد عزیز ہے حالانکہ یہی بیور و کریسی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے پل رہی ہیں.
عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بننے والے پشاور کے پہلے آسٹرو ٹرف یعنی پشاور سپورٹس کمپلیکس کے لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم میں واقع آسٹرو ٹرف کو اکھاڑنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے پاکستان سپورٹس بورڈ اس معاملے کو دیکھ رہاہے اور کنٹریکٹر کے مطابق لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم میں نیا ٹرف اپریل تک ڈالا جائیگا.جبکہ اس دوران ہاکی کے کم و بیش ایک سو سے زائد کھلاڑی پشاورسپورٹس کمپلیکس میں واقع فٹ بال گراﺅنڈز میں گراسی پچ پر کھیلنے کی پریکٹس بھی کرینگے جبکہ ٹارٹن ٹریک پر فزیکل ٹریننگ بھی جاری رہے گی کیونکہ پاکستا ن ہاکی فیڈریشن نے سال 2022کے کھیلوں کے سالانہ کیلنڈر بھی جاری کردیا ہے.
لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم کے آسٹرو ٹرف سے اکھاڑے جانیوالے آسٹرو ٹرف کو کہاں پر رکھاجائیگا یا اسے فٹ سال کے گراﺅنڈ کیلئے استعمال کیا جائیگا ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن لمبائی میں کم و بیش 150 یارڈ اور چوڑائی میں 80 یارڈ کے آسٹروف ٹرف کو ذاتی استعمال میں لانے کیلئے سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے بعض افسرا ن نے رابطے شروع کردئیے ہیں تاکہ وہ کروڑوں روپے مالیت کے اس آسٹرو ٹرف کو اپنے گھر میں لے جا کر استعمال کرسکیں. یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کے حلقہ میںبننے والے ایبٹ آباد کے واحد آسٹروٹرف جہاں سے اٹھایا گیا تھا وہ مخصوص افسران اپنے گھروں میں لے گئے ہیں اور وہ یہ ٹرف اپنے گھروں میں استعمال کررہے ہیں حالانکہ یہ ٹرف فٹ سال کے گراﺅنڈ میں بھی استعمال ہوسکتا تھا لیکن چونکہ ڈیپارٹمنٹ میں رہنے کاایک فائدہ یہ ہے کہ سرکار کے مال کو افسران اپنے باپ کا مال سمجھ کر گھر لے جانا اپنا حق سمجھتے ہیں.سو ایبٹ آباد کے آسٹرو ٹرف کا کچھ حصہ مخصوص لوگ اپنے گھروں میں لے گئے .اب یہی تیاری لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم کے آسٹر و ٹرف کیلئے کی جارہی ہیں کہ اسے کون لیکر جائیگا.
سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبرپختونخواہ کے نئے تعینات ہونیوالے ڈائریکٹر جنرل نے اپنی تعیناتی کے بعد اصلاحاتی عمل تو شروع کردیا ہے اور امکان ہے کہ اس سے سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ کا قبلہ کسی حد تک درست کیا جاسکے گا لیکن ساتھ میں انہیں یہ تاثر بھی ختم کرنا ہوگا کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کسی مخصوص شخصیت یا علاقے کو سپورٹ کررہا ہے کیونکہ ان کی تعیناتی کے بعدپورے صوبے میں ایک مخصوص ضلع جہاں سے ڈائریکٹرجنرل کا تعلق ہے پر مہربانیاں ہورہی ہیں اس لئے صوبے کے دیگر اضلاع سے وابستہ کھلاڑی اور شخصیات اس پر اعتراض بھی کررہے ہیں کہ سیاستدانوں کی طرح مخصوص اضلاع کے بجائے پورے صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ کھیلوں میں پائی جانیوالی جانبداری کا تاثر بھی ختم ہوسکے.
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 456 Articles with 269964 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
16 Jan, 2022 Views: 206

Comments

آپ کی رائے