نظام انصاف کی زبوں حالی

میں عدالتوں کے بارے عموماً لکھتا رہتا ہوں۔بہت سے جج بہت اچھے ہیں مگر چند ایسے بھی ہیں کہ بے پناہ مراعات کے باوجودبھی بس صرف جج ہیں۔دنیا بھر میں ملکوں کی بہتری اور ترقی کا راز اس کی آزاد اور بے باک عدلیہ کی بہترین کارکردگی کو جانا جاتا ہے۔ ہماری عدلیہ بھی بڑی متحرک ہے مگر کچھ ججز جانے کیوں ایسے فیصلے کرنے سی محروم ہیں کہ جنہیں ہر صورت غیر متنازعہ قرار دیا جائے یا شایدقوم اس قدر منقسم ہے کہ کوئی چیز بھی اپنی مرضی کے خلاف ہمیں قابل قبول نہیں ہوتی۔ہم لوگ ہر فیصلے کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور اسے ہی حق اور صحیح سمجھتے ہیں جسے ہمارا ذہن قبول کر لے۔ہم نفرتیں پالتے ہیں اور نفرتیں ہی پروان چڑھاتے ہیں۔ہمیں دوسروں کی صحیح چیز بھی غلط دکھائی دیتی ہے اور دوسرے بھی ہماری صحیح باتوں کو اہمیت نہیں دیتے۔یہی چیز ہمیں عدلیہ کے بہت سے فیصلوں میں نظر آتی ہے۔ ہماری عینک کا ایک مخصوص نمبر ہے اور ہمارا نقطہ نظر اسی نمبر کے حوالے سے ہوتا ہے۔چنانچہ عدلیہ کے بہترین فیصلے پر بھی کچھ لوگ خوش نظر آتے اور کچھ نالاں اور ناقد نظر آتے ہیں۔اصولی طور پر عدلیہ کو ان سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر رب العزت کو جوابدہی کے جذبے کے تحت قانون اور آئین کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ہی ہر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔مگر ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا۔جج بھی انسان ہیں اور بہت سے فیصلوں میں ان کی انسانیت بہت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔

اس وقت دنیا میں بہترین آئین ساؤتھ افریقہ کا سمجھا جاتا ہے۔یہ قانونی اور آئینی ماہرین کے لئے ایک ماڈل آئین ہے۔یہ آئین جمہوری قدروں، سماجی انصاف اور انسان کے بنیادی حقوق کی پاسبانی کے لئے دنیا کی بہترین دستاویز جانا جاتا ہے۔ایک ہمارا آئین ہے جس کی تشریح کرتے کرتے ہماری عدلیہ کے جج وقت سے پہلے بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں مگر اس کی بھول بھلیاں ہیں کہ ختم ہی نہیں ہوتیں۔یا تو ہم نیت کے لحاظ سے بے ایمان ہیں یا شاید آئین ہی ہماری سوچ کے مطابق داؤ پیچ کا آئینہ دار ہے۔ہم تو ہر ضابطے اور ہر شق کو مرضی کے مطابق ڈھالنے اور اس کی اپنے ضرورت کے مطابق تشریح کرنے کے عادی ہیں۔ ہمارا آئین جب تک ہماری مرضی کی قید سے آزاد نہیں ہو گا۔ ہمیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

اچھے قوانین کی فراہمی، انصاف کی ملک کے تمام طبقوں تک رسائی، کرپشن کا قلع قمع اور انسانی بنیادی حقوق کی پاسبانی یہ عدلیہ کے بنیادی کام ہیں۔ اسی حوالے سے دنیا کے 139 ملکوں میں پاکستان 130 نمبر پر ہے۔ ہمارا انصاف مکمل طبقاتی ہے۔ تمام طبقوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ وکلا کی بھاری فیسیں ادا کرنے سے قاصر ہے۔ وہ سیدھے جج تک پہنچ نہیں سکتے اور اگر پہنچ جائیں تو جج سننے کو تیار نہیں ہوتے ۔جب کوئی بھٹکا ہوا جج تک پہنچ جائے تو عدالت بلکہ عدالت تو دور کی بات، عدالتی اہلکاروں کی جچی تلی بے عزتی کے بعد وہ عدالت کے پاس آئندہ جانے سے بھی ڈرتا ہے۔ جج صاحب بھی اسے وکیل لانے کا کہہ کر بھگا دیتے ہیں حالانکہ بہت سے چھوٹے چھوٹے مسائل تو انصاف کے علمبرداروں کی ہلکی سی توجہ کے محتاج ہوتے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کوئی با اثر آدمی کسی با اثر وکیل کے ہمراہ آتا ہے تو کچھ عدالتیں بچھ بچھ جاتی ہے۔ جج صاحب کے لہجے کی مٹھاس دیکھنے والی ہوتی ہے۔ دراصل یہ توہین عدالت ہے جو وہ جج خود کرتے ہیں۔پچھلے چند سالوں میں بڑا واضع نظر آیا ہے کہ کرپشن کو روکنے میں ہماری عدالتیں بہت ناکام ہی نہیں بلکہ کرپٹ لوگوں کی مدد گار رہی ہیں۔ کرپٹ آدمی کی ضمانت اور پھر لمبی تاریخ ، یہ مدد نہیں تو اور کیا ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر انصاف کا قتل ہے اور عدالتیں اس قتل میں مدد گار ہوتی ہیں۔

بنیادی انسانی حقوق کے حوالے ہماری عدالتوں اور ہماری بہت سی انجمنیں بڑی فعال نظر آتی ہیں۔ہمارے بعض وکیل بھی اس معاملے میں بڑے متحرک ہیں۔مگر یہ ساری حرکت اس وقت نظر آتی ہے جب اس میں ان لوگوں کے لئے تشہیر کا سامان ہو۔ عدالتوں کو انسانی حقوق کی پامالی اسی وقت نظر آتی ہے۔کون سا تھانہ ہے جہاں انسانی حقوق پامال نہیں ہوتے۔ کون سی عدالت ہے جہاں عام آدمی کی انسانی حقوق کے حوالے تحقیر نہیں ہوتی۔ غریت تو سمجھتا ہے کہ تحقیر اور پامالی اس کا مقدر ہے، ہماری عدالتیں اس کی کوئی مدد نہیں کرتیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اعلیٰ عدالتیں اس کی پہنچ سے بہت باہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نے ہماری عدلیہ کو 139 میں سے 130 نمبر پر رکھا ہے۔ججوں کوسوچنا ہو گا کہ کس طرح دنیا میں اپنی ساکھ بہتر کی جائے۔ عام آدمی کے لئے کیسے عدالتوں کے دروازے کھولے جائیں۔کیسے عام لوگوں کو انصاف ہوتا نظر آئے۔ طبقاتی نظام انصاف ختم ہوتا محسوس ہو۔

ڈنمارک ناروے اور فن لینڈ وہ تین ریاستیں ہیں جو نظام انصاف میں پہلے نمبر پر ہیں۔ہم اسلام کے نفاد کی بات کرتے ہیں۔ ہم ریاست مدینہ کو آئیڈیل مانتے ہیں۔ مگر ماسوائے چند فیصد لوگوں کی ذاتی زندگی کے کہیں معاشرے میں اسلام کا نفادد نہیں نظر آتا۔ ہم کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، پہلے نماز پڑھتے ہیں اور پھر عام کاروباری زندگی میں ہر وہ کام کرتے ہیں جو سراسر ناجائز ہوتا ہے، حرام اور حلال میں فرق ہم جانتے ہی نہیں۔ مدینہ کی ریاست میں حضرت عمر نے ایک نظام قائم کیا تھا، کچھ ضابطے نافد کئے تھے۔ آج ان ملکوں کے نظام انصاف کی برتری کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے عمر لاز کے نام پر اسلام کے سنہری اصول بھی اپنے معاشرے کو دئیے ہیں۔ وہ ہر اچھا قانون، ہر خوبصورت ضابطہ،ہر بہترین انصاف کی روایت جہاں سے ملے اسے اپنانا جانتے ہیں اور ہم اپنی اثاث سے بھی محروم ہیں۔ جج میں سب سے بڑا وصف اس کا ذاتی کردار ہے۔ ہمارے ججوں کو انصاف اور قانون کا فرق بھی جاننا چائیے۔ قانون غلط بھی ہو سکتا ہے ، انصاف میں غلطی تباہی کا سبب ہوتی ہے۔ لوگ انصاف چاہتے ہیں۔ بہترین جج اس ملک کی بقا کے ضامن ہوتے ہیں۔ ہمارے ججوں کو اپنے کردار افعال اور فیصلوں سے ثابت کرنا ہو گا کہ ہم 130 نہیں ابتدائی نمبروں کے حقدار ہیں۔

 

Tanvir Sadiq
About the Author: Tanvir Sadiq Read More Articles by Tanvir Sadiq: 501 Articles with 325537 views Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More