ربیع الثانی ( گیاہرویں شریف )

اللہ تبارک وتعالی قران مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے کہ اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ,

ترجمعہ: کنزالایمان ۔۔۔سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔

معزز یاروں اللہ تبارک و تعالی نے اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اپنی عبادت اور اعمال صرف اللہ رب العزت کے احکامات اور اس کے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں گزارے جس کی بنا پر اللہ تعالی نے انہیں ولایت جیسے مقام سے سرفراز فرمایا ان کے نزدیک دنیا یا اس کی محبت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ ان کا مقصد حیات صرف اللہ تعالی کا دیدار ہوتا ہے وہ صرف اسی چیز کے طالب ہوتے ہیں۔

میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں ماہ ربیع الاول کے بابرکت اور مبارک مہینہ کے بعد بھی عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جھومنے اور خوشیاں منانے کا وقت رکے گا نہیں بلکہ اسلامی سال کا چوتھا اور ماہ ربیع الاول کے بعد آنے والا مہینہ ماہ ربیع الثانی کا آغاز ہوگا جسے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم گیاہرویں شریف کے مہینے کے طور پر یاد کرتے ہیں اور خوب بڑھ چڑھ کر اس مہینہ کو مناتے ہیں کیوں کہ اس مہینہ کو حضور سید شیخ عبدالقادر جیلانی المعروف غوث پاک سے بڑی گہری نسبت ہے۔

میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں پیران پیر دستگیر الشیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ تعالی علیہ کی پیدائش اول شب رمضان 470ھ بمطابق 17 مارچ 1078 عیسوی میں ایران کے صوبہ کرمانشہ کے شہرمغربی گیلان میں ہوئی جس کو گیلان بھی کہا جاتا ہے اسی لئے آپ رحمت اللہ تعالی کا ایک نام عبدالقادر گیلانی بھی ماخوذ ہے علمأ کرام نے لکہا ہے کہ آپ رحمت اللہ تعالی علیہ جیلان بغداد کے جنوب میں 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع عراقی و تاریخی شہر مدائن کے قریبی شہر مغربی گیلان یا اس کے قریبی عراقی گاؤں ( بشتیر) میں پیدا ہوئے۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں تاریخ کی کتابوں میں نیزبغداد میں موجود گیلانی خاندان بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں شیخ عبدالقادر جیلانی کا تعلق جنید بغدادی کے روحانی سلسلے سے ملتا ہے شیخ عبدالقادر جیلانی کی خدمات وافکار کی وجہ سے شیخ عبدالقادر جیلانی کو مسلم دنیا میں غوث الاعظم دستگیر کا خطاب دیا گیا حضور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ تعالی علیہ کی پیدائش کے چھ سال قبل حضرت شیخ ابو احمد عبداللہ بن علی بن موسی نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ عنقریب ایک ایسی ہستی آنے والی ہے کہ جس کا فرمان ہوگا کہ میرا قدم ہر اولیاء اللہ کی گردن پر ہوگا.

میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں جب آپ رحمت اللہ تعالی علیہ کی عمر 4 سال کی ہوئی تو آپ رحمت اللہ تعالی علیہ کیے والد ماجد حضرت ابو صالح رضی اللہ تعالی عنہ آپ رحمت اللہ تعالی علیہ کو مکتب داخلے کی غرض سے لے گئے . آپ رحمت اللہ تعالی علیہ استاد کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گئے استاد نےکہا پڑھو بسم اللہ الرحمن الرحیم تو آپ رحمت اللہ تعالی علیہ نے بسم اللہ کے ساتھ ساتھ الف لام میم سے لیکر 18 سپارے مکمل زبانی سناڈالے استاد نے حیرت سے پوچھا یہ کب اور کیسے یاد کئے تو آپ رحمت اللہ تعالی علیہ نے فرمایا میری والدہ ماجدہ 18 سپارے کی حافضہ ہیں میں جب شکم مادر میں تھا تو وہ اکثر ان کو پڑھا کرتی تھیں اس طرح وہ سپارے سنتے سنتے مجھے بھی یاد ہوگئے۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آپ رحمت اللہ تعالی علیہ کی کنیت ابو محمد جبکہ محی الدین , محبوب سبحانی , غوث اعظم , غوث ثقلین , وغیرہ القابات ہیں . آپ رحمت اللہ تعالی علیہ کے والد ماجد کانام ابو صالح موسی جنگی اور والدہ محترمہ کا نام ام الخیر فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما تھا آپ رحمت اللہ تعالی علیہ والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسینی سید ہیں.

میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اللہ تبارک و تعالی نے اپنے خاص اور مقرب بندوں کو جن میں انبیاء کرام علیہ السلام بھی شامل ہیں بیشمار معجزات سے نوازا ہوا تھا اور اس کا استعمال بھی بوقت ضرورت ہی کیا جاتا تھا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کردینا ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی نماز عصر قضا ہونے پر سورج کو وآپس پلٹانا ، درخت کا اپنی جڑ سے اکھڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام پیش کرنا اور وآپس جڑ سمیت کھڑا ہوجانا۔

میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اسی طرح حضرت ابراھیم علیہ السلام کا آگ میں بخیر عافیت رہنا ، حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں رہکر بخیر وعافیت وآپس نکل جانا اور حضرت موسی علیہ السلام کے عصا کا سانپ بن جانا وغیرہ تاریخ اسلام میں ایسے بیشمار واقعات ہمیں ملتے ہیں جن میں اللہ کی عطا سے ہونے والے انبیاء کرام کے ہاتھوں معجزات کا ظہور ہوتا ہوا نظر آتا ہے انبیاء کرام کے بعد معجزات کا سلسلہ کرامات میں تبدیل ہوکر صحابہ کرام ، تابعین تبع تابعین اولیاء کرام اور بزرگان دین تک چلا اور آج تک چل رہا ہے جبکہ عقیدئہ اہل سنت کے مطابق یہ سلسلہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔

میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں حضور غوث پاک سے منسوب بھی بیشمار کرامات ہمیں کتابوں میں پڑھنے اور علماء حق سے سننے کو ملتی ہیں اس سلسلے کا ایک بہت معروف واقعہ تحریر کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں جسے " ڈوبی ہوئی بارات " کے نام سے تاریخ اسلام کی مختلف کتابوں میں ہمیں ملتا ہے ہوا یوں کہ ایک بارسرکار بغداد حضور سیدنا غوث پاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دریا کی طرف تشریف لے گئے وہاں ایک 90 سال کی بڑھیا کو دیکھا جو زار و قطار رورہی تھی ،ایک مریدنے بارگاہِ غوثیت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں عرض کیا:’’مرشدی!اس ضعیفہ کا اکلوتا خوبرو بیٹاتھا، بیچاری نے اس کی شادی رچائی دولہا نکاح کرکے دلہن کو اسی دریا میں کشتی کے ذریعے اپنے گھر لارہاتھاکہ کشتی الٹ گئی اوردولہا دلہن سمیت ساری بارات ڈوب گئی۔۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس نے کہا کہ اس واقعہ کو آج بارہ سال گزر چکے ہیں مگر ماں کاجگر ہے ،بے چاری کاغم جاتا نہیں ہے،یہ روزانہ یہا ں دریا پر آتی ہے اور بارات کونہ پاکر رودھوکر چلی جاتی ہے ۔‘‘ حضورِ غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس ضعیفہ پر بڑا ترس آیا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا دیئے، چند منٹ تک کچھ ظہورنہ ہوا،بے تاب ہوکر بارگاہِ الٰہی عزوجل میں عرض کی: ’’یااللہ عزوجل!اس قدر تاخیر کی کیاوجہ ہے؟‘‘ ارشادہوا:’’اے میرے پیارے!یہ تاخیر خلافِ تقدیر نہیں ہے ،ہم چاہتے توایک حکم ’’کُنْ‘‘سے تمام زمین و آسمان پیدا کر دیتے مگر کسی حکمت کی وجہ سے چھ دن میں پیدا کئے، بارات کو ڈوبے ہوئے بارہ سال ہوچکے ہیں،اب نہ وہ کشتی باقی رہی ہے نہ ہی اس کی کوئی سواری، تمام انسانوں کا گوشت وغیرہ بھی دریائی جانور کھاچکے ہیں، ریزہ ریزہ کو اجزائے جسم میں اکٹھاکرواکردوبارہ زندگی کے مرحلے میں داخل کر دیا ہے اب ان کی آمد کاوقت ہے۔‘‘ ابھی یہ کلام اختتام کو بھی نہ پہنچا تھا کہ یکایک وہ کشتی اپنے تمام ترسازوسامان کے ساتھ بمع دولہا،دلہن وباراتی سطح آب پر نمودار ہوگئی اور چندہی لمحوں میں کنارے آلگی، تمام باراتی سرکار بغداد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے دعائیں لے کرخوشی خوشی اپنے گھر پہنچے، اس کرامت کو سن کربے شمارکفّار نے آ آکر سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پراسلام قبول کیا۔ (سلطان الاذکارفي مناقب غوث الابرار )
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں تاریخ گواہ ہے کہ حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ کرامت اس قدر تواتر کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود برصغیر پاک و ہند کے گوشے گوشے میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ( الحمدللہ عزوجل) اور
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے اس واقعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ’’اگرچہ(یہ روایت) نظر سے نہ گزری مگر زبان پر مشہور ہے اور اس میں کوئی امرخلافِ شرع نہیں، اس لئے اس کا انکار نہ کیا جائے۔
( فتاوی رضویہ جدید،ج29 ،629)

میرے معزز یاروں حضور غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اگر " میرا مرید مشرق میں ہو اور میں مغرب میں پھر اگر وہ مجھے پکارے تو میں اس کی آواز سن کر اس کی امداد کو پہنچ جائوں گا " اسی لیئے ماننے والے نہ صرف مانتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ
جو ہیں مشکلیں سب دور ہوں گی تیری
غوث پاک کی گیارہویں تم بھی مناتے جاؤ

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے مفکرین نے لکھا ہے کہ حضور غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کا مقام ولیوں میں بلکل ایسا ہی ہے جیسے انبیاء کرام علیہم السلام میں سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تبارک وتعالی نے حضور سیدنا الشیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو ایسی ایسی کرامتوں سے نوازا تھا کہ جس کی تاریخ اسلام میں مثال نہیں ملتی آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ غوثیت‘‘ بزرگی کا ایک خاص درجہ ہے، لفظ ‘‘غوث‘‘ کے لغوی معنی ہیں ‘‘فریادرس یعنی فریاد کو پہنچنے والا‘‘ چونکہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ غریبوں، بے کسوں اور حاجت مندوں کے مددگار ہیں اسی لئے آپ کو ‘‘غوث اعظم‘‘ کے خطاب سے سرفراز کیا گیا، اور بعض عقیدت مند آپ کو ‘‘پیران پیر دستگیر‘‘ کے لقب سے بھی یاد کرتے ہیں۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضور غوث پاک علیہ الرحمہ کی کرامتوں سے ہمارے مفسرین کی لکھی پوئی بے شمار کتابیں موجود ہیں جنیں ہم پڑھتے ہیں تو ہماری عقل دھنگ رہجاتی ہے ویسے بھی اللّٰه عَزَّوَجَلَّ جسے چاہتا ہے اس پر اپنا خاص فضل فرما کر ولایت سے سَر فراز فرماتا ہے اور مخلوق کے دل میں اس کی مَحَبّت پیدا کر دیتا ہے پھر یہی مَحبت مخلوقِ خدا کو کھینچ کر ولایت کے ان دَرَخشاں ستاروں کے دَر پر لے آتی ہے جہاں خَلقِ خدا کو اپنی حاجت روائی، مشکل کشائی، راہ نُمائی اور قربِ الٰہی پانے کے مختلف راستے نظر آتے ہیں، اولیائے کرام اللّٰه تعالیٰ کی عطا سے مخلوقِ خدا کو فیض اور برکات پہنچاتے ہیں اور اسے اللّٰه تعالیٰ سے ملا دیتے ہیں۔ خلقِ خدا کبھی اس فیض و برکت کو وَعظ و نصیحت سے پاتی ہے، کبھی اولیاءُ اللّٰه کے حسنِ اخلاق اور عمل سے اپنے باطن کو روشن کرتی ہے تو کبھی یہی مخلوق اس فیض کو کرامات کی صورت میں دیکھتی ہے اور اپنے ایمان کی کَلی کے کِھلنے اور عقیدت کی گرہ کے مضبوط ہونے کا سامان کرتی ہے۔

میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں
غوثِ صمدانی، قطبِ ربّانی، مَحبوبِ سبحانی حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی قُدِسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی ذاتِ گرمی سے بھی بےشُمار افراد نے فیض پایا ہے، پا رہے ہیں اور تا قِیامت پاتے رہیں گے بلکہ اِنْ شَآءَ اللّٰه عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت بھی فیوض و برکات سے حصّہ پائیں گے میرے یاروں حضور غوث پاک علیہ الرحمہ کے بارے میں لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر اپنی حیثیت ، وقعت اور وقت کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مختصر پیرائے میں کچھ نہ کچھ کہنے کی کوشش کی ہے اور اپنی اس تحریر کا اختتام سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کے ان اشعار سے کروں گا جو انہوں نے حضور غوث پاک علیہ الرحمہ کی شان و عظمت میں لکھے ۔
مرحبا رنگ ہے کیا سب سے نرالاتیرا
جھوم اٹھا جس نے پِیا وصل کا پیالا تیرا
اولیا ڈھونڈتے پھرتے ہیں اجالا تیرا
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اُونچے اُونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا"

"قسمیں دے دے کر کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے
پیارا اللہ ترا چاہنے والا تیرا"
"تجھ سے در ، در سے سگ ، سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا"

اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
حشر تک میرے گلے میں رہے پٹّہ تیرا"

اُن پہ خالق نے کیا ہے یہ خصوصی انعام
کب وہ مایوس ہوئے ، ان کا رُکا کون ساکام
کون سے ملک میں حاصل نہ ہوا ان کو مقام
"راج کس شہر پہ کرتے نہیں تیرے خدام
باج کس نہر سے لیتا نہیں دریاتیرا"

مٹ گئے ، مٹتے ہیں ، مٹ جائیں گے اعدا تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا"

ورفعنالک ذکرک کا ہے سایا تجھ پر
بول بالا ہے ترا ، ذکر ہے اونچا تیرا"

آج گھیرے ہوئے اعمال کی شامت ہے مگر
سامنے آگ بھی خطرے کی علامت ہے مگر
خوفِ پرسش بھی بدستور سلامت ہے مگر
"دھوپ محشر کی وہ جاں سوز قیامت ہے مگر
مطمئن ہوں کہ مرے سر پہ ہے پلہ تیرا"

تیری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع
جو میرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا
میری دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمارے دلوں میں اپنی محبت اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق اور حضور غوث پاک علیہ الرحمہ کے تاحیات نسبت قائم و دائم رکھے ۔آمین آمین بجاہ الامین صلی اللہ علیہ وسلم ۔

محمد یوسف برکاتی
About the Author: محمد یوسف برکاتی Read More Articles by محمد یوسف برکاتی: 112 Articles with 70609 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.