جامعات کا وجود کسی بھی معاشرے کے علمی اور فکری اُفق کو
روشن کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ وہ مقدس ادارے ہیں جہاں علم کی شمعیں جلتی
ہیں، تحقیق کے دریا بہتے ہیں، اور نوجوانوں کے خوابوں کو پروان چڑھانے کے
لیے تربیت دی جاتی ہے۔ لیکن افسوس، پاکستان کی بیشتر جامعات اپنے اس بنیادی
مقصد کو فراموش کر چکی ہیں۔ آج یہاں لائبریریاں ویران، لیبارٹریز کھنڈر،
اور کلاس رومز میں فرسودہ نصاب پڑھائے جا رہے ہیں، جبکہ کیمپس کی رونق صرف
"ثقافتی تقاریب" تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ المیہ ہے کہ جہاں جامعات کو
معاشرے کا علمی قلعہ ہونا چاہیے، وہاں وہ ڈگریوں کی دکانداری اور تقریبات
کے کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری جامعات اب "ڈانس
فلور" ہیں، جہاں علم کی بجائے رقص کی تھاپ پر نوجوانوں کے مستقبل کو برباد
کیا جا رہا ہے؟
تعلیم کی موت اور تقاریب کا طوفان
پاکستان کی جامعات کی زبوں حالی کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی رپورٹس اور
اعدادوشمار کی طرف دیکھنا ہوگا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی 2022 کی
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی کوئی جامعہ دنیا کی ٹاپ 1000 یونیورسٹیز میں
جگہ نہیں بنا سکی۔ یہاں تک کہ خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت، ترکی، اور
بنگلہ دیش کی جامعات بھی عالمی درجہ بندی میں ہم سے آگے نکل چکی ہیں۔
تحقیقی میدان میں ہماری کارکردگی اور بھی پتلی ثابت ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر
شائع ہونے والے تحقیقی مقالوں میں پاکستان کا حصہ صرف 0.3% ہے، جو ترکی
(1.5%) اور ایران (1.8%) سے بھی کم ہے۔ عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ میں
75% پاکستانی طلبہ نے اپنے تعلیمی معیار کو "ناقابلِ قبول" قرار دیا ہے۔ ان
اعدادوشمار کی روشنی میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہماری جامعات میں تعلیم
کے نام پر صرف ڈگریوں کا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟
دوسری طرف، ثقافتی تقاریب کا سیلاب ہے جو تعلیمی سرگرمیوں کو نگل چکا ہے۔
مثال کے طور پر لاہور کی ایک نامور جامعہ کا "سالانہ سپرنگ فیسٹیول" لیجیے،
جہاں طلبہ اور اساتذہ مہینوں پہلے سے رقص، موسیقی، اور فنکشنز کی تیاری میں
مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ تقریب اتنی شاندار ہوتی ہے کہ اس میں تعلیمی
سرگرمیاں مکمل طور پر پسِ پشت چلی جاتی ہیں۔ طلبہ یونینز کے بجٹ کا 60% سے
زائد حصہ انہی تقریبات پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ لائبریری میں نئی کتابیں
خریدنے یا لیبارٹری کے آلات کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے فنڈز "دستیاب نہیں"
ہوتے۔ کیا یہ طلبہ کو تعلیم دینے کی بجائے "سوشل میڈیا اسٹارز" بنانے کی
مہم ہے؟ اس صورتحال کا ایک اور پہلو ڈگریوں کی بے معنویت ہے۔ پاکستان
اکنامک سروے 2023 کے مطابق، 31% گریجویٹس بے روزگار ہیں، اور PILDAT کی ایک
رپورٹ میں 68% کمپنیاں پاکستانی گریجویٹس کو "غیر ہنر مند" قرار دیتی ہیں۔
یہاں تک کہ اکثر گریجویٹس میں بنیادی صلاحیتیں جیسے تنقیدی سوچ، مسئلہ حل
کرنے کی اہلیت، یا کمپیوٹر کی بنیادی مہارتیں بھی مفقود ہیں۔ کیا یہ ڈگریاں
محض "کاغذی پرزے" ہیں جو نوکری کے دروازے پر پھاڑ دیے جاتے ہیں؟
اس بحران کی جڑیں انتظامی نااہلی، معاشرتی بے حسی، اور کاروباری مفادات میں
پیوست ہیں۔ سب سے پہلے جامعات کی انتظامیہ کو دیکھیے۔ بیشتر وائس چانسلرز
سیاسی تقرریوں کے ذریعے آتے ہیں، جن کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ
لوگ جامعات کو "نوکریاں بانٹنے کے مراکز" سمجھتے ہیں، جہاں ان کا بنیادی
مقصد اپنے عہدے کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ HEC کے اعدادوشمار کے مطابق، 40%
جامعات اپنے بجٹ کا بڑا حصہ غیر ضروری انفراسٹرکچر جیسے نئے لان، کانفرنس
ہال، یا انتظامیہ کے لیے مہنگے دفتروں پر خرچ کر دیتی ہیں۔ کیا یہ تعلیم کی
بجائے "لان ڈیزائننگ" کی ڈگریاں دینے کا نیا ٹرینڈ ہے؟
معاشرتی رویے بھی اسی المیے کو ہوا دے رہے ہیں۔ آج کا نوجوان لائبریری کی
بجائے "سوشل میڈیا ٹرینڈز" کی دوڑ میں شامل ہے۔ ہر تقریب کا مقصد صرف "سنیپ
چیٹ اسٹوری" بنانا ہوتا ہے، جہاں لباس، رقص، اور موسیقی کو علم پر فوقیت
حاصل ہوتی ہے۔ والدین کا رویہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ اکثر گھرانوں میں
ڈگری کو صرف "شادی کے کارڈ" میں ایک لائن یا سماجی حیثیت کا نشان سمجھا
جاتا ہے۔ تعلیم کے اصل مقصد یعنی علم، تحقیق، اور ہنر کی تشکیل کو یکسر
نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ نجی جامعات نے تو اس بحران کو ایک "کاروباری
ماڈل" میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ادارے ٹیوشن فیس میں اضافے کو جواز فراہم
کرنے کے لیے ہر سال نئے "میوزک فیسٹیولز" یا "ثقافتی شوز" کا اہتمام کرتے
ہیں۔ ان کے لیے طلبہ "کلائنٹس" ہیں، جنہیں تعلیم کی بجائے "اینٹرٹینمنٹ" کی
ضرورت ہے۔ کیا یہ تعلیم کا مقدس پیشہ ہے یا صرف ایک "پرافٹ سیٹنگ انڈسٹری"؟
تعلیم کے ساتھ یہ کھیل پورے معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ سب سے
پہلے تحقیق اور ایجادات کے میدان میں دیکھیے۔ UNDP کی ایک رپورٹ کے مطابق،
پاکستان میں فی کس تحقیق پر خرچہ بھارت سے 10 گنا کم ہے۔ ہماری جامعات میں
سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے دم توڑ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، پاکستان میں
ہر سال صرف 200 پیٹنٹس رجسٹر ہوتے ہیں، جبکہ بھارت میں یہ تعداد 25,000 سے
تجاوز کر چکی ہے۔ کیا ہم "سائنسدان" چاہتے ہیں یا "سوشل میڈیا انفلوئنسرز"؟
نوجوانوں کی مایوسی اس بحران کا دوسرا بڑا نتیجہ ہے۔ پشاور کی ایک طالبہ نے
انٹرویو میں بتایا: "ہمیں وہی پرانے نوٹس پڑھائے جاتے ہیں جو ہمارے والدین
نے 20 سال پہلے رٹے تھے۔" ایسے میں نوجوانوں کا حوصلہ ٹوٹنا فطری ہے۔ دماغی
فرار (Brain Drain) کی شرح اس کی واضح مثال ہے۔ ہر سال 50,000 سے زائد ہنر
مند پاکستانی نوجوان بیرون ملک نقل مکانی کرتے ہیں، جو پاکستان کی نااہلی
پر ایک طنز ہے۔
کیا امید کی کوئی کرن باقی ہے؟
اس بحران سے نکلنے کے لیے جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے HEC کو
اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جامعات کی درجہ بندی کا نیا معیار "تحقیقی
مقالوں کی تعداد"، "فیکلٹی کی قابلیت"، اور "طلبہ کی ہنر مندی" ہونا چاہیے۔
غیر معیاری اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جنہیں صرف ڈگریاں بیچنے
کا لائسنس ملا ہوا ہے۔ فیکلٹی کی تربیت بھی انتہائی اہم ہے۔ اساتذہ کو جدید
دنیا سے جوڑنے کے لیے انہیں جرمنی، جاپان، یا سنگاپور جیسے ممالک میں
اسکالرشپس دے کر ٹریننگ دی جائے۔ یہ نہ صرف ان کے علم میں اضافہ کریں گے
بلکہ طلبہ کو بھی عالمی معیار کی تعلیم مل سکے گی۔
طلبہ کی ذہنیت کو بدلنے کے لیے جامعات کو "ہنر پر مبنی تعلیم" کو فروغ دینا
ہوگا۔ لائبریریوں میں ورکشاپس، کیرئیر کونسلنگ سیشنز، اور انڈسٹری کے ساتھ
شراکت داریاں طلبہ کو عملی دنیا سے جوڑ سکتی ہیں۔ ساتھ ہی، ثقافتی تقاریب
کو تعلیمی مقاصد سے جوڑا جائے۔ مثال کے طور پر، علامہ اقبال کے یومِ پیدائش
پر مقالہ نگاری کے مقابلے ہوں یا سائنس میلے منعقد کیے جائیں۔ والدین اور
میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈگری کو "روزگار کا ٹکٹ" سمجھنے کی
بجائے علم کے حصول کا ذریعہ سمجھا جائے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ تعلیمی
اصلاحات کو اپنی ترجیح بنائے، نہ کہ صرف تقاریب کی رپورٹنگ تک محدود رہے۔
پاکستان کی جامعات کو "ڈانس فلور" نہیں، "سائنسی لیبارٹریز" چاہئیں۔ اگر ہم
نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو یہ ملک صرف "بے روزگار ڈگری ہولڈرز" کی
فیکٹری بن کر رہ جائے گا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے نوجوانوں کو
"ٹک ٹاک اسٹارز" بنانا چاہتے ہیں یا "اسٹیو جابز"؟ تعلیم کے بغیر قومی ترقی
کا خواب محض ایک واہمہ ہے۔
حوالہ جات:
- HEC کی سالانہ رپورٹس (2020-2023)۔
- پاکستان اکنامک سروے 2023۔
- UNDP، عالمی بینک، اور PILDAT کے اعدادوشمار۔
- پشاور کی طالبہ اور لاہور کی جامعہ کے انٹرویوز۔
|