میں بلوچستان ہوں میں زندہ باد ہوں

پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورت ترین خطے عطا کیے جن کا ثانی ساری دنیا میں نہیں ملتا۔یہ حسین وادیوں،برف پوش پہاڑوں،شور مچاتے دریاؤں،گیت گاتے چشموں،خوبصورت صحراؤں،دھنگ رنگ آبشاروں اور روشن تہذیب وتمدن کی سرزمین ہے۔جس کو صحابہ کرام ؓ،اولیائے اللہ سے لیکر محمد بن قاسم ؒ جیسے عظیم فاتح اسلام کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے۔یوں تو پاکستان کا گوشہ گوشہ دھنک رنگوں سے مزین ہے لیکن صوبہ بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں قدرتی نظارے اور فطرت کے تمام رنگ اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔صوبے کے ایک جانب اگر صاف نیلگوں پانی کے بحیرہ عرب میں گوادر جیسی بندرگاہ موجود ہے تو دوسری طرف ضلع ژوب میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا چلغوزے کا جنگل آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ایک جانب اگر سبی جیسا گرم خطہ ہے تو کچھ ہی گھنٹوں کی مسافت پر پاکستان کا سب سے پرفضا مقام زیارت آپ کو اپنے سحر میں جھکڑلیتا ہے،صنوبر کے قدیم درخت اپنی مثال آپ ہیں۔ایک جانب ہنگول نیشنل پارک جوکہ پاکستان کا سب سے بڑا پارک ہے،تو دوسری طرف ہزاروں سال پرانی تہذیب وتمدن کے آثار مہر گڑھ میں موجود ہیں جو بلوچستان کی عظمت رفتہ کی یاد تازہ کرتی ہے۔بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔اس کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں۔قدرت کا یہ حسین شاہکار سونا،کوئلہ، تانبا،کرومائیٹ اورجپسم کے علاوہ دیگر معدنیات کی پیداوارکا مرکز ہے۔سرزمین بلوچستان میں ہرمکتبہ فکر کے لوگ آباد ہیں اور یہاں کے باسی صدیوں پرانی روایات پر آج بھی قائم ودائم ہیں،یہ غیور،جفاکش،مہمان نواز لوگوں کی سرزمین ہے۔جغرافیائی حوالے سے یہ خطہ منفرد حیثیت کا حامل ہے۔قدیم دور میں فاتحین کے لیے یہاں کے درّے بھی رہنمائی کی علامت سمجھے جاتے تھے کیونکہ کسی بھی علاقے میں داخل ہونے کے لیے ہموار راستے کی ضرورت پڑتی ہے،اس زمانے میں باقاعدہ سٹرکیں نہیں تھیں البتہ گھوڑوں پر سفر کرکے ایک علاقے سے دوسرے علاقے کا رخ کیا جاتا تھا۔اس پس منظر میں بلوچستان کا درہ بولان،درہ مولا اور ژوب ایک تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔یہاں کچھی اور لسبیلہ کے دو بڑے میدانی علاقوں سمیت دنیا کے بڑے صحراؤں میں شامل ”صحرائے مکران“بھی موجود ہے۔سیاحتی حوالے سے بلوچستان ایک جاندار خطہ ہے۔کوئٹہ سے چند کلو میٹرکے فاصلے پر بلوچستان کا ایک خوبصورت سیاحتی مقام”ہربوئی“واقع ہے۔ہربوئی میں علم وحکمت کی دنیا کے حوالے سے سیکڑوں قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں جن سے یہاں کے مقامی لوگ اپنے روایتی طریقے سے نزلہ وزکام،بخار سے لے کر شوگر جیسی موذی بیماریوں علاج کرتے ہیں۔ژوب بلوچستان کے شمال مشرق میں واقع ایک تاریخی شہر ہے،یہاں پر ایک مشہور تفریحی مقام”شین غر“واقع ہے۔یہ وادی پستہ،اخروٹ اور چلغوزے کے جنگلات میں گھری ہوئی ہے۔یہاں ”کوہ سلیمان“بھی ژوب سے شروع ہوکر صوبے کے اکثر علاقوں میں پھیلاہوا ہے۔11440فٹ بلند مشہور چوٹی ”تخت سلیمان“بھی یہاں موجود ہے۔اس صوبے کے تین اضلاع خضدار،قلات اور آواران پورے ملک کے لیے اہمیت کے حامل اور تاریخی اعتبار سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ان اضلاع میں سکونت پذیر لوگ محل وقوع،قدرتی ومعدنی وسائل،قدیم ثقافتی طرز عمل کی وجہ سے ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہے۔یہاں کی قدرتی جھیل،فلک بوس وسنگلاخ پہاڑ جہاں خوبصورت ہیں وہیں معدنی وسائل سے بھی لبریز ہیں۔خوبصورت وادیوں کا نظارہ،دلکش ودلفریب سیاحتی مقامات،کھائیاں،غار،درّے اور صاف پانی کی بہتی آبشاریں یہاں کی خوبصورتی کو پوری دنیا میں اعلیٰ وارفع بنادیتی ہیں۔ یہاں کا سیاحتی مقام زیارت اس اعتبار سے بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ یہ جگہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو بہت زیادہ پسند تھی جس کا ثبوت آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی شہر زیارت میں گزارے تھے۔قدرتی آبشاروں اور سرسبزباغات وپرفضاء ہوا کے باعث یہ وادی کسی دنیاوی جنت سے کم نہیں۔ 1899کویہاں قومی یاد گار قائد اعظم ریذیڈنسی کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس سیاحتی مقام میں سیب اور چیری کے بڑے بڑے باغات ہیں جن کا پھل بیرون ممالک میں بھی ایکسپورٹ ہوتا ہے۔کوئٹہ سے ڈیڑھ سو کلو میٹرکے فاصلے پر سبی ایک تاریخی شہر ہے۔تاریخی حوالے سے ”سبی میلہ“ملک بھر میں مشہور ہے،جو ہر سال فروری کے مہینے میں منعقد ہوتا ہے۔جس میں ملک کی اعلیٰ ترین قیادت شرکت کرتی ہے۔اس میلے میں بلوچستان کے علاقے بھاگناڑی کے مشہور بیل وگائے اور صوبے کے دیگر علاقوں سے آئے جانوروں کی منڈی لگتی ہے،جس میں ایران،افغانستان اور ملک کے دیگر صوبوں کے بیوپاری اعلیٰ نسل کے جانور خریدنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔سبی ایشیاء کا سب سے گرم ترین علاقہ ہے،جہاں گرمیوں میں 52سینٹی گریڈ تک گرمی پڑتی ہے۔سبی سے تیس کلو میٹر دور لب درہ بولان کے مقام پر دنیا کی قدیم انسانی تہذیب ”مہر گڑھ“موجود ہے،سات ہزار سال پرانی تہذیب اندرون وبیرون ممالک کے سیاح کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔دور حاضر میں اس وقت بلوچستان کا ضلع گوادر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک منصوبہ)،گوادر پورٹ کی وجہ سے نہ صرف عالمی نگاہوں کا مرکز بن چکا ہے بلکہ عالمی تجارتی مرکز کا روپ بھی دھار چکا ہے۔سی پیک منصوبہ پر اقتصادی وتجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک گیم جینجرمنصوبہ ہے جو پاکستان میں معاشی ترقی اور استحکام لائے گا۔اور پاکستان کی سٹریٹجک لوکیشن مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے بہترین ہے۔پاکستان میں سرمایہ کاری ٹرانسپورٹ،تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بے شمار نئے مواقع جنم لے رہے ہیں،گوادر پورٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان عالمی تجارت میں اپنا کردار مزید مضبوط بناسکتا ہے۔اس منصوبے کے ثمرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔جدید سڑکوں،پلوں اور ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر سے پورے خطے میں نقل وحمل کے ذرائع بہتر ہونگے،جو تجارتی اور معاشی ترقی کے لیے مدد گار ثابت ہونگے۔سی پیک کے توانائی کے منصوبوں سے پورے خطے میں توانائی کی کمی کو پورا کیا جائے گا،جس سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی۔اس منصوبے کے تحت پیدا ہونے والے لاکھوں روزگار کے مواقع نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی معاشی خوشحالی کا باعث ہوں گے۔اس منصوبے کی کامیاب تکمیل سے پورے خطے میں صحت،تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں بہتری آئے گی،جس سے لوگوں کے معیار زندگی میں اضافہ ہوگا۔اس وقت ملک دشمن عناصر کی طرف سے بلوچستان کی محرومیوں کابیانیہ اور وسائل کی کمی کا منفی پراپیگنڈا دم توڑ چکا ہے،کیونکہ بلوچستان پسماندگیوں سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے۔
 

نسیم الحق زاہدی
About the Author: نسیم الحق زاہدی Read More Articles by نسیم الحق زاہدی: 208 Articles with 185487 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.