چین عالمی ترقی اور تعاون کے لیے عزم

حالیہ عرصے میں، چین نے مسلسل جدت پر مبنی ترقی، عالمی حکمرانی کو بہتر بنانے، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنے اور مشترکہ خوشحالی کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ چین نے عالمی ترقی کے لیے اپنی پُرعزم کوششوں کوبھی مسلسل عملی اقدامات سے آگے بڑھایا ہے۔ جہاں تک چین پر دنیا کے اعتماد کا تعلق ہے تو آج ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد چین کے پیش کردہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کی تعمیر میں فعال طور پر حصہ ڈال رہی ہے۔ 100 سے زائد ممالک گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی)، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کی حمایت کرتے ہیں جبکہ دنیا کے تین چوتھائی سے زائد ممالک بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں شامل ہو چکے ہیں۔

2013 میں متعارف کرائے جانے کے بعد سے بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کا تصور ایک خیال سے ایک منظم فریم ورک میں تبدیل ہوا ہے، مضبوط قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک چینی اقدام سے بین الاقوامی اتفاق رائے تک اور ایک وژن سے ٹھوس نتائج کی جانب عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 2013 میں شروع ہونے والا بی آر آئی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے عالمی رابطے اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

سڑکوں، بندرگاہوں اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس جیسے منصوبوں کے ذریعے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون نے علاقائی اور عالمی تجارتی روابط کو مضبوط کیا ہے، جس سے اشیاء، خدمات اور سرمائے کے آزادانہ بہاؤ میں سہولت ملی ہے۔بی آر آئی کے فلیگ شپ منصوبے جن میں سیہانوک ویل اسپیشل اکنامک زون، جکارتہ۔بانڈونگ ہائی اسپیڈ ریلوے، چین پاکستان اقتصادی راہداری، چائنا یورپ ریلوے ایکسپریس اور نیو انٹرنیشنل لینڈ سی ٹریڈ کوریڈور شامل ہیں، علاقائی اور عالمی سطح پر تجارت اور اقتصادی ترقی کے اہم محرک رہے ہیں۔ شراکت دار ممالک میں حالیہ برسوں میں مکمل ہونے والے بی آر آئی کے بڑے منصوبوں نے متعلقہ ممالک کے معاشی منظر ناموں کو نئی شکل دی ہے۔

2025 کے آغاز میں، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے دوستوں کے گروپ اور اقوام متحدہ کے درمیان پہلا پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد ہوا۔ اس میں 40 سے زائد ممالک اور اقوام متحدہ کی تقریباً 20 ایجنسیوں کے نمائندوں نے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون میں چین کی قیادت کی تعریف کی۔اس کی اہم وجہ یہی ہے کہ چین نے ہمیشہ جیت۔جیت تعاون پر یقین رکھا ہے اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو مواقع فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اس سے معاشی عالمگیریت کو نئی توانائی ملی ہے اور ترقی کے نئے راستے کھلے ہیں۔

گزشتہ نومبر میں منعقدہ جی ٹونٹی سربراہی اجلاس میں، چین نے بھوک اور غربت کے خلاف عالمی الائنس میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام دنیا بھر میں بھوک اور غربت کے خلاف مؤثر عوامی پالیسیوں اور سماجی ٹیکنالوجیز کو نافذ کرنے کے لیے وسائل اور علم کو اکٹھا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

2024 میں چین۔افریقہ تعاون فورم کے سربراہی اجلاس کے دوران، چین نے افریقی ممالک کے ساتھ مل کر اگلے تین سالوں میں جدید کاری کو سپورٹ کرنے کے لیے 10 شراکت داری ایکشن پلانز پر عملدرآمد کا وعدہ کیا۔ ان ایکشن پلانز میں تہذیبوں کا باہمی تبادلہ، تجارتی خوشحالی، صنعتی زنجیروں کا تعاون، رابطہ کاری، ترقیاتی تعاون، صحت، زراعت اور معاش، ثقافتی اور عوامی تبادلے، سبز ترقی اور مشترکہ سلامتی شامل ہوں گے۔

انہی اقدامات کی روشنی میں دنیا تسلیم کرتی ہے کہ بڑھتے ہوئے تحفظ پسندانہ رجحانات کے باوجود، چین نے ہمیشہ جیت۔جیت کے تعاون کے اصول کو برقرار رکھا ہے، عالمی تعاون کو فروغ دیا ہے، اور کھلی عالمی معاشی نظام کی وکالت جاری رکھی ہے۔ چین کی یہ کوششیں نہ صرف عالمی ترقی کے لیے اہم ہیں بلکہ ان سے دنیا بھر کے ممالک کے لیے ایک مشترکہ خوشحالی کا راستہ بھی ہموار ہو رہا ہے۔
 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1465 Articles with 748544 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More