وسریاست کا بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے
بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے قومی پالیسی بنانے کے ساتھ نیشنل
ایکشن پلان کو مزید مربوط بنانے کا فیصلہ نہایت خوش آئند ہے۔اس وقت ملک
دشمن تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہوچکا ہے، بلوچستان میں جعفر
ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے بعد نوشکی میں بس پرخود کش حملے نے پوری قوم
کو رنج و الم میں مبتلاکیا ہے۔دہشت گردی کے ان واقعات میں 31بے گناہ افراد
دہشت گردوں کی بربریت کا شکار ہوئے جبکہ 36دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا
گیا۔بلوچستان میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے)نے ان دہشت
گردحملوں کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کی ہے،واضح رہے کہ بی ایل اے کو
افغانستان اور بھارت کی حمایت اور مدد حاصل ہے۔دہشت گرد جعفرایکسپریس حملے
کے دوران جائے قوعہ سے افغانستان میں بیٹھے رحمان گل نامی شخص کو اطلاعات
دے اور ہدایات لے رہے تھے، ٹریس شدہ کالز میں دہشت گردوں کے افغانستان سے
رابطے سامنے آچکے ہیں۔امریکا میں سکھوں کی عالمی تنظیم سکھ فارجسٹس نے
بلوچستان میں ٹرین حملے کے متعلق ایک بیان جاری کیا جس میں سکھ فارجسٹس کے
رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے کہاہے کہ بلوچستان میں ٹرین دہشت گرد حملے میں
”راء“ملوث ہے،عالمی ادارے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دودل اور
”راء“کے خلاف کاروائی کریں۔گرپتونت سنگھ پنوں کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان
کے خلاف بھارت خفیہ جنگی حکمت عملی کے بلیو پرنٹ پر عمل کررہا ہے،مودی کا
بھارت صرف علاقائی خطرہ نہیں،یہ ایک مکمل دہشت گرد حکومت ہے،مودی حکومت پر
تشدد بین الاقوامی جبر میں مصروف ہے۔بلوچستان ٹرین حملہ بھارت کے جارحانہ
دفاعی نظریے کا ثبوت ہے،بھارت خفیہ دہشت گردکاروائیوں سے پڑوسی ممالک کو
غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے،بھارت بیرون ممالک میں ٹارگٹ کلنگ،انتہاپسندی اور
سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہے۔مودی نے بھارت کو ریاستی سرپرستی میں دہشت
گردی کا عالمی مرکز بنادیا ہے۔”راء“کی بے قابوکاروائیاں جنوبی ایشاء کو
خطرے میں ڈال رہی ہیں اور ریاستی تشدد کی خطرناک عالمی مثال قائم کررہی
ہیں۔اس وقت دشمن قوتیں پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں کررہی
ہیں، افغانستان کی سرزمین پاکستان دشمنوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ ملوسفک میں
خلفشار پیدا کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی قوتوں کا گٹھ جوڑ عوام کے
سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔ بلوچ عوام پر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی(بی
ایل اے)اور اس کی سہولت کار بلوچ یکجہتی کمیٹی،ماہ رنگ بلوچ،سمی دین بلوچ
اور صبیحہ بلوچ کی اصلیت اور مکروہ عزائم کھل کر عیاں ہوچکے ہیں۔ ایک طرف
بی ایل اے کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بلوچستان میں بلوچ عوام کے حقوق کے لیے
لڑرہی ہے دوسری طرف باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت بلوچ عوام کی نسل کشی
کی جارہی ہے۔بی ایل اے، لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ شامل ہونے پر مجبور
کرتی ہے اور انکار پر انہیں ریاستی مخبر(ڈیٹھ اسکواڈ)کے نام پر قتل کر کے
نعشیں جھاڑیوں اور ویرانوں میں پھینک کر ریاستی اداروں کے خلاف منفی
پراپیگنڈ ا شروع کیاجاتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ بی وائی سی کالعدم تنظیم بی ایل
اے کا سیاسی ونگ اور پراکسی ہے۔ماہ رنگ بلوچ،سمی دین بلوچ اور صبیحہ بلوچ
ملک دشمن ایجنٹ ہیں جو اپنے ذاتی مفادات اور سیاست کے لیے سادہ لوح بلوچ
عوام کو استعمال کررہی ہیں۔سیاسی وابستگی اور اختلاف سے ہٹ کر ایک عام
پاکستانی کی نظر سے دیکھیں،حقائق آپ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں کہ
رواں ماہ گیارہ مارچ کو بی ایل اے کے درندوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ
کیا،سیکڑوں بے گناہ مسافر وں کو یرغمالی بنایا گیا،بی وائی سی خاموش،26بے
گناہ افرادکو بحالت روزہ میں شہید کیا گیا،بی وائی سی خاموش،نوشکی میں بس
پر حملہ پانچ بے گناہ افراد کو شہید کیا گیا،بی وائی سی،ماہ رنگ بلوچ
خاموش،پنجگور کاٹا گری میں تین غیر مقامی مزدور حجاموں کو قتل کیا گیا،بی
وائی سی خاموش،تربت اسٹار پلس مارکیٹ میں صوبہ سندھ سانگھڑ کے دو مزدوروں
کو قتل کیا گیا بی وائی سی،ماہ رنگ بلوچ خاموش،بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان
حملوں کی مذمت میں ایک لفظ تک ادا نہیں کیا،مگر جیسے ہی جعفر ایکسپریس حملے
میں وصل جہنم ہونے والے خوارج کی لاشیں سول ہسپتال کوئٹہ پہنچیں،بلوچ یک
جہتی کمیٹی کے مسلح جتھوں نے ہسپتال پر حملہ کردیا،لاشیں چھین کر ”یہ لاپتہ
افراد کی لاشیں ہیں“والا وہی پرانا ڈرامہ شروع کیا۔لاشوں کو لے کر کوئٹہ
میں پرتشدد احتجاج شروع کیا گیا،بی وائی سی کے شرپسند مظاہرین نے پولیس پر
حملہ کیا،پولیس جوکہ لاٹھیوں اور واٹر کینن کے ذریعے شرپسند مظاہرین کو
منتشر کرتی ہے،کیونکہ ان کے پاس صرف یہی دوچیزیں ہوتی ہیں،بی وائی سی کے
مسلح دہشت گردوں نے تین افراد جن میں سے ایک افغانستان اور دوکوئٹہ سے باہر
کے تھے،ان کو قتل کیا اور ان کی لاشیں سڑک پر رکھ کر کوئٹہ شہر کو یرغمال
بنالیا،مقامی پولیس نے مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے مانگیں تو بی
وائی سی نے لاشیں دینے سے انکار کردیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ افراد
پولیس نہیں بلکہ بی وائی سی کے مسلح مظاہرین کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے
ہیں،مقتولین اپنے پیاروں کی لاشوں کے لیے تڑپتے رہے مگر بی وائی سی نے
ورثاکو بھی لاشیں دینے سے انکار کردیا اور ان لاشوں پراپنی سیاست چمکائی
گئی۔بی وائی سی کے لوگوں کو اشتعال انگیزی اور سول ہسپتال کوئٹہ پر حملے کے
جرم گرفتار کیا گیا،کیونکہ کسی بھی فرد کو ریاستی رٹ چیلنج کرنے،ریاستی
اداروں پر حملہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی۔بزدلانہ حملے دہشت گردی
کے خلاف قومی عزم متزلزل نہیں کرسکتے،بھارت افغانستان اپنے ناپاک مقاصد میں
کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے،پاکستان کو توڑنے والے خود مٹ جائیں گے،جب تک
مائیں اپنے بچے پاکستان پر نچھاور کرتی رہیں گی،یہ قوم بالخصوص نوجوان اپنی
افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے تو کوئی بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا
سکتا۔قومی اسمبلی میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب
کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا کہ 2018ء میں قائم ہونے
والی نااہل حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے حاصل ہونے والے ثمرات کو
ضائع کردیا اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد روک دیا جس کا خمیازہ آج
پوری قوم بھگت رہی ہے،پاکستان آج فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے،جس کا تقاضا ہے
کہ ہم سوال کریں،کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے۔فوج اور عوام ایک ہیں،ان کی
درمیان دراڑ ڈالنے کی سازش نہ پہلے کامیاب ہوئی اور نہ آئندہ ہوگی۔دہشت
گردی کو ایک بار پھر سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہم سب کو آہنی عزم کا
اعادہ کرنا ہوگا۔
|