حضرت محمد ﷺ نہ صرف ایک عظیم نبی اور مصلح تھے، بلکہ
تاریخ کے بہترین عسکری کمانڈر بھی تھے۔ آپ ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی، قیادت کے
اصول، صبر و تحمل، اور دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک نے دنیا کے عظیم ترین
جرنیلوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
1. جنگی حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی
آپ ﷺ کی قیادت میں لڑی جانے والی تمام جنگیں دفاعی نوعیت کی تھیں، لیکن ان
میں جو جنگی حکمت عملی اپنائی گئی، وہ آج کے جدید عسکری اصولوں سے بھی
زیادہ مؤثر ثابت ہوئیں۔ غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور فتح مکہ جیسے
معرکوں میں آپ ﷺ نے تدبر، حکمت اور بہترین فوجی چالوں سے دشمن کو حیران کر
دیا۔
غزوہ بدر (624ء): یہ جنگ 313 مسلمانوں اور 1000 قریشیوں کے درمیان ہوئی۔ آپ
ﷺ نے اپنی فوج کو منظم انداز میں میدان میں اتارا، صف بندی میں ترتیب رکھی
اور کم وسائل کے باوجود دشمن کو زبردست شکست دی۔
غزوہ احد (625ء): اس جنگ میں آپ ﷺ نے اسٹریٹیجک ہدایات دی تھیں، لیکن بعض
صحابہ کرامؓ کے اجتہادی فیصلے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے باوجود آپ
ﷺ نے حوصلے سے کام لیا اور شکست کو فتح میں بدلنے کی راہ دکھائی۔
غزوہ خندق (627ء): اس جنگ میں آپ ﷺ نے مدینہ کے دفاع کے لیے خندق کھودنے کی
جنگی حکمت عملی اپنائی جو اس وقت عرب میں نیا حربہ تھا، اور یہی تدبیر
کامیابی کی بنیاد بنی۔
فتح مکہ (630ء): یہ آپ ﷺ کی بہترین عسکری قیادت کا شاہکار تھا، جس میں بغیر
خون بہائے دشمن کے مضبوط قلعے فتح کر لیے گئے۔
2. بہترین قیادت کے اصول
آپ ﷺ نے اپنی افواج کو ہمیشہ عدل، مساوات اور تقویٰ کی بنیاد پر منظم کیا۔
آپ ﷺ کی قیادت میں درج ذیل اصول نمایاں تھے:
انسانی ہمدردی: آپ ﷺ نے کبھی غیر ضروری خونریزی نہیں کی، بلکہ دشمن کے ساتھ
بھی نرمی کا مظاہرہ کیا۔
دشمن کے لیے نرم گوشہ: جنگ میں بھی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک، عام شہریوں پر
حملے کی ممانعت اور درختوں و کھیتوں کو نقصان نہ پہنچانے کے احکامات دیے۔
بہترین انٹیلی جنس نظام: آپ ﷺ نے جاسوسی اور معلومات اکٹھی کرنے کا بہترین
نظام قائم کیا، جو کسی بھی کامیاب فوج کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔
3. جدید عسکری اصولوں کی بنیاد
آج کی جدید فوجی حکمتِ عملی میں کئی اصول وہی ہیں جو آپ ﷺ نے 1400 سال پہلے
متعارف کروائے:
1. دفاعی جنگ کی حکمت عملی: حملے سے پہلے دشمن کی چالوں کو سمجھنا اور
دفاعی لائن مضبوط رکھنا۔
2. ماحولیاتی حالات سے فائدہ اٹھانا: غزوہ خندق میں آپ ﷺ نے قدرتی حالات کو
جنگی حکمت عملی میں شامل کر کے دشمن کو شکست دی۔
3. دشمن کی کمزوریوں کا تجزیہ: آپ ﷺ نے ہمیشہ مخالف کی کمزوریوں کو مدنظر
رکھ کر حکمت عملی ترتیب دی۔
4. نفسیاتی جنگ: دشمن کے حوصلے کو پست کرنے کے لیے بہترین حربے استعمال کیے
گئے، جیسے کہ صلح حدیبیہ میں سفارتی کامیابی اور فتح مکہ میں بغیر لڑے
کامیابی حاصل کرنا۔
4. دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک
حضرت محمد ﷺ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے دشمنوں کو کبھی ذاتی دشمن
نہیں سمجھا۔
جنگی قیدیوں کے ساتھ نرمی برتی جاتی تھی، جیسا کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کو
فدیہ کے طور پر تعلیم دینے کا موقع دیا گیا۔
صلح حدیبیہ جیسے معاہدے کیے تاکہ خونریزی سے بچا جا سکے، حالانکہ بظاہر وہ
مسلمانوں کے لیے مشکل لگ رہا تھا، لیکن بعد میں وہی معاہدہ فتح مکہ کا سبب
بنا۔
فتح مکہ کے موقع پر دشمنوں کو عام معافی دے کر عظیم ترین رحم دلی کا مظاہرہ
کیا، جس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
نتیجہ
حضرت محمد ﷺ نے جنگی قیادت میں جو اصول اپنائے، وہ آج بھی جدید عسکری قیادت
کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آپ ﷺ نے نہ صرف میدان جنگ میں حکمت عملی، صبر و تحمل
اور بہترین منصوبہ بندی کی مثال قائم کی، بلکہ دشمنوں کے ساتھ رحم دلی، امن
پسندی اور انصاف کا پیغام بھی دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کو تاریخ کا سب سے
عظیم فوجی کمانڈر تسلیم کیا جاتا ہے۔
آج کے فوجی ماہرین اور دنیا کے عظیم جرنیل بھی آپ ﷺ کی عسکری قیادت سے
سیکھنے پر مجبور ہیں۔ آپ ﷺ کی جنگی حکمت عملی، تدبر اور قیادت کے اصول ہر
دور میں کامیابی کی ضمانت ہیں۔
|