آسٹریلیا کا تاریخی تسلط: ایشیز 2025-26 میں تیسرے ٹیسٹ سے مکمل وائٹ واش کا راستہ ہموار

ایشیز 2025-26 سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ایک اور واضح شکست دے کر سیریز میں 3-0 کی ناقابلِ تسخیر برتری حاصل کرلی۔ پرتھ کے اوول اسٹیڈیم پر ہونے والے اس میچ میں آسٹریلیا کی تیز رفتار گیند بازوں اور مضبوط بیٹنگ لائن اپ نے انگلینڈ کو ہر محاذ پر شکست دی، جس سے ایشیز پر ان کا دوبارہ غلبہ قائم ہوا اور وائٹ واش کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ایشیز 2025-26 کی سیریز تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں آسٹریلیا کی بالادستی ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن کر ابھری ہے۔ تیسرا ٹیسٹ میچ، جو پرتھ کے تاریخی اوول اسٹیڈیم پر کھیلا گیا، نے نہ صرف سیریز میں آسٹریلیا کو 3-0 کی زبردست برتری دلائی بلکہ انگلینڈ کے خلاف ان کی مکمل تفوق کی داستان کو ایک نیا باب عطا کیا۔ میچ کے پانچوں دن آسٹریلیا کی جارحانہ کرکٹ، درست حکمت عملی اور فردِ واحد کی شاندار کارکردگیوں نے انگلینڈ کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا، اور یوں ایشیز اُرسی انگلینڈ کے ہاتھ سے پھسلتی محسوس ہونے لگی۔

آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، اور یہ فیصلہ ان کی خود اعتمادی کا غماز تھا۔ اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور یوس خواجہ نے مضبوط شراکت کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں اسٹیو سمتھ اور ماخیس لیبوشین نے ایک شاندار مرکزے میں تبدیل کر دیا۔ اسٹیو سمتھ کی کلاسک سنچری، جو مشکل حالات میں آئی، نے میچ کی بنیاد رکھی۔ ان کی اننگز میں روایتی اسٹروک کے ساتھ ساتھ صبر کا بھی عنصر نمایاں تھا، جس نے انگلینڈ کے بولرز کی ہمت پست کر دی۔ لیبوشین کی تیز رفتار نصف سنچری نے اسکور کو تیز رفتار بنایا اور آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں 400 سے تجاوز کرنے کا موقع دیا۔ انگلینڈ کے بولرز، خاص طور پر ان کے سپیڈ سٹارز، وہ اثر پیدا کرنے میں ناکام رہے جو ان سے توقع کی جا رہی تھی۔

انگلینڈ کی پہلی اننگز کا آغاز تو معقول رہا، لیکن آسٹریلیا کی تیز رفتار اٹیک، خاص طور پر پیٹ کمنز اور جاش ہیزل ووڈ کی درست لائن اور لینتھ نے انہیں جلد ہی دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا۔ انگلینڈ کی بیٹنگ لائن اپ، جو 'بیزبال' طرز کے تحت جارحانہ کرکٹ کھیلنے کی حامی تھی، آسٹریلیا کی سخت اور ہوشیار بولنگ کے آگے بکھر گئی۔ صرف کپتان بین اسٹوکس نے کچھ مزاحمت کی، لیکن ان کی تنہا کوشش ٹیم کو بڑے اسکور تک لے جانے کے لیے کافی نہیں تھی۔ انگلینڈ کی پہلی اننگز میں تقریباً 150 رنز کا خسارہ آسٹریلیا کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔

دوسری اننگز میں فالو آن سے بچنے کے لیے انگلینڈ کو بہتری کی ضرورت تھی، لیکن آسٹریلیا کے اسپنر نیتھن لیون نے پرتھ کی پچ پر اپنی جادوئی بولنگ سے انگلینڈ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ لیون نے پانچ وکٹیں حاصل کرتے ہوئے انگلینڈ کی بیٹنگ کو گھماؤ اور باؤنس کی ایک الجھن میں پھنسا دیا۔ انگلینڈ کی دوسری اننگز بھی ایک بڑے اسکور تک نہ پہنچ سکی، جس کے نتیجے میں آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے محض ایک چھوٹا سا ہدف درکار تھا۔ آسٹریلیا نے بغیر کسی دباؤ کے اس ہدف کو آسانی سے حاصل کر لیا، اور میچ ایک بار پھر ان کے حق میں فیصل ہو گیا۔

تیسری فتح کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے نہ صرف ایشیز اُرسی اپنے پاس محفوظ کر لی، بلکہ انگلینڈ کے خلاف اپنی طاقت کا ایک اور ثبوت پیش کیا۔ اس فتح نے سیریز میں وائٹ واش کے امکانات کو روشن کر دیا ہے، جو انگلینڈ کے لیے ایک بھیانک خواب ہے۔ آسٹریلیا کی ٹیم میں ہر محاذ پر پرفارم کرنے والے کھلاڑی موجود ہیں، جبکہ انگلینڈ کی ٹیم اپنی حکمت عملی اور نفسیاتی جنگ دونوں میں پیچھے نظر آ رہی ہے۔ تین صفر کا یہ اسکور انگلینڈ کرکٹ کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے، اور اس کے بعد کی دو ٹیسٹ میچز میں انہیں اپنی عزت بچانے کے لیے کچھ غیر معمولی کرنا ہوگا۔ آسٹریلیا، اس دوران، اپنی تاریخ میں ایک اور یادگار ایشیز سیریز جیتنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ 
Arham
About the Author: Arham Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.