خیبر پختونخواہ میں کوچنگ کا بحران: جب کوچ اور ٹرینر میں فرق ہی ختم ہو جائے

خیبر پختونخواہ میں کھیلوں کی ترقی کے دعوے ہر بجٹ، ہر سیمینار اور ہر اجلاس میں دہرائے جاتے ہیں، مگر جب زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔ صوبے میں کام کرنے والے کوچز اور ٹرینرز آخر ہیں کون؟ ان کی تربیت کیا ہے؟ اور انہوں نے آخری بار کسی باقاعدہ کوچنگ کورس میں کب شرکت کی تھی؟ حیران کن بات یہ ہے کہ اس سوال کا واضح جواب کسی کے پاس موجود نہیں۔یہ مسئلہ صرف ایک کھیل تک محدود نہیں۔ کرکٹ، سکواش، ہاکی، ایتھلیٹکس اور دیگر کھیلوں میں ایک ہی طرز کا انتظامی ابہام پایا جاتا ہے، جہاں کوچ اور ٹرینر کی اصطلاحات آپس میں گڈمڈ ہو چکی ہیں۔

دنیا بھر میں کوچ اور ٹرینر کے کردار واضح طور پر الگ ہوتے ہیں۔ کوچ وہ ہوتا ہے جو کسی کھیل میں جدید تکنیک، حکمت عملی، نفسیاتی تیاری اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ٹرینر کا کردار زیادہ تر فٹنس، ابتدائی تربیت یا معاون تکنیکی امور تک محدود رہتا ہے۔لیکن خیبر پختونخواہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں یہ فرق کاغذوں میں تو شاید موجود ہو، عملی طور پر نہیں۔ یہاں ایسے افراد بھی کوچ کہلاتے ہیں جن کے پاس نہ بین الاقوامی سرٹیفکیشن ہے، نہ جدید کوچنگ کورسز کا کوئی ریکارڈ، اور نہ ہی حالیہ برسوں میں کسی ریفریشر ٹریننگ کا ثبوت۔

کرکٹ، جو پاکستان کا سب سے مقبول اور وسائل یافتہ کھیل ہے، وہاں بھی یہی صورتحال ہے۔ صوبائی سطح پر تعینات کئی کوچز کے بارے میں یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ انہوں نے آخری بار کب کسی تسلیم شدہ کوچنگ کورس میں حصہ لیا تھا۔ذرائع کے مطابق، کچھ کوچز ایسے ہیں جن کی تربیت ایک یا دو دہائیاں پرانی ہے، جبکہ کھیل کی تکنیک، قوانین اور فٹنس کے تقاضے اس دوران مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پرانی تربیت کے سہارے آج کے جدید کھیل کے تقاضے پورے کیے جا سکتے ہیں؟

سکواش، جو کبھی پاکستان کی پہچان تھا، آج انتظامی غفلت اور کمزور کوچنگ کی مثال بنتا جا رہا ہے۔ یہاں بھی ایسے افراد کوچنگ کے فرائض انجام دے رہے ہیں جن کے پاس صرف سابق کھلاڑی ہونے کا تجربہ ہے، مگر جدید کوچنگ ٹریننگ موجود نہیں۔ایتھلیٹکس، ہاکی اور دیگر کھیلوں میں بھی یہی سوال اٹھتا ہے کہ کوچز کی پیشہ ورانہ تربیت کا کوئی مربوط نظام کیوں موجود نہیں؟ اگر ہے تو اس کی مانیٹرنگ کیوں نہیں ہوتی؟

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کوچ اور ٹرینر، چاہے ان کی تربیت مختلف ہو یا ذمہ داریاں، اکثر ایک ہی اسکیل اور تقریباً یکساں تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف میرٹ متاثر ہوتا ہے بلکہ حقیقی کوالیفائیڈ کوچز کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے۔جب ایک شخص بغیر کسی جدید کورس کے وہی مراعات حاصل کرے جو ایک تربیت یافتہ کوچ کو ملتی ہیں، تو پھر اضافی محنت، تعلیم اور ٹریننگ کی ترغیب کہاں باقی رہتی ہے؟تحقیقی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے پاس کوچز اور ٹرینرز کی تربیتی تاریخ کا کوئی جامع اور شفاف ریکارڈ موجود نہیں، یا اگر ہے تو عوامی اور میڈیا کی دسترس سے باہر ہے۔

یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کس کوچ نے کون سا کورس کیا؟ وہ کورس کس ادارے سے تھا؟ اور اس کے بعد کتنے برسوں تک کوئی ریفریشر ٹریننگ لی گئی؟ یہ خلا انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ایک سنجیدہ پالیسی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔کرکٹ اور سکواش میں ترقیوں کے لیے غیر معمولی دباو¿ کی باتیں کھل کر کی جا رہی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا جن افراد کی پروموشن ہو رہی ہے، ان کے کاغذات واقعی مکمل جانچے جا رہے ہیں؟ کیا یہ دیکھا جا رہا ہے کہ وہ فرد کوچ ہے یا ٹرینر؟ کیا اس کی تربیت متعلقہ کھیل کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ یا صرف فائلوں میں اصطلاحات بدل کر ترقی دی جا رہی ہے؟

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ موجودہ کوچز اور ٹرینرز کی اپنی کھیلوں میں حیثیت کیا رہی ہے۔ کیا انہوں نے صوبائی یا قومی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھائی؟ یا محض انتظامی روابط کے ذریعے اس نظام کا حصہ بنے؟ دنیا بھر میں کوچنگ کے لیے عملی تجربہ، تربیت اور مسلسل سیکھنے کا عمل لازم سمجھا جاتا ہے، مگر یہاں یہ عناصر ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں کھیلوں کی بہتری کے لیے سب سے پہلے کوچ اور ٹرینر کے فرق کو واضح کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر نہ کھلاڑی بہتر ہوں گے، نہ نتائج آئیں گے، اور نہ ہی کھیلوں میں وہ مقام واپس آئے گا جس کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام کوچز اور ٹرینرز کی تربیت کا مکمل آڈٹ کیا جائے ‘جدید اور لازمی ریفریشر کورسز متعارف کروائے جائیں ‘ پروموشنز کو سختی سے تربیت اور اہلیت سے مشروط کیا جائے ‘ جب تک یہ سوال برقرار رہے گا کہ “کوچ نے آخری بار کب سیکھا تھا؟” تب تک کھیلوں کی ترقی ایک ادھورا خواب ہی رہے گی۔

#SportsGovernance
#CoachingCrisis
#KP_Sports
#CricketReform
#SquashInPakistan
#MeritInSports
#CoachVsTrainer
#SportsAccountability
#AthleteDevelopment

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1001 Articles with 777054 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More