حسن خیل اسپورٹس کمپلیکس: سات سال بعد بھی صرف عمارت، نوجوان ابھی بھی انتظار میں
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
اگر آپ پشاور کے حسن خیل سب ڈویڑن سے گزریں اور کہیں کہیں ایک بڑی عمارت دیکھیں، تو فوراً یہ نہ سمجھیں کہ یہ کوئی شاہی محل ہے یا جدید میوزیم۔ نہیں، یہ حسن خیل اسپورٹس کمپلیکس ہے۔ ایک ایسا کمپلیکس جو 2018 میں تعمیر تو کر دیا گیا تھا، مگر آج سات سال بعد بھی ویسا ہی خالی اور خاموش نظر آتا ہے جیسے کسی نے صرف "عمارت بنانے کا کام مکمل کر دیا، کھیلوں کا کیا ہے؟" کہہ دیا ہو۔
ہاں، یہ عمارت تو موجود ہے۔ پتھر، سیمنٹ، چھت، کھڑکیاں—سب کچھ موجود ہے۔ لیکن حقیقت میں اس کا اندرونی نظام، کھیلوں کی بنیادی سہولیات، گراو¿نڈ کی مرمت، سازوسامان اور انتظامی ڈھانچہ ابھی تک کسی سرکاری افسر کی فائل میں "متعلقہ شعبے کی ذمہ داری" کے تحت محض سوچ رہا ہے۔ یعنی کھلاڑی آج بھی یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ آخر کب انہیں مکمل گراو¿نڈ اور ورزش کے سازوسامان ملے گا؟
نوجوان کھلاڑیوں نے خود اپنی مدد آپ کے تحت کمپلیکس کو کسی حد تک قابل استعمال بنایا ہوا ہے۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ اگر آپ وہاں جائیں تو شاید کوئی نوجوان بیلچی اور جھاڑو لیے صفائی کر رہا ہو، تو کہیں یہ سرکاری عملہ نہیں بلکہ نوجوان خود ہی حکومت کا فرض ادا کر رہا ہے۔ چندے سے خریدے گئے گیند، فرسودہ کرکٹ بیٹ، اور پرانے جال—یہ سب نوجوانوں کی محنت اور ذاتی وسائل سے دستیاب ہیں۔
اب ذرا یہ تصور کریں کہ ہر صبح پانچ بجے نوجوان آتے ہیں اور سوچتے ہیں: آج کون سی کھیل کی مشق کریں؟ کیونکہ یہاں کوئی کوچ، کوئی ٹرینر یا کوئی سرکاری پلاننگ نہیں ہے۔ اگر کسی نے سوچا کہ یہ سب حکومت کی ذمہ داری ہے، تو وہ درست سوچ رہا ہے۔ مگر افسوس، ریاستی ذمہ داری عوام پر ڈال دی گئی ہے۔مقامی نوجوان کہتے ہیں کہ اگر حسن خیل اسپورٹس کمپلیکس کو فعال کر دیا جائے، تو یہ نہ صرف مقامی ٹیلنٹ کے سامنے آنے کا موقع بن سکتا ہے بلکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف بھی راغب کر سکتا ہے۔ ابھی حالات ایسے ہیں کہ نوجوانوں کے پاس نہ مناسب گراو¿نڈ ہے، نہ تربیت، نہ مقابلوں کے مواقع، اور اگر کھیلنا چاہیں تو جوتے پہن کر پچھلے گلی کے خالی پلاٹ میں دوڑیں۔
سرکاری حکام کی غیر توجہی کا یہ عالم ہے کہ کمپلیکس کی عمارت تو موجود ہے، لیکن اگر کوئی پوچھے کہ یہاں کب سے کرکٹ یا فٹ بال کھیلا جائے گا، تو جواب ملتا ہے: "یہ فائل میں لکھا ہے کہ کام جاری ہے۔" فائل میں کام جاری ہے، حقیقت میں نوجوان اب بھی انتظار میں ہیں۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے آپ کا بینک کہے کہ آپ کے پیسے محفوظ ہیں، اور آپ دیکھیں تو پیسے صرف کاغذ پر ہیں۔سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور مقامی شخصیات بھی اس مسئلے کی طرف توجہ دلا رہی ہیں، مگر سرکاری دائرہ کار میں ہر کوئی بس اپنی چائے اور فائل کے درمیان مصروف ہے۔ اگر یہ آوازیں بااثر لوگوں تک پہنچیں تو شاید کمپلیکس فعال ہو جائے۔ لیکن ابھی صورتحال یہ ہے کہ چھت تو موجود ہے، دروازے بھی، اور کھلاڑی اب بھی اپنے ذاتی جوش اور حوصلے کے ذریعے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذرا تصور کریں کہ ہر دن یہاں کے نوجوان یہ سوچتے ہیں: آج کون سا کھیل کھیلیں؟ کرکٹ؟ مگر گیند فرسودہ ہے۔ فٹ بال؟ پرانے جال کے ساتھ۔ والی بال؟ رسی کے بغیر؟ پھر بس ہر کوئی سوچتا ہے کہ چلیں، ورزش کے لیے بھاگ دوڑ کر ہی سہی، کچھ تو فائدہ ہوا۔حسن خیل اسپورٹس کمپلیکس ایک ایسا منصوبہ ہے جو صرف عمارت تک محدود رہ گیا ہے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے آپ کسی ریسٹورنٹ کا بیرونی حصہ دیکھیں، بڑا، شاندار، مگر اندر جائیں تو نہ کرسیاں، نہ میزیں، نہ کھانے کا سامان۔ بالکل ویسا ہی، نوجوان کمپلیکس میں آتے ہیں اور کھیلنے کی امید رکھتے ہیں، مگر سازوسامان اور سہولیات کی کمی انہیں مایوس کر دیتی ہے۔
مقامی لوگ کہتے ہیں کہ حسن خیل کے نوجوان بھی وہی سہولیات کے حقدار ہیں جو دیگر علاقوں کے نوجوانوں کو میسر ہیں۔ لیکن سرکاری پالیسی کے مطابق یہ نوجوان بس "عمارت والے نوجوان" ہیں، اور عمارت کے باہر کھڑے رہنا ہی ان کی کھیلوں کی تربیت ہے۔
اگر بروقت توجہ دی گئی تو یہ کمپلیکس مستقبل کے کھلاڑیوں کی نرسری بن سکتا ہے۔ ابھی حالات یہ ہیں کہ یہاں کے نوجوان خود ہی کھود کھود کر، صفائی کر کے اور چندہ جمع کر کے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بس سمجھ لیں کہ حکومت نے انہیں "محنتی خود مختار کھلاڑی" بنانے کا منصوبہ بنا دیا ہے۔سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں نے معروف شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کو اجاگر کریں۔ لیکن اس وقت تک نوجوان وہی کر رہے ہیں جو انہوں نے شروع میں کیا تھا: خود اپنی مدد، خود کی محنت، اور خود کا حوصلہ۔ اگرچہ یہ سب تعریف کے قابل ہے، مگر حقیقت میں یہ سب حکومتی ذمہ داری ہے، جو عوام پر ڈال دی گئی ہے۔
اب تھوڑی مزاحیہ تصویر دیکھیے: نوجوان صبح چھ بجے کمپلیکس آتے ہیں۔ ایک لڑکا کرکٹ کا بیٹ لے کر کھڑا ہے، مگر گیند پرانے جال میں پھنس گئی ہے۔ دوسرا فٹ بال کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر جال نہیں ہے۔ ایک گروپ والی بال کھیلنا چاہ رہا ہے، مگر نیٹ پرانے کپڑے سے باندھا گیا ہے۔ اور سب سے دلچسپ منظر یہ ہے کہ یہ سب کچھ سرکاری فائلوں کے مطابق "فعال اسپورٹس کمپلیکس" میں ہو رہا ہے۔یہ صورتحال بالکل ویسا ہی ہے جیسے آپ کے کمپیوٹر میں ایک شاندار گیم انسٹال ہو، لیکن بٹن کام نہ کریں۔ نوجوان کمپلیکس میں آتے ہیں، محنت کرتے ہیں، مگر کھیل کی سہولیات موجود نہیں۔ صرف عمارت موجود ہے، اور باقی سب کچھ "ممکنہ امکانات" کی شکل میں ہے۔
مقامی نوجوان کہتے ہیں کہ اگر حکومت تھوڑی سی توجہ دے اور بنیادی سہولیات فراہم کرے، تو یہ کمپلیکس مستقبل میں ٹاپ کھلاڑی پیدا کر سکتا ہے۔ ابھی حالات یہ ہیں کہ نوجوان صرف اپنی محنت اور ذاتی وسائل سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہ حقیقت میں سرکاری ناکامی کا روشن ثبوت ہے۔یہ سب کچھ دیکھ کر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حسن خیل اسپورٹس کمپلیکس ایک "سرکاری خواب" ہے، جو عمارت تک محدود ہے اور نوجوان ابھی بھی خواب دیکھ رہے ہیں۔ عمارت تو موجود ہے، مگر کھیل کی حقیقی سہولیات کا انتظار سات سال بعد بھی جاری ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بھی درست ہے کہ حسن خیل کے نوجوان وہی حقدار ہیں جو دوسرے علاقوں کے نوجوانوں کو میسر ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ دوسرے علاقوں میں سرکاری توجہ اور سہولیات ہیں، اور حسن خیل میں نوجوان اپنی محنت، چندہ اور جوش کے بل بوتے پر کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایک مزاحیہ مگر سنجیدہ حقیقت ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو یہ کمپلیکس بھی بس ایک عمارت تک محدود رہ جائے گا، اور نوجوانوں کے خواب فائلوں میں رہ جائیں گے۔
#HassanKhel #SportsInKP #KPYouth #SportsDevelopment #YouthOpportunities #GovernmentNegligence #Kikxnow #SportsInAction #PublicFacilities #ComedyReport
|