خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز: نوجوانوں کی توانائی، کھیلوں کا عروج اور پشاور ریجن کی تاریخی برتری


خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز کا کامیاب انعقاد صوبے میں کھیلوں کے فروغ، نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور مثبت سرگرمیوں کے تسلسل کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آیا۔ یہ ایونٹ صرف میڈلز اور ٹرافیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے صوبے کے نوجوانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم دیا جہاں مقابلہ، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور اسپورٹس مین اسپرٹ عملی شکل میں نظر آئی۔ان گیمز میں سب سے نمایاں کارکردگی پشاور ریجن کے کھلاڑیوں نے دکھائی، جنہوں نے مجموعی طور پر 189 میڈلز جیت کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 124 گولڈ، 43 سلور اور 22 برانز میڈلز کے ساتھ پشاور ریجن نے ثابت کیا کہ بہتر منصوبہ بندی، مسلسل تربیت اور مضبوط سپورٹس اسٹرکچر کس طرح نتائج دیتا ہے۔ مختلف کھیلوں میں پشاور کے نوجوانوں کی برتری اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ٹیلنٹ کو مواقع ملیں تو وہ خود بولتا ہے۔

ملاکنڈ ریجن نے 97 میڈلز کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کر کے یہ پیغام دیا کہ یہ خطہ بھی کھیلوں کے حوالے سے کسی سے کم نہیں۔ محدود وسائل کے باوجود ملاکنڈ کے کھلاڑیوں نے جس جذبے اور محنت سے مقابلہ کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ اسی طرح مردان ریجن نے 85 میڈلز کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی اور کئی مقابلوں میں سخت مقابلہ پیش کیا۔ مردان کے کھلاڑیوں کی کارکردگی نے شائقین کو آخری لمحے تک کھیل سے جوڑے رکھا۔ڈی آئی خان ریجن نے 65 میڈلز کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی، جبکہ ہزارہ ریجن نے مجموعی طور پر 104 میڈلز جیتے اور پانچویں نمبر پر رہا۔ بنوں ریجن 84 میڈلز کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا، جبکہ کوہاٹ ریجن نے 77 میڈلز حاصل کر کے ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ کوہاٹ ریجن کو فیئر پلے ٹرافی سے نوازا جانا اس بات کی علامت ہے کہ کھیل میں صرف جیت ہی نہیں بلکہ اخلاقیات اور نظم و ضبط بھی اتنے ہی اہم ہیں۔

انڈر 21 گیمز کی ایک بڑی خوبی یہ رہی کہ اس میں صوبے کے ساتوں ریجنز سے پانچ ہزار سے زائد مرد و خواتین کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ 18 خواتین اور 38 مردوں کے کھیلوں کا شامل ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں خواتین کھیلوں کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ خواتین کھلاڑیوں کی بھرپور شرکت اور ان کی کارکردگی نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ صوبے میں اسپورٹس اب صرف مردوں تک محدود نہیں رہا۔خصوصی افراد کے لیے اسٹینڈنگ کرکٹ اور پست قامت کھلاڑیوں کے مقابلوں کا انعقاد اس ایونٹ کو دیگر کھیلوں سے منفرد بناتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف شمولیتی کھیلوں کی حوصلہ افزائی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ کھیل ہر فرد کے لیے ہیں، چاہے اس کی جسمانی ساخت یا صلاحیت کچھ بھی ہو۔ ان مقابلوں میں کھلاڑیوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر شائقین نے کھڑے ہو کر داد دی۔

اس میگا ایونٹ کا افتتاح وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں کیا، جو خود کھیلوں کے فروغ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ گیمز کے دوران وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر اور ایڈیشنل ڈی جی سپورٹس رشیدہ غزنوی نے مختلف وینیوز کے دورے کیے، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور کیش انعامات و ٹرافیاں تقسیم کیں۔ ان شخصیات کی موجودگی نے کھلاڑیوں کو یہ احساس دلایا کہ ان کی محنت کو سراہا جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز نے یہ بھی ثابت کیا کہ اگر صوبائی سطح پر باقاعدہ اور تسلسل کے ساتھ ایونٹس منعقد کیے جائیں تو قومی اور بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ ان گیمز کے کئی کھلاڑی مستقبل میں قومی ٹیموں کا حصہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی مناسب رہنمائی اور تربیت جاری رکھی جائے۔مجموعی طور پر یہ ایونٹ نہ صرف کھیلوں کے میدان میں ایک کامیاب تجربہ رہا بلکہ اس نے نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ کھیل صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں، اور خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز اس سمت میں ایک مضبوط قدم ثابت ہوئے ہیں۔ اگر آئندہ بھی اسی جذبے، شفافیت اور منصوبہ بندی کے ساتھ ایسے ایونٹس کا انعقاد ہوتا رہا تو صوبہ کھیلوں کے نقشے پر مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔

#KPUnder21Games
#PeshawarRegion
#KhyberPakhtunkhwaSports
#YouthGames
#SportsForAll
#InclusiveSports
#WomenInSports
#FutureChampions
#FairPlay
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1001 Articles with 776924 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More