ٹیبل ٹینس روبوٹس یا روبوٹک بہانے؟ صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے دعوے حقیقت سے دور

صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا موقف اور حقیقت کے درمیان فرق شاید سب سے مزے دار اور پیچیدہ کھیل بن گیا ہے۔ یہاں کھلاڑی تربیت لے رہے ہیں، گولڈ میڈل جیت رہے ہیں، اور روبوٹ مشینیں ورکنگ کنڈیشن میں ہیں۔ لیکن زمین پر حقیقت ایک بالکل مختلف کہانی سناتی ہے۔

سال 2018-19 میں صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے چین سے دو ٹیبل ٹینس روبوٹس خریدے۔ قیمت سن کر آپ کے کان بھی کھڑے ہو جائیں گے: پانچ لاکھ ستانوے ہزار پانچ سو روپے۔ یعنی ایک طرح سے یہ روبوٹ صرف کھیل کے لیے نہیں، بلکہ کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے ایک چھوٹا سا قیمتی خزانہ تھے۔ ڈائریکٹریٹ کے مطابق، ان مشینوں نے سینکڑوں کھلاڑیوں کو تربیت دی، جس کی بدولت وہ انٹر بورڈ، فیڈرل بورڈ اور ساوتھ ایشین چیمپئن شپ (کوئٹہ) میں گولڈ میڈلز اور اعلیٰ پوزیشن حاصل کرتے رہے۔

یہ سب سن کر لگتا ہے کہ جیسے یہ روبوٹ مشینیں کوئی جادوئی چیز ہیں جو بغیر کسی انسان کے نگرانی کے کھلاڑیوں کو عالمی چیمپئن بنا رہی ہیں۔ حقیقت میں، ایسا کچھ نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ دو میں سے ایک مشین ایک کوچ کے ساتھ کمرے میں بند کر دی گئی، جیسے یہ کوئی قومی خزانہ ہو۔ دوسری مشین کھلے عام گراونڈ پر پڑی ہے، جیسے کہ کسی نے اسے بس "یہ بھی چلتا ہے یا نہیں" کے تجربے کے لیے چھوڑ دیا ہو۔

مزید مزاحیہ پہلو یہ ہے کہ یہ روبوٹ مشینیں چلانے کے لیے بال کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ بال، میرے دوست، مہنگے بال ہیں—ایک لاکھ روپے سے زائد کے۔ اور فنڈز کی کمی؟ یہ وہ مسئلہ ہے جس نے یہ مشینیں بس ایک مرتبہ استعمال ہونے کے بعد ضائع کر دیا۔ بیگنرز کے لیے شاید یہ ٹھیک ہو، لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ عوامی ٹیکس کے پیسے ہیں۔کوچز کہتے ہیں کہ "یہ مشینیں چلتی ہیں، لیکن بال کے بغیر کچھ نہیں۔" اور یہ بال لینے کے لیے اتنے فنڈز نہیں کہ لاکھوں روپے کے بال خریدے جا سکیں۔ نتیجہ؟ مشینیں گرا?نڈ پر پڑی ہیں، بال کے بغیر، بغیر کسی استعمال کے، جیسے کہ یہ کسی نے صرف دکھانے کے لیے خریدی ہوں۔

یہاں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ اپنی رپورٹس میں یہ سب خوبصورت بنا کر پیش کرے گا۔ سینکڑوں کھلاڑی تربیت لے رہے ہیں، گولڈ میڈل جیت رہے ہیں، اور روبوٹ مشینیں ورکنگ کنڈیشن میں ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف چند مخصوص کھلاڑیوں نے ان مشینوں سے فائدہ اٹھایا، اور باقی سب… بس مشینوں کی موجودگی دیکھ کر خوش ہو گئے۔ٹھیکیدار یا جو شخص اس مشین کی خریداری کی منظوری دینے والا تھا، اس نے اپنے کام کی تکمیل کر لی۔ عوامی ٹیکس کی رقم سے خریدی گئی یہ مشینیں عملی طور پر ضائع ہو گئی ہیں، لیکن یہ سب سرکاری رپورٹوں میں کہیں نظر نہیں آئے گا۔ یہ ہے وہ کلاسیکی "کاغذ پر سب کچھ درست، زمین پر سب کچھ غلط" والی صورتحال۔

یہ کہانی ایک طرح سے مزاحیہ بھی ہے۔ صرف سوچیں، ایک لاکھ روپے کا بال نہیں، لیکن پانچ لاکھ کی مشین خرید دی گئی۔ مشینیں وہاں ہیں، کھلاڑی ہیں، لیکن تربیت… بس نام کی۔ اور یہ سب کچھ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ہو رہا ہے۔ یعنی آپ کا ٹیکس، آپ کی محنت کا نتیجہ، ایک روبوٹ مشین کے لیے جو بال کے بغیر صرف سجاوٹ ہے۔یہاں تک کہ مشینوں کی حالت بھی اس سارے منظرنامے کو مزید دل لگی بناتی ہے۔ ایک مشین ایک کوچ کے کمرے میں بند، جیسے کسی نے کہا ہو "یہ صرف میرے لیے ہے، باقی سب چھوڑ دو"۔ دوسری مشین گراونڈ پر پڑی، جیسے کوئی بھول گیا ہو کہ یہ بھی استعمال ہو سکتی تھی۔ فنڈز کی کمی، بال کا مسئلہ، اور رپورٹ میں مثبت تصویر—یہ تین عناصر ایک ساتھ مل کر ایک ایسا ڈرامہ تخلیق کرتے ہیں جو شاید کسی کامیڈی شو کے لیے بھی بہترین مواد ہو۔

یہ سب کچھ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بعض اوقات سرکاری ادارے اپنی حقیقت کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ حقیقت سے کہیں زیادہ روشن لگے۔ لیکن حقیقت میں، کچھ نہیں ہوا۔ چند مخصوص کھلاڑی مستفید ہوئے، باقی سب نے مشینوں کو دیکھ کر ہی خوش ہو گئے۔ اور سب سے دلچسپ پہلو؟ ٹھیکیدار اور خریداری کی منظوری دینے والے اپنا کام مکمل کر چکے، جو کہ ان کے لیے سب سے اہم تھا۔مزاحیہ اور تنقیدی زاویہ یہ ہے کہ عوامی ٹیکس کی رقم سے خریدی گئی مشینیں، جو تربیت کے لیے ہونی چاہیے تھیں، عملی طور پر ضائع ہو گئی ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے کھلاڑی تربیت لے رہے ہیں، گولڈ میڈل جیت رہے ہیں، اور روبوٹ مشینیں ورکنگ کنڈیشن میں ہیں۔ زمین پر حقیقت، رپورٹوں میں فسانہ۔

یہ کہانی نہ صرف صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے موقف اور حقیقت کے فرق کو دکھاتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ کس طرح عوامی فنڈز کو ضائع کر کے اپنی سرکاری رپورٹوں کو خوبصورت بنایا جاتا ہے۔ ایک طرف کھلاڑی، روبوٹ مشینیں اور تربیت کے دعوے؛ دوسری طرف حقیقت، فنڈز کی کمی، اور مشینوں کی بے عملی۔آخر میں یہ سب کچھ ایک سبق دیتا ہے: اگر آپ نے کبھی سوچا کہ روبوٹ مشینیں کھلاڑیوں کو خودکار طور پر چیمپئن بنا دیں گی، تو آپ کو شاید تھوڑا مزاحیہ اور تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے کہ فنڈز محدود ہیں، لیکن خریداری کی رقم زیادہ تھی، اور رپورٹ میں سب کچھ بہترین دکھانا ضروری تھا۔

یہ کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ صرف منصوبہ بندی اور خریداری کا مطلب یہ نہیں کہ عوامی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ روبوٹ مشینیں وہاں موجود ہیں، لیکن تربیت اور فائدہ محدود ہیں۔ عوامی فنڈز کا اصل مقصد—یعنی کھلاڑیوں کی تربیت اور کھیلوں کی ترقی—ادھورا رہ گیا ہے، اور یہ سب کچھ ایک مزاحیہ، لیکن تنقیدی منظرنامے میں بدل گیا ہے۔یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عوامی فنڈز کے ساتھ کھیلنا آسان نہیں۔ ایک طرف سرکاری رپورٹوں میں کامیابی کے دعوے، دوسری طرف زمین پر حقیقت کی تلخ ہنسی۔ اور اسی تضاد میں، ہم سب ایک طرح سے کھیل کے سب سے بڑے مزاحیہ منظر کے شا?د ہیں۔

#TableTennis #KPYouthSports #PublicFundsWasted #SportsCorruption #PakistanSports #Accountability #ComedyFeature

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1001 Articles with 776746 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More