انڈر 21 کھیل: خیبرپختونخوا حکومت کا مثبت اقدام ریجنل بدانتظامی کے سائے میں


صوبہ خیبرپختونخوا میں انڈر 21 سطح پر کھیلوں کا انعقاد نئے اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے ایک روشن موقع تھا۔ یہ پروگرام نوجوانوں کی ٹیلنٹ کو سامنے لانے، کھیلوں کی بنیادی ترقی کو فروغ دینے اور صوبے میں باصلاحیت کھلاڑیوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کے لیے ترتیب دیا گیا۔ مگر جو کچھ ریجنل سطح پر ہوا، وہ اس مقصد کے بالکل برعکس تھا۔

ذرائع کے مطابق، مختلف کھیلوں میں سلیکشن شفاف انداز میں نہیں ہوئی۔ آر ایس اوز، جو گریڈ اٹھارہ کے افسران ہیں اور عملی طور پر اپنے اضلاع میں بے تاج بادشاہ بن چکے ہیں، اپنی ذمہ داریوں سے غافل نظر آئے۔ ڈی سی سی کے تحت ملنے والے اسپورٹس پروموشن فنڈز کی تقسیم اور استعمال پر کسی نے نظر نہیں رکھی۔ ہر ضلع کے لیے علیحدہ فنڈز موجود ہونے کے باوجود، بیشتر آر ایس اوز نے نہ تو مقامی سطح پر سرگرمیاں کرائیں اور نہ ہی اپنی اصل ذمہ داریاں پوری کیں۔یہ خاموشی اور غفلت آخرکار صوبائی حکومت کے لیے مسائل کا سبب بنی۔ انڈر 21 مقابلوں کی تیاری کے دوران کوچز کی مرضی کے مطابق سلیکشن کی گئی، حالانکہ ایک ماہ سے زائد وقت موجود تھا کہ کھلاڑیوں کی درست تصدیق کی جاتی۔ جب ریجنل سطح پر کام نہیں ہوا، تو سارا بوجھ ڈائریکٹوریٹ پر آ گیا، اور انہیں وہ “گند” صاف کرنا پڑا جو ریجنل سطح پر پیدا ہوا تھا۔

یہ مسائل صرف سلیکشن تک محدود نہیں تھے۔ کئی مقامات پر ڈیپارٹمنٹ کے کھلاڑی شامل کیے گئے، جس سے انڈر 21 کے اصل تصور کو شدید نقصان پہنچا۔ ٹائیکوانڈو ایونٹ اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ سات ٹیمیں شامل تھیں، اور ساتوں نے اعتراض کیا کہ مقابلوں میں ڈیپارٹمنٹ کے کھلاڑی کھیل رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساتوں ٹیمیں اعتراضات میں الجھ گئیں، اور کھیل کا مقصد بالکل پس منظر میں چلا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ جب توجہ صرف جیتنے پر مرکوز ہو، اور اصولوں کو نظرانداز کیا جائے، تو مسائل کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ انڈر 21 پروگرام نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے لیے بنایا گیا تھا، نہ کہ پرانے اور ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو دوبارہ میدان میں لانے کے لیے۔

کئی نوجوان کھلاڑی جو ہفتوں کی محنت کے بعد اپنے اضلاع کی ٹیم میں جگہ پانے کے لیے کوشاں تھے، مایوس ہوئے۔ ایک نوجوان کھلاڑی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، “ہم نے اپنی بہترین کارکردگی دکھائی، مگر سلیکشن میں ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ کوچز کی پسند اور ڈیپارٹمنٹ کے کھلاڑیوں کو ترجیح دی گئی۔ ہمیں موقع ہی نہیں ملا کہ ہم اپنے کھیل کا حقیقی مظاہرہ کریں۔”یہ صرف ایک مثال نہیں، بلکہ متعدد کھلاڑیوں کی مشترکہ شکایت ہے کہ ریجنل سطح پر سلیکشن مکمل طور پر غیر شفاف اور ذاتی پسند پر مبنی ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ نہ صرف موقع کا نقصان ہے بلکہ اعتماد اور حوصلے پر بھی اثر ڈال رہا ہے۔

مسئلہ صرف سلیکشن کا نہیں ہے۔ ہر ضلع کے لیے الگ الگ فنڈز موجود ہیں، مگر بیشتر آر ایس اوز نے نہ تو اپنے اضلاع میں سرگرمیاں کرائیں اور نہ ہی ان فنڈز کا درست استعمال کیا۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ مقابلوں کے انعقاد سے لے کر کھلاڑیوں کی تصدیق تک، تقریباً ہر مرحلے میں ریجنل انتظامیہ ناکام رہی۔یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، تو ان کی شفاف اور مو¿ثر تقسیم اور استعمال کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ جوابدہی کی کمی نے نوجوان کھلاڑیوں کے مواقع کو متاثر کیا اور صوبائی حکومت کے منصوبے کو نقصان پہنچایا۔

ریجنل سطح پر بدانتظامی کے اثرات صرف موجودہ انڈر 21 مقابلوں تک محدود نہیں ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا، تو صوبے میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی متاثر ہوگی۔ نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا مقصد پورا نہیں ہو گا اور نوجوان کھلاڑی مستقبل میں کھیلوں سے دور ہو سکتے ہیں۔یہ صورت حال نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ صوبائی حکومت کے مثبت اقدامات کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ عوام میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے منصوبے صرف کاغذ پر اچھے ہیں، جبکہ زمینی سطح پر ان کا عمل ناکام ہے۔

اس بحران کا حل شفافیت، جوابدہی اور مستقل نگرانی میں مضمر ہے۔ چند ممکنہ اقدامات درج ذیل ہیں: شفاف سلیکشن عمل: کھلاڑیوں کی سلیکشن کے لیے معیار اور اصول واضح ہوں اور اس پر آزاد مانیٹرنگ ہو۔ آزاد آڈٹ: آر ایس اوز کی کارکردگی اور فنڈز کے استعمال کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہو۔ نوجوان کھلاڑیوں کی نمائندگی: مقابلوں میں صرف انڈر 21 کھلاڑی شامل ہوں، ڈیپارٹمنٹ کے سابق یا پرانے کھلاڑیوں کو استثناءنہ دیا جائے۔کوچز اور افسران کی جوابدہی: کوچز اور ریجنل افسران کے فیصلوں کی نگرانی ہو اور ذاتی پسند کو موقع نہ ملے۔

انڈر 21 کھیلوں کا پروگرام خیبرپختونخوا کے لیے ایک روشن قدم ہے، مگر ریجنل سطح پر بدانتظامی اور ذاتی پسند و ناپسند نے اس کا اصل مقصد متاثر کیا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنا حکومت کا مثبت اقدام ہے، لیکن اگر نظامی اصلاحات نہ کی جائیں، تو یہ اقدامات اپنی ساکھ کھو سکتے ہیں۔ حکومت، افسران اور کوچز کو مل کر شفاف اور منصفانہ ماحول فراہم کرنا ہوگا تاکہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ کا حقیقی مقصد پورا ہو۔

#KPKSports #Under21Sports #YouthDevelopment #SportsMismanagement #AccountabilityInSports #RSOFraud #EmergingAthletes #SportsGovernance #TaekwondoControversy #ProvincialSports

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1001 Articles with 776673 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More