“بین الاقوامی فائٹر یا فنڈز کا جادوگر؟ پنجاب حکومت کی مالی امداد اور مارشل آرٹس کے معجزے!”
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ کھیل کے میدان میں صرف کھلاڑی نہیں، جادوگر بھی ہوتے ہیں، جو ہر قومی ناکامی کے بعد بین الاقوامی گولڈ میڈل لے جاتے ہیں۔ جی ہاں، بات ہو رہی ہے ایک مارشل آرٹس فائٹر کی، جس کی اپیل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، اور پھر پنجاب حکومت نے بڑی سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ تین لاکھ روپے جاری کر دیے۔
اب یہاں سب سے پہلے سوال یہ پیدا ہوتا ہے: یہ تین لاکھ روپے کس نے مانگے اور کس نے دے دیے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں فنڈز کی دنیا بھی عجیب و غریب ہے۔ ایک طرف حقیقی محنتی کھلاڑی بنیادی سہولیات کے بغیر پس رہے ہیں، اور دوسری طرف ہمارے اس بین الاقوامی فائٹر نے بغیر کسی “ٹیسٹ” یا کارکردگی کی تصدیق کے لاکھوں روپے سمیٹ لیے۔
ذرائع کے مطابق، مارشل آرٹ کی متعلقہ کھلاڑی سات سال پہلے بھی پانچ لاکھ روپے کی میٹ صوبائی حکومت سے حاصل کر چکی تھی۔ اور پھر مختلف مدات میں مزید تقریباً تیرہ لاکھ روپے صوبائی حکومت سے لے چکی ہے۔ اس کے بعد 2026 میں بھی تقریباً تین لاکھ روپے جاری ہوئے۔ مطلب یہ کہ اگر فنڈز کی تعداد جمع کریں تو یہ تقریباً ایسے لگتا ہے جیسے یہ لڑکی ایک فنڈز کی ATM ہو، جو ہر سال خود بخود رقم نکالتی ہے۔
اب آئیے اس کے ایک اور پہلو پر نظر ڈالتے ہیں۔ قومی مقابلوں میں یہ فائٹر گولڈ میڈل نہیں جیت پاتی، اور اچانک بین الاقوامی ایونٹس میں گولڈ لے جاتی ہے۔ لگتا ہے کہ یہ کھیل کے قوانین سے بالاتر ہے، یا پھر بین الاقوامی مقابلے پاکستان سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے لیے خصوصی “جادوئی ایونٹس” ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہاں رقیب کھلاڑی بھی موجود تھے یا صرف ہمارا فنڈز والا جادوگر مد مقابل تھا؟
یہاں ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ کھیل صرف میڈل جیتنے کا نام نہیں، بلکہ میرٹ اور محنت کی پہچان بھی ہے۔ لیکن جب فنڈز کی گنتی ہوتی ہے اور سلیکشن کا معیار شفاف نہیں، تو کھیل کے نظام پر بھی شک ہونا فطری ہے۔ اور ہمارے اس بین الاقوامی فائٹر نے یہ شفافیت کے سوال بڑے ہی مزاحیہ انداز میں اٹھا دیے ہیں۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس کی اپیل اتنی وائرل ہوئی کہ لگتا ہے ہر پاکستانی نے اس کا پوسٹ شیئر کیا۔ یعنی فنڈز کے لیے ہائی پرفارمنس کی جگہ “وائرل ہونے کی پرفارمنس” کافی تھی۔ اور پنجاب حکومت نے بھی فوری طور پر جواب دیا: “فائٹر، تین لاکھ روپے لے لو، آگے بڑھو!” یہاں تک کہ شاید محکمہ خزانہ بھی سوچ رہا ہو کہ یہ لڑکی فنڈز کا بین الاقوامی سفیر ہے۔
اب ذرا تفصیل میں جائیں۔ سات سال پہلے پانچ لاکھ روپے، پھر مختلف مدات میں تیرہ لاکھ روپے، اور 2026 میں تین لاکھ روپے۔ اگر ہم ان سب کا مجموعہ نکالیں تو یہ تقریباً اٹھارہ لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اور یہ سب ایک کھلاڑی نے صرف اس بنیاد پر حاصل کیے کہ وہ خود کو بین الاقوامی فائٹر کہتی ہے۔ جبکہ اصل میں قومی مقابلوں میں وہ میڈل نہیں جیت پاتی۔ مزاحیہ نہیں؟
یہ معاملہ صرف ایک کھلاڑی کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا عکس ہے۔ یعنی فنڈز کی تقسیم اور بین الاقوامی دعووں کے درمیان فرق۔ یہ ایسے ہے جیسے کسی نے کہا: “میں خلا باز ہوں!” اور پھر بین الاقوامی خلائی مشن میں گولڈ میڈل جیت لیا۔ اور پنجاب حکومت نے بھی ہنس کر کہا: “ٹھیک ہے بیٹا، فنڈز دے دیے!”
اور پھر یہ سوال آتا ہے کہ ایسے کھلاڑی جو بین الاقوامی ایونٹس میں گولڈ لے جاتے ہیں، ان کا اصل معیار کیا ہے؟ کیا وہ واقعی اتنے شاندار ہیں یا صرف فنڈز کی دنیا کے جادوگر ہیں؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کھلاڑی واقعی محنتی ہے، لیکن فنڈز اور سلیکشن کے نظام میں موجود تضاد نے اسے اتنا فائدہ دے دیا کہ لگتا ہے جیسے یہ لڑکی کھیلوں کی دنیا کی “فنڈز فریئر” ہو۔
یہاں سب سے زیادہ مزاحیہ بات یہ ہے کہ قومی سطح پر گولڈ نہ جیتنے والے کھلاڑی بین الاقوامی ایونٹس میں اچانک چیمپئن بن جاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر آپ قومی مقابلوں میں ناکام ہو جائیں تو بھی آپ کے لیے بین الاقوامی گولڈ محفوظ ہے۔ یہ نہ صرف کھیل کے اصولوں پر طنز ہے بلکہ فنڈز کے نظام کی بھی مزاحیہ تصویر ہے۔
آخر میں یہ کہنا پڑے گا کہ یہ معاملہ صرف فنڈز کا نہیں، بلکہ شفافیت، میرٹ اور کھیل کے نظام کی ساکھ کا ہے۔ ایک طرف نوجوان کھلاڑی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں، اور دوسری طرف ایک کھلاڑی لاکھوں روپے بغیر کسی سخت جانچ کے حاصل کر رہی ہے۔ اور ہم سب حیران ہیں کہ فنڈز کا یہ جادوگر کیسے بین الاقوامی سطح پر گولڈ جیت سکتا ہے۔
تو آخر میں بس اتنا کہنا باقی ہے: بین الاقوامی فائٹر، فنڈز کا جادوگر، اور سوشل میڈیا کا ستارہ—یہ تینوں مل کر کھیل کے نظام کو نہ صرف حیران کر رہے ہیں بلکہ ہمیں بھی ہنسنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اور پنجاب حکومت؟ وہ بس خوش ہے کہ فنڈز اپنی جگہ ہیں، اور کھلاڑی خوش ہے کہ بین الاقوامی گولڈ اس کے نام۔ #kikxnow #digitalcreator #sportnews #Mojo #mojosports #tykwindo #player #goldmedal #sportnews #Mojo #musarratullahjan
|