پشاور کے لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم: کھلاڑیوں کی محنت، حکومت کی "فنکاری" اور کیچڑ کا شاہکار

پشاور کا لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم، جو کروڑوں روپے کی لاگت سے پاکستان سپورٹس بورڈ نے تعمیر کیا تھا، آج کھلاڑیوں کے لیے خطرے کی علامت بن چکا ہے۔ ہاں، وہی سٹیڈیم جسے تین سال پہلے "جدید" اور "پرفیکٹ" کہا گیا تھا، آج کیچڑ، ٹوٹے گول پوسٹس اور دھنسے ہوئے ٹرف کی وجہ سے ایک ہاکی میوزیم کی طرح لگ رہا ہے۔

شروع سے ہی اس پر سوالات اٹھتے رہے۔ اضافی ڈائریکٹر جنرل سپورٹس رشیدہ غزنوی نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا، اور پھر کیا ہوا؟ ڈی جی خالد خان نے ایک کمیٹی بنا دی، جیسے کہ کوئی مسئلہ "دیکھنے" سے خود بخود حل ہو جائے۔ اور پھر… خاموشی۔ اتنی خاموشی کہ لگتا ہے جیسے یہ سٹیڈیم کسی ریٹائرڈ بھوت کا گھر بن گیا ہو۔اب آئیے حقیقت کی دنیا میں چلتے ہیں۔ بیس خراب ہے، مطلب کھلاڑی جتنا دوڑیں، کیچڑ میں اڑ جائیں گے۔ گول پوسٹ ٹوٹا ہوا ہے، کھلاڑی گول کرنے کی کوشش کریں گے اور شاید بال زمین میں دھنس جائے یا خود کھلاڑی کیچڑ میں گر کر ورزش کر لیں۔ ٹرف دھنس چکا ہے، کچھ جگہیں جتنی اوپر ہیں، اتنی نیچے کہ لگتا ہے کوئی اندر سے زمین کھود رہا ہو۔ فوارے؟ وہ بھی کام نہیں کر رہے۔ شاید یہ "فن پارہ" کسی آرٹ گیلری کے لیے چھوڑا گیا تھا۔

اور سب سے دلچسپ بات؟ آر ٹی آئی جمع کرائی گئی، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ پاکستان میں آر ٹی آئی کا مطلب ہے: "ہم جانتے ہیں تم نے سوال کیا، مگر ہم نے کان نہیں سنے۔" اسی اصول پر صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ چل رہا ہے۔خیبرپختونخواہ ہاکی ایسوسی ایشن نے بھی تحریری طور پر درخواست دی، لیکن معاملہ وہیں کا وہیں۔ سب ڈائریکٹروں کی دوڑ پیچھے چھوڑ والی ہے، شاید وہ اپنے کرسیوں کی حفاظت میں مصروف ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ سٹیڈیم کھلاڑیوں کے لیے ہے یا حکومت کی ناکامی کی نمائش کے لیے؟ اگر کھلاڑی یہاں دوڑیں، تو انہیں خود کو زلزلہ زدہ سمجھنا چاہیے، کیونکہ ٹرف دھنسا ہوا ہے اور ہر قدم کے ساتھ زمین کا جھٹکا لگ رہا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ "ہاکی" کھیلنے آتے ہیں، لیکن اصل کھیل ہے "کیچڑ میں گرنا اور بچنا"۔تین سال پہلے جب سٹیڈیم بنایا گیا، تو سرکاری محفلوں میں یہ کہا گیا کہ یہ جدید سہولیات سے لیس ہے۔ حقیقت میں؟ یہ سٹیڈیم اس وقت سے ہی نقصانات کا شکار تھا۔ بیس کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ یہ دھنسنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اگر بیس مضبوط نہ ہو، تو ٹرف کیسے صحیح رہے گا؟ لیکن فکر نہ کریں، یہ "پلیئر سیفٹی" کا جدید تصور ہے: کھلاڑی خود اپنی حفاظت کریں۔

گول پوسٹ؟ ٹوٹے ہوئے ہیں۔ شاید کسی نے کہا ہو، "ہم کھلاڑیوں کو چیلنج دینا چاہتے ہیں، گول مارنا صرف خدا کے فضل سے ہوگا۔"فوارے؟ وہ بھی خاموش ہیں، شاید انہیں بھی افسوس ہو کہ اتنے جدید سٹیڈیم میں پانی کی بھی قیمت لگ گئی ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اربوں روپے خرچ کر کے یہ سٹیڈیم بنایا گیا، لیکن انتظامیہ آج تک جواب دینے سے قاصر ہے۔ آر ٹی آئی کے جواب کا انتظار کرنے والے کھلاڑی شاید ریٹائر ہو جائیں، اور تب بھی جواب آئے یا نہ آئے۔

کمیٹی؟ بنائی گئی، لیکن اس کا نتیجہ صفر۔ یہ "کمیٹی کلچر" ہے، پاکستان میں ہر مسئلے کا حل: کمیٹی بناو¿، رپورٹ جمع کراو¿، اور پھر سب بھول جاو¿۔ اور کھلاڑی؟ وہ میدان میں کیچڑ میں کھیلنے پر مجبور ہیں۔یہ سٹیڈیم نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے خطرہ ہے، بلکہ کھیل کی ساکھ کے لیے بھی تباہ کن ہے۔ ہر کھلاڑی جو یہاں قدم رکھتا ہے، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے، اور شاید یہ کھیل کو ایک خطرناک ماڈل میں بدل دے: جتنا کیچڑ، اتنا ہی مقابلہ۔

اس دوران، سرکاری ادارے فوارے اور بیس کی حالت دیکھ کر شاید کہیں "سب ٹھیک ہے" کہہ کر اپنی سیٹ پر بیٹھے ہیں۔ اور میڈیا؟ کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ چھوٹا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک سٹیڈیم نہیں، بلکہ کھلاڑیوں کے لیے خطرے کا پیغام ہے۔تو آخر میں، لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم کی یہ حالت صرف بیس اور ٹرف کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک حکومتی ناکامی، بدانتظامی، اور "ہم نے کیا تو بنا دیا" کے فلسفے کی عکاسی ہے۔ کھلاڑی اگر یہاں کھیلنے آئیں تو کیچڑ میں گر کر اپنی محنت کا مزہ لیں، یا پھر احتجاج کریں کہ اربوں روپے کی لاگت کے باوجود انہیں ایک محفوظ کھیل کے میدان سے محروم رکھا گیا ہے۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں: پاکستان سپورٹس بورڈ نے سٹیڈیم بنایا، بیس اور گول پوسٹ کی حالت بتائی، اور پھر سب نے "دیکھا نہیں" کہہ کر خاموشی اختیار کی۔ کھلاڑی آج بھی کیچڑ میں کھیل کر ثابت کر رہے ہیں کہ ہاکی کھیلنا صرف کھیل نہیں، بلکہ زندہ رہنے کی تربیت بھی ہے۔تو اگلی بار جب کوئی کہے کہ پاکستان میں کھیل کی ترقی ہو رہی ہے، تو پشاور کا لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم یاد رکھیں: کیچڑ، دھنسے ہوئے ٹرف، ٹوٹے گول پوسٹس، اور خاموش حکومتی کمیٹی۔ یہ سب کچھ ایک ساتھ ہے، اور یہ سب کچھ کھلاڑی کے امتحان کے لیے۔یہ سٹیڈیم صرف کھیل کے لیے نہیں، بلکہ پاکستان میں "فنکارانہ ناکامی" کی کلاسک مثال کے طور پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
#PeshawarHockey #SportsNeglect #KPKHockey #LalaAyubStadium #AthleteSafety #HockeyInfrastructure #PakistanSportsBoard #MudChallenge

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776529 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More