گمشدہ بیڑے کی کہانی: جب سرکاری گاڑیاں کھیلوں سے زیادہ مصروف نکلیں
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
ایک ایسے صوبے میں جہاں کھلاڑی سفری الاو?نس کے انتظار میں بوڑھے ہوجاتے ہیں، میدانوں میں گھاس کم اور وعدے زیادہ اگتے ہیں، اور کوچ حضرات فائلوں کے درمیان اپنی کوچنگ مہارت تلاش کرتے ہیں، وہاں سب سے کامیاب اور متحرک ٹیم شاید گاڑیوں کی ہے۔ جی ہاں، سپورٹس ڈائریکٹوریٹ خیبرپختونخوا کی سرکاری گاڑیاں کھیلوں کے فروغ سے زیادہ اپنی ذاتی “سرگرمیوں” میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بیس سرکاری گاڑیاں ریکارڈ سے غائب ہوئیں۔ نہ کوئی فلمی ڈکیتی، نہ کوئی ہائی اسپیڈ تعاقب، نہ ہی کسی گیٹ پر زبردستی۔ بس خاموشی۔ پانچ گاڑیاں واپس آگئیں، جیسے لمبی چھٹی گزار کر دفتر واپس آنے والے ملازمین۔ باقی پندرہ گاڑیاں اب بھی اپنی نجی مصروفیات میں مگن ہیں۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ گاڑیاں خود غائب نہیں ہوتیں۔ ریکارڈ غائب ہوتے ہیں۔ ذمہ داری غائب ہوتی ہے۔ نگرانی غائب ہوتی ہے۔ ایک گاڑی کو ڈرائیور چاہیے، فیول لاگ چاہیے، ڈیوٹی آرڈر چاہیے، مینٹیننس ریکارڈ چاہیے۔ گاڑی کوئی پرندہ نہیں کہ پر نکال کر اڑ جائے۔ مگر ہمارے نظام میں گاڑیاں بھی خودمختار ہوچکی ہیں۔
اگر یہ گاڑیاں اپنی ڈائری لکھتیں تو سیاحت کے محکمے کی کتابوں کو سخت مقابلہ دیتیں۔ایک گاڑی شادی ہال کے باہر وی آئی پی مہمانوں کی سروس پر مامور ہوگی۔دوسری کسی افسر کے بچوں کو اسکول چھوڑنے کی قومی ذمہ داری نبھا رہی ہوگی۔تیسری کسی فارم ہاو?س کے باہر مستقل پارک ہوکر دیہی حسن میں اضافہ کر رہی ہوگی۔ اور ایک گاڑی شاید اب بھی “ڈیوٹی پر” ہے، اس دفتر کے باہر جہاں افسر تین سال پہلے تبادلہ ہوچکا ہے۔جو پانچ گاڑیاں واپس آئیں، ان کی حب الوطنی قابلِ تعریف ہے۔ شاید وہ رات کی تاریکی میں کمپاو?نڈ میں داخل ہوئیں اور چوکیدار سے سرگوشی کی “ہم سے غلطی ہوگئی، ہمیں رجسٹر میں واپس درج کردو۔”
جب اس معاملے پر رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت سوال کیا گیا تو جواب بھی گاڑیوں کی طرح غائب ہوگیا۔ نہ وضاحت، نہ انکار، نہ شرمندگی۔ صرف خاموشی۔بیوروکریسی کی لغت میں خاموشی کا مطلب ہوتا ہے:“ہم گاڑیوں کے ساتھ ساتھ فائلیں بھی تلاش کر رہے ہیں۔”مگر مسئلہ یہ ہے کہ گاڑیاں نشان چھوڑتی ہیں۔ پیٹرول پمپ یاد رکھتے ہیں۔ مکینک انجن پہچانتے ہیں۔ ڈرائیور سب جانتے ہیں۔ دفتر کے باہر چائے والا بھی بتا سکتا ہے کون سی سرکاری گاڑی کہاں مستقل کھڑی رہتی ہے۔ ادارہ بھول سکتا ہے، معاشرہ نہیں۔
چلیں سادہ حساب لگاتے ہیں، گم شدہ گاڑیاں: 20، واپس آنے والی: 5، تاحال لاپتہ: 15یہ کوئی ٹائپنگ کی غلطی نہیں۔ یہ کروڑوں روپے کے عوامی اثاثے ہیں۔ یہ وہ وسائل ہیں جو کھلاڑیوں کو ٹریننگ کیمپ لے جا سکتے تھے، دور دراز اضلاع میں کھیلوں کا سامان پہنچا سکتے تھے، یا گراو¿نڈز کی نگرانی میں استعمال ہوسکتے تھے۔مگر لگتا ہے یہ گاڑیاں “ذاتی سہولت ریس” میں حصہ لے رہی ہیں۔
ایک ہاکی ٹیم ٹورنامنٹ میں جانے کے لیے گاڑی مانگتی ہے۔ جواب: “گاڑیاں دستیاب نہیں۔”ڈی ایس اوگاڑی مانگتا ہے توجواب ملتاہے کہ نہیں ہے. اسی وقت ایک سرکاری گاڑی سبزی لینے جا رہی ہوتی ہے۔ ایک خاتون ایتھلیٹ کی سفری فائل مہینوں گھومتی رہتی ہے۔مگر ایک گاڑی روزانہ فرنیچر منتقل کرنے میں مصروف ہے۔ اگر بدانتظامی ایک کھیل ہوتا تو یہ نظام گولڈ میڈل لے آتا۔
سرکاری نظام میں ایک اصطلاح ہے: “عارضی منسلکی”۔مطلب کچھ عرصے کے لیے وسائل کسی کام کے لیے دیے گئے۔ عملی حقیقت: یہ عارضی انتظام حکومتوں سے بھی زیادہ طویل عمر پاتا ہے۔فیلڈ وزٹ کے لیے دی گئی گاڑی افسر کے گھر کی مستقل سواری بن جاتی ہے۔ دفتر کی گاڑی خاندان کی میراث بن جاتی ہے۔ نیا افسر آتا ہے، وہ سمجھتا ہے یہی نظام ہے۔یوں گمشدگی روایت بن جاتی ہے۔
پانچ گاڑیاں کیوں واپس آئیں؟ کیا اچانک احتساب کا موسم آیا؟ کیا کسی کمزور بااثر شخص سے گاڑی واپس لینا آسان تھا؟ یا یہ وہ گاڑیاں تھیں جن کا فیول ختم ہوگیا تھا؟ اس نظام میں احتساب ہمیشہ نیچے کی طرف بہتا ہے۔ہر گاڑی کے ساتھ ایک ڈرائیور ہوتا ہے۔ ڈرائیور ادارے کی چلتی پھرتی آرکائیو ہوتے ہیں۔ مگر وہ بولتے نہیں، کیونکہ نوکری میں یادداشت سے زیادہ خاموشی ضروری ہوتی ہے۔
پوچھیں: گاڑی کہاں تھی؟جواب: ڈیوٹی پر۔کیسی ڈیوٹی؟`سرکاری ڈیوٹی۔ریکارڈ؟فائل زیرِ التوا ہے۔ایک دلچسپ سوال جوہرکوئی جاننا چاہت ہے کہ کیا لاپتہ گاڑیوں کے فیول بل بھی لاپتہ ہیں؟اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ اگر گاڑی موجود نہیں مگر پیٹرول خرچ ہو رہا ہے، تو یا تو گاڑی پوشیدہ رفتار سے چل رہی ہے، یا پیٹرول خود سفر کر رہا ہے۔دونوں صورتیں سائنسی تحقیق کی متقاضی ہیں۔
یہ معاملہ ایک طویل کھیل بن چکا ہے۔ عوام سوال پوچھتے ہیں۔دفاتر خاموش رہتے ہیں۔ کمیٹیاں بنتی ہیں۔ اجلاس ہوتے ہیں۔ چائے پی جاتی ہے۔فائلیں حرکت نہیں کرتیں۔ گاڑیاں اپنی زندگی گزارتی رہتی ہیں۔یہ صرف گاڑیوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ حکمرانی کے کلچر کا مسئلہ ہے۔ جب عوامی اثاثے غائب ہوں اور کوئی جواب دہ نہ ہو، تو پیغام واضح ہے:نظام استعمال کے لیے ہے، تحفظ کے لیے نہیں۔اس کی قیمت صرف مالی نہیں۔اعتماد ختم ہوتا ہے۔ ایماندار افسر مایوس ہوتے ہیں۔ بدعنوانی معمول بن جاتی ہے۔
اگر پندرہ گاڑیاں نہیں مل رہیں، تو انہیں اگلے اسپورٹس دستے میں شامل کرلیا جائے۔کم از کم ان کے سفر کو سرکاری حیثیت تو ملے۔ یا ایک نئی ٹیم بنائی جائے: ٹیم گمشدگی الیون نعرہ: “ابھی تھے، ابھی نہیں ہیں” اصل میں کیا ہونا چاہیے طنز اپنی جگہ، مگر حل واضح ہیں:تمام گاڑیوں کی فہرست بمعہ رجسٹریشن نمبر جاری کی جائے۔ گزشتہ پانچ سال کا فیول اور ڈیوٹی ریکارڈ عوام کے سامنے رکھا جائے۔گاڑیوں کی الاٹمنٹ کے ذمہ دار افسران کی نشاندہی کی جائے۔آزاد آڈٹ کروایا جائے۔ ریکوری اور تادیبی کارروائی کی جائے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ یہ صرف نیت کا سوال ہے۔
کھیلوں میں کارکردگی ناپی جاتی ہے۔ہار جیت کا حساب ہوتا ہے۔غلطیوں سے سیکھا جاتا ہے۔ انتظامیہ میں اثاثے غائب ہوجاتے ہیں اور کوئی اسکور بورڈ نہیں ہوتا۔ جب تک یہ نہیں بدلے گا، اس صوبے کے سب سے تیز رنر ایتھلیٹس نہیں ہوں گے۔وہ گاڑیاں ہوں گی جو احتساب سے آگے نکل چکی ہیں۔اور کسی سرکاری گیراج میں ایک خالی پارکنگ جگہ اب بھی انتظار کر رہی ہے۔ایک سوال کی طرح، جس کا جواب کوئی نہیں دینا چاہتا۔
#MissingFleet #KPSportsDirectorate #AccountabilityNow #PublicAssets #RTIFailure #Governance #CorruptionSatire #Pakistan #Transparency #SportsGovernance
|