بحران میں گھرا پاکستانی تائیکوانڈو، فیصلے نے بے ضابطگیاں بے نقاب کر دیں، خیبر پختونخوا میں کھیل زبوں حالی کا شکار


پاکستان میں تائیکوانڈو ایک بار پھر انتظامی تنازعات، قانونی سوالات اور صوبائی ناانصافیوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ حالیہ ٹریبونل فیصلے نے، جس میں بلوچستان تائیکوانڈوایسوسی ایشن کو الحاق دینے اور جنوری 2026 کے پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دینے کی ہدایت دی گئی، اس کھیل کے انتظامی ڈھانچے کی کمزوریوں کو کھل کر سامنے لا دیا ہے۔ یکم جنوری کے بعد کیے گئے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دیے جانے کی ہدایت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ اس دوران ہونے والی سلیکشن، کیمپس اور نمائندگی سمیت جنوری کے بعد ہونیوالے تمام فیصلوں کی قانونی حیثیت اب مشکوک ہو چکی ہے۔

یہ فیصلہ محض بلوچستان کا معاملہ نہیں بلکہ پورے ملک میں کھیلوں کی گورننس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر فیڈریشن کے انتخابات ہی قواعد کے خلاف ہوں تو پھر اس کے تحت ہونے والے تمام فیصلے کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کھیلوں کی فیڈریشنز اکثر ادارہ جاتی اصولوں کے بجائے شخصیات کے زیر اثر چلتی ہیں، جس کا خمیازہ کھلاڑیوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔خیبر پختونخوا تیکوانڈو ٹیلنٹ کے حوالے سے ایک زرخیز خطہ سمجھا جاتا ہے۔ قبائلی اضلاع سے لے کر پشاور اور مردان تک، نوجوان کھلاڑی محدود وسائل کے باوجود قومی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں کھیل کا ڈھانچہ بکھر چکا ہے۔

صوبے میں متوازی تنظیمیں سرگرم ہیں، جن میں سے کچھ کو فیڈریشن کی سرپرستی حاصل ہے جبکہ دیگر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس تقسیم نے کھلاڑیوں کو شدید غیر یقینی کا شکار کر دیا ہے۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون سی باڈی مستند ہے اور کس پلیٹ فارم سے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ نتیجتاً، ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ تربیتی کیمپس چند مخصوص علاقوں تک محدود ہیں جبکہ دور دراز اضلاع کے کھلاڑی ذاتی اخراجات پر مقابلوں میں شرکت کرنے پر مجبور ہیں۔ کوچنگ کا معیار بھی غیر یکساں ہے، مستند کوچز کی کمی اور تربیتی پروگراموں کے فقدان نے کھلاڑیوں کی تکنیکی ترقی کو روک رکھا ہے۔

ایسوسی ایشن کی انتظامی بدانتظامی کا سب سے خطرناک اثر انڈر 21 کیٹیگری میں سامنے آیا، جہاں عمر کی تصدیق، سلیکشن کے معیار اور ڈیپارٹمنٹ نمائندگی کے تنازعات نے ایک بڑے بحران کو جنم دیا۔ مختلف اضلاع سے منتخب کھلاڑیوں کی فہرستوں میں تضادات سامنے آئے، عمر کی حد سے تجاوز کرنے والے کھلاڑیوں کی شمولیت کے الزامات لگے، اور کئی مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیے جانے کی شکایات سامنے آئیں۔

یہ معاملہ محض ایک ٹورنامنٹ کا نہیں بلکہ پورے سسٹم کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ جب گورننس کمزور ہو تو سب سے پہلے نوجوان کھلاڑی متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جہاں انہیں مواقع، تربیت اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے، مگر یہاں انہیں بداعتمادی اور ناانصافی کا سامنا ہے۔بلوچستان تائیکوانڈو ایسوسی ایشن کا کیس اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس نے صوبائی نمائندگی کے مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ ٹریبونل کا فیصلہ واضح پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی صوبے کو نظر انداز کر کے فیڈریشن کی قانونی حیثیت برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

اس فیصلے کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔ صوبائی ایسوسی ایشنز اب اپنے حقوق کے لیے زیادہ مضبوط موقف اختیار کر سکتی ہیں، جبکہ فیڈریشنز کو اپنے انتخابات اور پالیسیوں کو شفاف بنانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ تاہم، اصل امتحان فیصلے پر عمل درآمد ہے، کیونکہ پاکستان میں اکثر عدالتی اور انتظامی فیصلے کاغذوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔مسئلہ افراد نہیں، نظام ہے

پاکستان میں کھیلوں کے بیشتر مسائل کا تعلق شخصیات سے نہیں بلکہ نظام سے ہے۔ طاقت کا ارتکاز، احتساب کا فقدان، اور کھلاڑیوں کی آواز کو نظر انداز کرنا وہ عوامل ہیں جو بار بار تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔اگر فیڈریشنز کو ادارہ جاتی بنیادوں پر چلایا جائے، شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے، اور صوبائی نمائندگی کو آئینی تحفظ دیا جائے تو ایسے بحرانوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، ہر چند سال بعد نئے تنازعات جنم لیتے رہیں گے اور نقصان صرف کھلاڑیوں کا ہوگا۔

پاکستان تائیکوانڈو کو اس وقت فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ شفاف انتخابات، ڈیجیٹل عمر تصدیق کا نظام، کوچنگ اور ریفری سرٹیفیکیشن کے معیاری پروگرام، اور کھلاڑیوں کے لیے خود مختار شکایتی فورم ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف اعتماد بحال کر سکتے ہیں بلکہ کھیل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بھی بنا سکتے ہیں۔اگر یہ اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان میں تائیکوانڈو کا مستقبل مزید غیر یقینی ہو جائے گا، اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

بلوچستان کے حق میں آنے والا ٹریبونل فیصلہ ایک انتباہ ہے کہ کھیلوں کے نظام کو فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے، مگر نظامی ناکامیوں نے اسے آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے کھلاڑی کتنے باصلاحیت ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم انہیں منصفانہ مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔اگر جواب نفی میں ہے تو پھر مسئلہ کھلاڑی نہیں، ہمارا نظام ہے۔

#BreakingNews #Taekwondo #PakistanSports #SportsGovernance #KPKSports #Balochistan #PSB #PTF #FairPlay #YouthSports

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776541 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More