قانون بے بس، محکمہ کھیل بے خوف: خیبرپختونخواہ میں معلومات چھپانے کی سرکاری روایت


خیبرپختونخواہ میں شفافیت ایک خوبصورت لفظ ہے جسے تقریروں، پریس ریلیز اور پالیسی دستاویزات میں بڑے فخر سے استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر جب یہی شفافیت عملی شکل اختیار کرنے کا مطالبہ کرے تو سرکاری دفاتر کی فائلیں اچانک خاموش ہو جاتی ہیں، ای میل باکس بھر جاتے ہیں، اور پبلک انفارمیشن آفیسرز گویا غائب ہو جاتے ہیں۔ محکمہ کھیل خیبرپختونخواہ کی جانب سے سات ماہ تک معلومات فراہم نہ کرنا اسی پرانی سرکاری روش کا تازہ ثبوت ہے۔

یہ معاملہ کسی پیچیدہ پالیسی یا حساس قومی سلامتی کے راز کا نہیں تھا۔ سوال صرف یہ تھا کہ پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں کتنے سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں، کتنے کام کر رہے ہیں، کتنے خراب ہیں، اور ان پر کتنا خرچ ہوا۔ اسی طرح یہ پوچھنا بھی کوئی جرم نہیں تھا کہ محکمہ کھیل کے پاس کتنے کمپیوٹر ہیں، کہاں استعمال ہو رہے ہیں، اور گزشتہ دس برس میں ان پر کتنی رقم خرچ کی گئی۔اگر ایک سرکاری ادارہ ان بنیادی سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہے تو مسئلہ معلومات فراہم کرنے کا نہیں، بلکہ معلومات کے وجود کا ہے۔

سرکاری ادارے معلومات دینے سے کیوں گھبراتے ہیں؟ اس کی چند تلخ وجوہات ہیں جنہیں ہم سب جانتے ہیں مگر تسلیم نہیں کرتے۔پہلی وجہ ریکارڈ کا فقدان ہے۔ ہمارے بیشتر سرکاری دفاتر میں فائلیں تو ہیں، مگر نظام نہیں۔ کاغذات موجود ہوتے ہیں مگر ترتیب نہیں۔ جب معلومات مانگی جاتی ہیں تو عملہ خود حیران رہ جاتا ہے کہ کہاں سے تلاش کریں۔دوسری وجہ بے ضابطگیوں کا خوف ہے۔ اگر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوئے مگر چل نہیں رہے، اگر مرمت کے نام پر بار بار فنڈز نکلے مگر کام نہ ہوا، اگر کمپیوٹر خریدے گئے مگر استعمال میں نہیں، تو معلومات فراہم کرنا خود اپنے خلاف گواہی دینے کے مترادف ہو جاتا ہے۔تیسری وجہ وہ سرکاری ذہنیت ہے جو عوام کو مالک نہیں بلکہ مزاحم سمجھتی ہے۔ معلومات مانگنا ان کے نزدیک حق نہیں، گستاخی ہے۔

اس کیس کا سب سے مضحکہ خیز مگر خطرناک پہلو سرکاری ای میل کا بھر جانا ہے۔ ایک صوبائی محکمہ اپنا میل باکس خالی نہیں رکھ سکتا، مگر دعویٰ ہے کہ سکیورٹی کیمروں سے نگرانی ہو رہی ہے اور ڈیجیٹل نظام فعال ہے۔یہ صرف تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ ایک علامت ہے۔علامت اس بات کی کہ ڈیجیٹل گورننس محض نعرہ ہے،،آئی ٹی نظام نمائشی ہیں،،سرکاری رابطہ نظام غیر فعال ہےاگر ای میل وصول نہیں ہو سکتی تو شکایت کیسے سنی جائے گی؟ اگر ڈیٹا محفوظ نہیں ہو سکتا تو نگرانی کیسے ہوگی؟

پاکستان میں سی سی ٹی وی منصوبے اکثر دو مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں: افتتاحی تصاویر اور مالی منظوری۔ نصب ہونے کے بعد ان کی حالت کسی کو یاد نہیں رہتی۔ کیمرے خراب ہوں، ریکارڈ محفوظ نہ ہو، یا سسٹم بند پڑا ہو، مگر کاغذوں میں سب کچھ “فعال” دکھایا جاتا ہے۔اگر پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں بھی یہی صورتحال ہے تو یہ صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ عوامی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ایک غیر فعال کیمرہ صرف ایک خراب مشین نہیں، بلکہ ایک ایسا اندھا گوشہ ہے جہاں کوئی بھی واقعہ بغیر ثبوت کے دفن ہو سکتا ہے۔

آئی ٹی آلات کی خریداری سرکاری بدعنوانی کا سب سے آسان میدان بن چکی ہے۔ سڑک بنے تو نظر آتی ہے، عمارت کھڑی ہو تو حساب مانگا جاتا ہے، مگر کمپیوٹر خریداری ایک خاموش عمل ہے۔کاغذوں میں درجنوں کمپیوٹر خریدے جاتے ہیں۔ کچھ دفاتر میں پہنچتے ہیں، کچھ گوداموں میں، اور کچھ کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ چند ماہ بعد وہ “غیر فعال” قرار دے دیے جاتے ہیں اور نئی خریداری کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔اگر محکمہ کھیل اس بارے میں ریکارڈ فراہم نہیں کر رہا تو سوال یہ نہیں کہ معلومات کیوں نہیں دی جا رہیں، بلکہ یہ ہے کہ آخر چھپایا کیا جا رہا ہے۔

خیبرپختونخواہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کو پاکستان کے بہترین معلوماتی قوانین میں شمار کیا جاتا ہے۔ مگر ایک بہترین قانون بھی بے معنی ہو جاتا ہے اگر اس پر عمل درآمد نہ ہو۔

سات ماہ کی خاموشی اس بات کا اعلان ہے کہ،قانون موجود ہے مگر نافذ نہیں،شہری کا حق تسلیم ہے مگر فراہم نہیں،احتساب کا نظام ہے مگر فعال نہیں،جب ایک محکمہ قانون کو نظرانداز کرتا ہے تو دوسرے اداروں کے لیے بھی یہی مثال قائم ہوتی ہے۔کھیلوں کے ادارے نوجوانوں کی امیدوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب یہی ادارے شفافیت سے محروم ہوں تو نوجوانوں میں یہ پیغام جاتا ہے کہ نظام میرٹ پر نہیں بلکہ تعلقات، مفادات اور خاموشی پر چلتا ہے۔یہ بداعتمادی صرف کھیلوں تک محدود نہیں رہتی۔ یہ پورے حکومتی نظام پر عدم اعتماد میں بدل جاتی ہے۔

یہ معاملہ اب چند کیمروں یا کمپیوٹرز کا نہیں رہا۔ اصل سوالات یہ ہیں،کیا محکمہ کھیل کے پاس درست ریکارڈ موجود ہے؟کیا سکیورٹی نظام واقعی فعال ہے؟،کیا آئی ٹی خریداری شفاف طریقے سے ہوئی؟کیا معلومات چھپانا ایک پالیسی بن چکا ہے؟جب تک ان سوالات کے جواب نہیں ملتے، ہر دعویٰ مشکوک رہے گا۔اب کیا ہونا چاہیے؟،خاموشی اب آپشن نہیں رہی۔ فوری اقدامات ضروری ہیںجس میں معلومات کی فوری فراہمی ، آزادانہ آڈٹ، غیر فعال نظام کی نشاندہی،ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اورمعلومات کی آن لائن دستیابی ضروری ہے یہ اقدامات نہ صرف ایک کیس حل کریں گے بلکہ پورے نظام کی سمت درست کر سکتے ہیں۔

سرکاری دفاتر کی خاموشی ہمیشہ بے ضرر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ خاموشی بدعنوانی کی آواز ہوتی ہے، نااہلی کا اعتراف ہوتی ہے، یا احتساب سے فرار کی حکمت عملی۔محکمہ کھیل خیبرپختونخواہ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ قانون کے تابع ادارہ ہے یا ایک ایسا دفتر جہاں معلومات فائلوں میں دفن اور ای میل باکس میں بند رہتی ہیں۔اگر آج بھی سوال پوچھنے والے کو جواب نہ ملا تو کل کوئی سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ادارے عوام کے نہیں، خود اپنے مفادات کے محافظ بن جاتے ہیں۔

#RTIFailure #KPTransparency #AccountabilityNow #SportsGovernance #OpenRecords #PublicRightToKnow #KPSports #CorruptionRisk #GovernanceCrisis #InvestigativeColumn
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776538 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More