ایک شخص، پانچ عہدے: خیبرپختونخواہ کے کھیلوں کی "ملٹی ٹاسک" گورننس!


خیبرپختونخواہ کے کھیلوں کا نظام ایک ایسا شاندار تجربہ ہے جسے دیکھ کر آدمی سوچتا ہے کہ شاید ہم نے واقعی "ملٹی ٹاسکنگ" کی دنیا میں نیا معیار قائم کر دیا ہے۔ یہاں ایک عام سوال یہ ہے: ایک شخص کیسے ایک وقت میں کئی عہدے سنبھال سکتا ہے؟ جواب سادہ ہے—ہمارے اضلاع میں یہ معمولی سا کام ہے۔ اس کی تصدیق کے لیے کسی تحقیقاتی کمیٹی یا رپورٹر کی ضرورت بھی نہیں، کیونکہ منظر سب کے سامنے ہے، بالکل کھلا اور شفاف۔

فرض کریں کہ ایک شخص ہے، جسے ہم عزت کے ساتھ "ہمہ گیر عہدہ دار" کہیں۔ صبح وہ ایک ایسوسی ایشن کا سیکرٹری ہے، دوپہر کو فنانس سیکرٹری بن جاتا ہے، شام کو کسی اور کھیل کی ایسوسی ایشن میں ایک اور عہدہ سنبھال لیتا ہے، اور رات کو اپنے کمرے میں بیٹھ کر سوچتا ہے: "آج میں نے کتنے کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا؟ آہ، کم لگ رہا ہے!"یہ منظر خیالی نہیں، بلکہ حقیقت ہے۔ صوبے کے پینتیس اضلاع میں ہر ضلع میں یہی "ہمہ گیر عہدہ دار" نظر آتا ہے، اور اکثر چار سے پانچ ایسوسی ایشنز میں ایک ہی نام دیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ پوچھیں گے، "اتنے عہدے ایک شخص کیسے سنبھال سکتا ہے؟" تو جواب بہت آسان ہے: جادوگر ہو یا قوانین کا عاشق، دونوں کی کمی نہیں۔ یہاں قوانین کی تشریح اتنی لچکدار ہے کہ جو ممکن ہے، اسے لازمی کر دیا جاتا ہے۔

قانوناً یہ عہدے ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے چاہئیں، لیکن ہمارے اضلاع میں انتخابی عمل کچھ اس طرح ہے: ایک ہی شخص کئی انتخابی فہرستوں میں شامل ہوتا ہے، اور بس اس کی موجودگی پر سب خوش ہو جاتے ہیں۔ ووٹ دینے والے کھلاڑی؟ وہ تو صرف ایک کاغذی تفصیل ہیں۔ اصل کھیل صرف عہدہ داروں کا ہے۔اب آتے ہیں کھلاڑیوں کی طرف۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسے متعدد عہدوں والے لوگ کھلاڑیوں کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ جواب مختصر ہے: کچھ نہیں۔ کھلاڑی صرف اس لیے موجود ہیں کہ ہر عہدہ دار اپنی فہرست مکمل کر سکے، اور ضرورت پڑنے پر ووٹ استعمال کر سکے۔ فعال کھیلوں کی سرگرمیاں؟ بھول جائیں! یہاں اصل کھیل صرف ناموں کا ہے، اور وہ بھی صرف کاغذ پر۔

پھر ہمارے پاس ہیں ضلعی کھیلوں کے افسران اور ریجنل سپورٹس آفیسرز۔ ان کا فرض ہے کہ وہ "ہمہ گیر عہدہ دار" کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دلچسپی صرف تب آتی ہے جب کسی اخبار کا فون آئے یا کوئی رپورٹ بنے۔ باقی وقت سب لوگ آرام سے بیٹھے ہیں، جیسے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے لاونج میں۔اور سب سے بڑی بات: Khyber Pakhtunkhwa Olympic Association۔ ان کی دلچسپی صرف ووٹ تک محدود ہے۔ کب کون سا کھیل ہوا، کون سا کھلاڑی فعال ہے، یا ضلع میں کیا کام ہوا؟ یہ سب ان کے لیے بس "مِس" ہے۔ ان کا اصل فوکس صرف یہ ہے کہ صوبائی یا کھیلوں کے انتخابات میں ووٹ کس نے دیا۔

ہمہ گیر عہدہ دار چار سے پانچ عہدے ایسے سنبھالتے ہیں جیسے کوئی جم میں وزن اٹھا رہا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اتنے عہدے سنبھالنے کے بعد کھیلوں کے لیے کام کرنے کا وقت کہاں سے آئے گا؟ جواب واضح ہے: وقت نہیں بچتا۔ اور کھلاڑی؟ وہ انتظار میں ہیں کہ کب یہ "ملٹی ٹاسک" عہدہ دار کسی میچ یا ٹورنامنٹ کی طرف دیکھیں۔مزاح کی بات یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے یہی لوگ عہدوں پر ہیں، اور ان کا اصل کام صرف فائلیں بھرنا، نام درج کرنا، اور کبھی کبھار دفتر میں چائے پینا ہے۔ اس دوران کھلاڑی اپنے دن گزار رہے ہیں، اور امید رکھتے ہیں کہ کب کھیلوں کا حقیقی نظام قائم ہوگا۔

یہ نظام ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہر ضلع کی ایسوسی ایشن ایک کاغذی ادارہ ہے، اور تمام عہدہ دار اپنی "ملٹی ٹاسکنگ" صلاحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سب سے دلچسپ حصہ یہ ہے کہ ایک ہی شخص متعدد ایسوسی ایشنز میں ایک ساتھ عہدہ دار ہے، اور سوال یہ ہے کہ وہ واقعی کھیلوں کی ترقی کے لیے کیا کر رہا ہے؟ جواب سادہ ہے: کچھ نہیں۔اگر کوئی دن حقیقت میں آڈٹ کرے، تو غالباً وہی نام کئی ایسوسی ایشنز میں بار بار نظر آئیں گے۔ اور وہی لوگ کھلاڑیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بیٹھے ہوں گے، یہ تصور محال ہے۔

یہ سب سنجیدہ باتیں ہیں، مگر مزاح کا پہلو بھی ہے: ہر ضلع میں یہ عہدہ دار اتنے فعال ہیں کہ شاید انھیں دنیا کے سب سے زیادہ ایڈمنسٹریٹر ہونے کا ریکارڈ مل جائے۔ ایک ہی شخص پانچ عہدے، پانچ ایسوسی ایشنز، پانچ مختلف کھیلوں میں، اور سب کچھ کاغذ پر! یہ واقعی عالمی معیار کی "ملٹی ٹاسکنگ" ہے۔آخر میں، ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصلاح کے بغیر یہ سسٹم صرف کاغذ پر فعال ہے۔ حقیقت میں یہ کھلاڑیوں کے لیے ایک خالی کھیل ہے، اور عہدہ دار اپنے عہدوں میں "ملٹی ٹاسکنگ" کرتے رہیں گے، چاہے کھلاڑی انتظار میں رہیں یا نہ رہیں۔

یہ طنز نہیں، بلکہ ایک انتباہ بھی ہے: جب تک ضلعی ایسوسی ایشنز کی شفافیت، انتخابات کی قانونی پابندی، اور فعال نگرانی نافذ نہیں کی جاتی، خیبرپختونخواہ کے کھیلوں کا نظام کاغذی طور پر تو فعال نظر آئے گا، لیکن کھلاڑی حقیقی ترقی سے محروم رہیں گے۔یہ سب کچھ پڑھ کر ایک سوال ذہن میں آتا ہے: کیا واقعی کوئی اتنا طاقتور ہے کہ پانچ عہدے سنبھال سکے، یا یہ ہماری گورننس کی اصل حقیقت ہے؟ جواب تو آنے والے وقت میں آڈٹ کے بعد ہی سامنے آئے گا، لیکن تب تک ہم سب مسکرا سکتے ہیں، کیونکہ مزہ تو یہ ہے کہ کھیل صرف کاغذ پر ہے، اور عہدہ دار "ملٹی ٹاسک" کر رہے ہیں۔

#PSportsCrisis #GovernanceFailure #SportsCorruption #AccountabilityNow #DistrictSports #OlympicAssociationKP #AthleteRights #SportsReform #TransparencyInSports #PakistanSports

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776530 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More