ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ: کرکٹ بال اور بیٹ، شوز اور سائیکلیں—یہ کھیل ہے یا کچرا میلہ؟


گزشتہ روز ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ سے کرکٹ بال اور بیٹ نکالنے کی ایک عجیب و غریب کوشش منظر عام پر آئی، اور ساتھ ہی سوال بھی اٹھا کہ آخر یہ دفتر کب کھیل کا مرکز بنا اور کب کچرا میلہ؟ کہانی کا آغاز تو معمولی سا لگتا ہے: ایک گروپ نے ڈائریکٹریٹ کے پرانے سامان میں سے بال اور بیٹ نکالنے کی کوشش کی۔ لیکن جیسے ہی یہ اطلاع حکام تک پہنچی، ڈائریکٹریٹ میں ہلچل مچ گئی۔ جواب میں کہا گیا کہ "یہ پرانے بال اور بیٹ ہیں"۔

یہاں پہلا سوال پیدا ہوتا ہے: اگر واقعی پرانے تھے تو انہیں الگ الگ گندگی کے ڈھیروں میں کیوں رکھا گیا؟ اور اگر وہ واقعی پرانے تھے، تو پھر وہ بال اور بیٹ کیسے ایکسپائر ہو گئے؟ بال اور بیٹ تو عام طور پر کبھی ایکسپائر نہیں ہوتے، اور اگر کسی وجہ سے ہو جائیں تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ کب خریدے گئے اور کیوں خراب ہوگئے۔یہ معاملہ صرف بال اور بیٹ تک محدود نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ بہت سارے شوز بھی ایکسپائر ہوچکے تھے اور اسی وجہ سے گرا دئیے گئے۔ یعنی ڈائریکٹریٹ میں یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ جو چیز پرانی یا خراب لگے، اسے سیدھے گندگی کے ڈھیر میں پھینک دو، بغیر کسی ریکارڈ یا وضاحت کے۔

یہ بال اور بیٹ قبائلی نوجوانوں کے لیے خریدے گئے تھے، تاکہ وہ کھیل میں حصہ لے سکیں، خود کو منوا سکیں، اور شاید کچھ ایکسپلوریشن بھی کر سکیں۔ لیکن جب یہی سامان کچرا میں رکھا جاتا ہے، تو یہ صرف ایک جسمانی نقصان نہیں، بلکہ نوجوانوں کے حوصلے اور اعتماد کا قتل ہے۔ سوال یہ ہے: اگر ضم اضلاع کے نوجوانوں کے لیے خریدے گئے بال اور بیٹ کا یہی حال ہے، تو باقی وسائل کا کیا انجام ہوگا؟یہاں پہ دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ڈائریکٹریٹ نے انکشاف کیا کہ بال اور بیٹ "پرانے" ہیں، لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعی پرانے تھے تو انہیں گندگی کے الگ الگ ڈھیروں میں کیوں رکھا گیا؟ یعنی یا تو انتظامیہ کا نظام انتہائی ناقص ہے، یا پھر یہ سب کچھ ایک مذاق ہے جو قبائلی نوجوانوں پر چلایا جا رہا ہے۔

یہ کہانی مزید پیچیدہ اس وقت ہو گئی جب بارہ سائیکلوں کا معاملہ سامنے آیا، جو یو این ڈی پی کی جانب سے ضم اضلاع کے لیے دی گئی تھیں۔ ہر سائیکل کی قیمت تقریباً تین لاکھ روپے تھی۔ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی انتظامیہ نے رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) میں جواب دیا کہ یہ سائیکلیں ایک کوچ کو دی گئی تھیں۔لیکن جب دوبارہ اس بارے میں پوچھا گیا، تو بتایا گیا کہ "ہمیں نہیں معلوم کیونکہ دفتر تبدیل ہو گیا ہے"۔ اب ذرا سوچیں: ایک ہی دفتر سے آنے والے دو مختلف جوابات، ایک وقت میں یا تو آپ کے پاس معلومات ہیں یا نہیں۔ اس تضاد کا جواب صرف قبائلی علاقے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دے سکتے ہیں، کیونکہ بیوروکریٹس نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

یہاں پہ مزاحیہ پہلو یہ ہے کہ یہ ادارہ نوجوانوں کے لیے کھیل کے سامان خریدنے کی دعویٰ کرتا ہے، لیکن اصل میں اس سامان کا انجام یہ ہے کہ بال اور بیٹ کچرا میں، شوز پھینکے گئے، اور سائیکلیں یا تو "کوچ کے پاس" یا "ہمیں معلوم نہیں" کے بیچ آویزش میں ہیں۔ یہ سن کر عام آدمی کو لگتا ہے کہ شاید یہ سب کچھ کھیل کا حصہ نہیں بلکہ کھیل کا مزاحیہ حصہ ہے۔یہ معاملہ صرف انتظامی بے تدبیری تک محدود نہیں۔ اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر بال اور بیٹ پر انکوائری بن سکتی ہے، تو کیا یہ بات سائیکلوں اور دیگر مہنگے وسائل پر بھی لاگو نہیں ہوتی؟ یا پھر انتظامیہ کے لیے مختلف قوانین ہیں: ایک چیز پر تحقیق ضروری ہے، دوسری چیز پر "دفتر تبدیل ہو گیا" کا بہانہ کافی ہے۔

یہاں پہ واضح ہونا چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے خریدی گئی اشیاء کا یہی حال ہے، تو پھر باقی وسائل کا کیا انجام ہوگا؟ اس طرح کے اقدامات نوجوانوں کے حوصلے توڑنے، اعتماد کم کرنے اور ضم اضلاع کے کھیل کے نظام میں بداعتمادی پیدا کرنے کے مترادف ہیں۔اگر ہم اس پورے واقعے کو ایک طنزیہ زاویے سے دیکھیں تو یہ سب کچھ کسی مزاحیہ ڈرامے کی طرح لگتا ہے:ایک طرف بال اور بیٹ جو کبھی خراب نہیں ہوتے، گندگی کے ڈھیر میں۔دوسری طرف شوز جو "ایکسپائر" ہو گئے۔تیسرے طرف مہنگی سائیکلیں، جو دفتر کی تبدیلی کے بہانے سے غائب ہو گئی ہیں۔پڑھنے والے کو لگتا ہے کہ شاید یہ ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ نہیں، بلکہ کوئی کچرا میلہ یا مزاحیہ پروگرام ہے جس میں ہر چیز اپنا حقیقی مقام کھو چکی ہے۔
یہ صورتحال نوجوانوں کے لیے خطرناک ہے۔ جب بال اور بیٹ ضائع کیے جائیں، شوز گرا دیے جائیں، اور مہنگی سائیکلوں کا کوئی ریکارڈ نہ ہو، تو نوجوانوں میں کھیل کے لیے جذبہ کم ہونا لازمی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف کھیل کے شعبے میں بداعتمادی پیدا کرتی ہے، بلکہ نوجوانوں کے اعتماد اور حوصلے کو بھی متاثر کرتی ہے۔اگر مستقبل میں کوئی نوجوان کھیل کے لیے وقت اور محنت لگائے، اور اس کے لیے خریدے گئے وسائل یا تو ضائع ہو جائیں یا پھر "ہمیں معلوم نہیں" کے جواب سے کام چل جائے، تو یہ صرف نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ بھی ہے۔

ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا یہ معاملہ صرف بال اور بیٹ یا سائیکلوں کا نہیں۔ یہ ایک وسیع تر مسئلہ ہے: انتظامی ناکامی، شفافیت کی کمی، اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے خطرہ۔بال اور بیٹ، شوز اور سائیکلیں: یہ سب کچھ نوجوانوں کے لیے خریدے گئے تھے، لیکن انتظامیہ کی وجہ سے ان کا انجام یا تو گندگی میں، یا "ہمیں معلوم نہیں" میں ختم ہو گیا۔انکوائری اور RTI کے تضاد: ایک ہی دفتر سے مختلف جوابات، جو عوام کو معلومات تک رسائی دینے کے بجائے مزید الجھن میں ڈال دیتے ہیں۔نوجوانوں کے حوصلے: جب وسائل ضائع کیے جائیں، تو نوجوانوں کا کھیل میں دلچسپی اور اعتماد کم ہونا لازمی ہے

یہ سب کچھ پڑھنے میں جیسے کسی مزاحیہ ڈرامے کی کہانی لگتا ہے، لیکن اصل میں یہ حقیقی خطرہ ہے۔آخر میں، واضح ہے کہ اس معاملے کا حتمی جواب صرف اعلیٰ سطح کی سیاسی اور انتظامی قیادت ہی دے سکتی ہے، کیونکہ موجودہ بیوروکریٹس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خاموشی محض بے تدبیری ہے یا جان بوجھ کر کی گئی لاپرواہی؟ اور سب سے اہم: ضم اضلاع کے نوجوان کب تک ایسے "کچرا میلے" میں کھیلنے کی امید رکھیں گے؟

#KPKSportsDirectorate #CorruptionInSports #TribalYouth #RTI #CricketEquipment #SportsMismanagement #KPNews #Accountability

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776531 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More