اولمپک ٹروس یا عالمی کھیلوں کی خاموشی؟ IOC کی غیر جانبداری اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) نے ایک بار پھر اولمپک ٹروس کے اصول کی حمایت کی ہے، لیکن حالیہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران اس کے کردار اور موقف پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد، جو اقوام متحدہ کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیے گئے ہیں، IOC نے واضح نہیں کیا کہ آیا یہ کارروائیاں ٹروس کے تحت کسی خلاف ورزی کے مترادف ہیں یا نہیں۔IOC کے بیان میں کہا گیا کہ "ایک عالمی تنظیم کے طور پر ہمیں ایک پیچیدہ حقیقت میں کام کرنا پڑتا ہے۔ ہر اولمپک گیمز میں ہمیں سیاسی حالات اور عالمی واقعات کے اثرات سے نمٹنا ہوتا ہے، اور ساتھ ہی عالمی کھیلوں کے پلیٹ فارم کی حفاظت بھی ضروری ہے۔" لیکن یہی بیان بہت سے ماہرین کے نزدیک ایک نرم لفظوں میں خاموشی اختیار کرنے کی مثال ہے، جو کہ ایک واضح سیاسی موقف سے گریز ہے۔
آئی او سی نے واضح کیا کہ اولمپک ٹروس قرارداد ایک غیر پابند، خواہشاتی قرارداد ہے، جسے ہر گیمز کے میزبان ملک کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک متفق ہوتے ہیں۔ IOC کے پاس اس پر عمل درآمد کی کوئی طاقت نہیں، یہ مکمل طور پر اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی کھیلوں کا سب سے طاقتور ادارہ بھی سیاسی کشیدگی کے سامنے ہاتھ جھاڑ کر کہہ رہا ہے: ہم دیکھ سکتے ہیں، مگر ہم مداخلت نہیں کر سکتے۔28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جن کے بعد ایران کی جوابی کارروائی بھی سامنے آئی۔
اقوام متحدہ نے ان حملوں کو "بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی" قرار دیا اور عالمی امن کے لیے خطرہ بتایا۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے فوری جنگ بندی کی اپیل کی۔ امریکہ نے اپنے موقف میں کہا کہ یہ کارروائیاں ایران کو جوہری ہتھیار کے ذریعے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بننے سے روکنے کے لیے کی گئیں، جبکہ ایران نے انہیں "جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم" قرار دیا۔یہی وہ صورتحال ہے جہاں IOC خاموش ہے، نہ تو کھلے الفاظ میں حملوں کی مذمت کر رہا ہے اور نہ ہی انہیں کسی خلاف ورزی کے طور پر تسلیم کر رہا ہے۔ یہ غیر جانبداری کا دعویٰ ہے، لیکن حقیقت میں اس سے ایک سیاسی عدم توازن اور تضاد پیدا ہوتا ہے۔
میلانو کورٹینا 2026 ونٹر پیرالمپکس کی تیاری اس بحران سے متاثر ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی پیرالمپک کمیٹی نے بتایا کہ فضائی حدود کی بندش اور کشیدگی کے باعث کھلاڑیوں کی آمد متاثر ہو رہی ہے، جبکہ انتظامیہ "نظریاتی طور پر کام کر رہی ہے"۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے کھلاڑی بھی شامل ہیں، اور ان کا حصہ لینا کھیلوں کے امن کے اصول کے لیے ایک عملی امتحان ہے۔افتتاحی تقریب جمعہ کو ویروونا میں ہونے جا رہی ہے، اور یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ اولمپک ٹروس اور عالمی کشیدگی کے درمیان خلا واضح ہے۔ 2001 میں 11 ستمبر کے بعد، 2022 میں یوکرین میں جنگ، اور اب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی—یہ پہلو واضح کرتا ہے کہ اولمپک ٹروس عملی طور پر سیاسی تضادات کی زد میں رہتی ہے۔
IOC کی موجودہ پالیسی کہ "ہم سیاسی تنازعات میں شامل نہیں ہو سکتے" ایک نظریاتی موقف ہے، لیکن عملی طور پر یہ لاکھوں کھلاڑیوں کی حفاظت اور عالمی کھیلوں کے مقصد کو داو¿ پر لگا دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی کھیل صرف ایک کھیل کا منظرنامہ ہیں، یا امن کے فروغ کے لیے ایک حقیقی پلیٹ فارم بھی ہیں؟IOC کی خاموشی اور غیر جانبداری نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب عالمی سیاسی تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو کھیل بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اولمپک ٹروس کے اصول، چاہے خواہشاتی ہوں یا غیر پابند، عملی طور پر اس وقت صرف ایک علامتی پیغام بن جاتے ہیں۔
آئی او سی کی پالیسی اور موجودہ کشیدگی ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا عالمی کھیل واقعی امن کے فروغ کے لیے موثر ہیں یا یہ صرف ایک نظریاتی مظاہرہ ہیں؟ میلانو کورٹینا ونٹر پیرالمپکس میں کھلاڑیوں کی شرکت، فضائی رکاوٹیں، اور سیاسی تنازعات—یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی کھیل اور عالمی سیاست ہمیشہ ایک دوسرے سے جڑے رہیں گے، اور IOC کے پاس عملی اختیار کی کمی اسے صرف بین الاقوامی نظارے کا حصہ بنا دیتی ہے۔
#OlympicTruce #IOC #WinterParalympics2026 #PeaceThroughSports #MiddleEastConflict #MilanoCortina2026 #GlobalSports #AthleteSafety
|