پڑانگ اسپورٹس گراونڈ، چارسدہ: شفافیت کا فقدان اور حقِ اطلاعات کی تاخیر
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کھیل کے فروغ اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور مالی شفافیت کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن جب آپ چارسدہ کے پڑانگ اسپورٹس گراونڈ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، تو سامنے آتا ہے کہ نہ صرف بنیادی ریکارڈ کی کمی ہے بلکہ حقِ اطلاعات کی قانونی درخواست کو بھی سات مہینے سے زائد انتظار کروایا جا رہا ہے۔اگست 2025 میں، میں نے خیبر پختونخوا حقِ اطلاعات ایکٹ 2013 کے تحت DSO چارسدہ سے ایک مفصل درخواست دی، جس میں پڑانگ اسپورٹس گراونڈ کے مالی سال 2023–24، 2024–25 اور 2025–26 (تک جاری) کی مالی اور عملی معلومات طلب کی گئی تھیں۔ درخواست میں درج ذیل اہم نکات شامل تھے:
ایونٹ اور تربیتی پروگرامز کی تفصیل: ماہانہ اور ایونٹ وار تمام میچز، ٹورنامنٹس اور تربیتی کیمپس کی مکمل فہرست، جس میں کھیل کی نوعیت، ٹیموں اور کھلاڑیوں کی تعداد شامل ہو۔ بکنگ اور گراو¿نڈ الاٹمنٹ ریکارڈز: ہر ایونٹ کی بکنگ کی کاپی، گراو¿نڈ الاٹمنٹ، اور اگر کوئی اہلیت یا انتخابی معیار ہے تو اس کی تفصیل۔ آمدن اور اخراجات کی تفصیل: ہفتہ وار اور ماہانہ بنیاد پر آمدن (گیٹ فیس، اسپانسرشپ، اسٹال/کنسیشن، پارکنگ، اشتہارات) اور اخراجات (مرمت، یوٹیلیٹیز، سکیورٹی، ایونٹ مینجمنٹ، اعزازیہ وغیرہ) کی مکمل تفصیل، بشمول رسیدیں، انوائسز، چالان اور بینک اسٹیٹمنٹس۔ عملہ اور تنخواہیں: گراونڈ اور DSO دفتر کے ساتھ منسلک عملے کی تفصیل، عہدہ، مستقل یا ڈیلی ویجز، ماہانہ تنخواہ، اور متعلقہ ہیڈ آف اکاو¿نٹ کی نشاندہی۔ SOPs اور آڈٹ رپورٹس: بکنگ، فیس، دیکھ بھال، سکیورٹی کے SOPs، اور آڈٹ یا انسپکشن رپورٹس کی نقول۔
چونکہ خیبر پختونخوا حکومت پیپرلیس نظام پر عمل پیرا ہے، اس لیے درخواست میں سرچ ایبل PDF یا Excel فارمیٹ میں ڈیٹا کی فراہمی کی تاکید کی گئی تھی، تاکہ یہ معلومات عوام کے لیے شفاف اور قابل تصدیق ہوں۔سات مہینے سے زائد کے باوجود DSO چارسدہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ تاخیر معمولی نہیں، بلکہ شفافیت اور جوابدہی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ RTI ایکٹ واضح طور پر کہتا ہے کہ معلومات فراہم نہ کرنا یا تاخیر کرنا قانونی جرم ہے، اور اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے۔تاخیر کی کئی سنگین وجوہات سامنے آتی ہیں:
جوابدہی کا فقدان: عوامی دفتر کے افسران عوام کے نمائندے ہیں اور ان پر واضح قانونی ذمہ داری ہے۔ سات مہینے سے زائد وقت تک معلومات نہ دینا ان کی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔عملی شفافیت کی کمی: بغیر ریکارڈ کے یہ معلوم کرنا ناممکن ہے کہ گراو¿نڈ پر کتنے ایونٹس ہوئے، کون سے کھلاڑی اور ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں، یا فنڈز کا کیا استعمال ہوا۔مالیاتی بدانتظامی کا امکان: آمدن اور اخراجات کے شفاف ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے جعلی اخراجات، فنڈز کے غلط استعمال اور مخصوص افراد کے حق میں فیصلہ کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔نظامی کمزوری: یہ مسئلہ پورے KP کھیلوں کے نظام میں موجود کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ناقص ریکارڈ کیپنگ، RTI کی تعمیل میں ناکامی اور عوامی نگرانی کی کمی نظامی مسائل ہیں۔
پڑانگ اسپورٹس گراونڈ صرف ایک کھیلوں کی سہولت نہیں، بلکہ علاقے کے نوجوانوں کے لیے ایک کلیدی تربیتی اور تفریحی مرکز ہے۔ جب ریکارڈ شفاف نہیں ہوتا، تو:حقیقی کھیلوں کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں، کیونکہ کچھ ٹیمیں اور افراد غیر رسمی یا اثرورسوخ کے تحت گراو¿نڈ استعمال کر لیتے ہیں۔نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مالی وسائل اور سہولیات کی تقسیم غیر شفاف ہوتی ہے، جو ترقی کے مواقع کو محدود کر دیتی ہے۔عوامی فنڈز کا غلط استعمال اور بدانتظامی نوجوانوں اور کمیونٹی کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ کھیلوں کے شعبے میں کرپشن اور بدانتظامی عام ہیں۔
ہر سرکاری ادارہ، خاص طور پر وہ جو عوامی فنڈز اور وسائل استعمال کرتا ہے، کے لیے شفافیت لازمی ہے۔ پردانگ اسپورٹس گراو¿نڈ کے معاملے میں چند فوری اقدامات ضروری ہیں:صوبائی اطلاعاتی کمیشن کی مداخلت: RTI کی تعمیل یقینی بنائی جائے اور DSO کو قانونی طور پر جواب دینے پر مجبور کیا جائے۔ گراونڈ کی مالی اور عملی سرگرمیوں کا مکمل آڈٹ، بیرونی اور آزاد آڈیٹر کے ذریعے ہونا چاہیے۔ڈیجیٹل ریکارڈ کیپنگ: ہر ایونٹ، آمدن، اخراجات، اور عملے کی معلومات ڈیجیٹل اور سرچ ایبل فارمیٹ میں رکھنا لازمی ہو، تاکہ عوامی نگرانی ممکن ہو۔ پالیسی اور SOPs کی تعمیل: بکنگ، فیس، دیکھ بھال اور سکیورٹی کے واضح SOPs تیار کیے جائیں اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
خیبر پختونخوا حقِ اطلاعات ایکٹ 2013 کا مقصد صرف ریکارڈ فراہم کرنا نہیں، بلکہ حکومت کی شفافیت، عوام کی شمولیت، اور بدعنوانی کی روک تھام ہے۔ جب کسی سرکاری دفتر میں RTI کے جواب میں تاخیر یا عدم فراہمی کی جاتی ہے، تو یہ عوامی اعتماد کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔پڑانگ اسپورٹس گراو¿نڈ کا معاملہ صرف ایک واحد مثال نہیں، بلکہ KP کے کھیلوں کے نظام میں موجود وسیع پیمانے کی بدانتظامی اور شفافیت کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ رپورٹس اور تحقیقات نے کئی اور ایسے کیسز سامنے لائے ہیں:
مختلف اضلاع میں گھوسٹ ایونٹس اور غیر مصدقہ اسپانسرشپ۔کھیلوں کے ڈائریکٹوریٹس میں عملے کی کمی یا دوبارہ تعیناتی۔ مالی وسائل کا غیر شفاف استعمال اور بین الاقوامی کھیلوں کے لیے مبینہ جعلی نمائندگی۔ یہ تمام مسائل ایک مشترکہ نقطہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں: KP میں کھیلوں کی انتظامیہ میں بنیادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
سات مہینے سے زائد RTI کے جواب کا انتظار، پڑانگ اسپورٹس گراونڈ کے مالی اور عملی ریکارڈ کی غیر دستیابی، اور KP کھیلوں کی انتظامیہ میں شفافیت کا فقدان ایک واضح پیغام دیتے ہیں: عوام اور کھلاڑی دونوں کے حقوق نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ نوجوانوں، کھلاڑیوں، اور عوام کے اعتماد کے لیے خطرہ بھی ہے۔ اگر فوری اصلاحات اور قانونی مداخلت نہ کی گئی، تو پردانگ اور دیگر گراونڈز صرف کرپشن اور بدانتظامی کے مراکز بن کر رہ جائیں گے، جبکہ حقیقی کھیل اور ترقی پس پشت رہ جائے گی۔آزادانہ آڈٹ اور شفاف ڈیجیٹل ریکارڈنگ نافذ کی جائے۔SOPs اور پالیسیز کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے۔ یہ سب اقدامات نہ صرف پردانگ بلکہ پورے KP کے کھیلوں کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کے لیے ضروری ہیں۔
#KPTransparency #RTIPending #CharsaddaSports #AccountabilityMatters #KPRightToInformation #PublicFunds #SportsManagement #پردانگ_اسپورٹس #حق_اطلاعات #خیبرپختونخوا
|