خیبر پختونخواہ اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ میں ای ٹینڈرننگ: شفافیت کے فقدان اور مبینہ کرپشن
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
جنوری 2026 سے خیبر پختونخواہ اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ میں ای ٹینڈرننگ کے عمل سے متعلق معلومات کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔ یہ عمل، جو کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شفافیت فراہم کرنے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا، آج ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
ای ٹینڈرننگ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر کمپنی، خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، یکساں موقع پائے اور سرکاری فنڈز کے استعمال میں شفافیت قائم رہے۔ تاہم، خیبر پختونخواہ اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ میں یہ اصول نافذ ہونے کے باوجود، متعدد معاملات میں غیر شفافیت واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق، متعلقہ کمپنی سے ای ٹینڈرننگ کے عمل، کمیٹی ممبران، اور کمپنیوں کے انتخاب یا مسترد کیے جانے کی وجوہات کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھیں، لیکن ابھی تک کوئی تفصیل عوام کے سامنے نہیں آئی۔ یہ تاخیر سوالات کو جنم دیتی ہے کہ آیا اس عمل میں جانبداری یا ذاتی مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ساز و سامان کے معاہدے ان کمپنیوں کو دیے گئے جو اس طرح کی سپلائی میں تجربہ نہیں رکھتیں، بلکہ صرف تعمیراتی کاموں میں سرگرم تھیں۔ یہ انتخاب مشکوک معلوم ہوتا ہے اور مبینہ طور پر ایک خاص افسر کی ہدایت پر کیا گیا۔ایسے اقدامات سے نہ صرف عوامی فنڈز کا غلط استعمال ہوتا ہے بلکہ ادارے کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ جب کوئی کمپنی صرف تجربے کی بنیاد پر منتخب نہ ہو بلکہ روابط اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر معاہدہ حاصل کرے، تو اس سے شفافیت کا مقصد ناکام ہو جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ نے کمپیوٹرز خریدے، فی یونٹ 278,000 روپے کی قیمت پر، کل دس یونٹس۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ کمپیوٹرز ڈائریکٹوریٹ میں موجود نہیں ہیں، اور عملہ اب بھی ذاتی لیپ ٹاپ پر کام کر رہا ہے۔یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے کیا یہ کمپیوٹرز اصل میں خریدے گئے یا صرف کاغذوں پر دکھائے گئے؟ اگر خریدے گئے، تو یہ کہاں گئے اور کیوں اسٹاف کے استعمال میں نہیں ہیں؟ کیا کسی افسر یا ثالث نے اس رقم سے ذاتی فائدہ حاصل کیا؟ یہ تمام پہلو عوامی فنڈز کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صرف ٹینڈر کے کاغذی عمل سے شفافیت قائم نہیں ہو سکتی۔
ذرائع کے مطابق، مبینہ طور پر ملوث افسران اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ تک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جب شفافیت کے اصول نافذ کیے جائیں، تو یہ معاملہ سنگین انکشافات کو جنم دے سکتا ہے۔ تاہم، اس وقت تک یہ افسران خاموش ہیں اور معاملے کی حقیقت سے عوام کو آگاہ نہیں کر رہے۔ یہ رویہ نہ صرف ادارے کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں اور عوام کی بھروسے کو بھی کمزور کرتا ہے۔ جب سرکاری ادارے اپنی کارروائی میں شفاف نہیں ہوتے، تو عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے اور سرمایہ کاری یا تعاون کی کوششیں ر±ک جاتی ہیں۔
اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ میں شفافیت کی کمی کے براہِ راست اثرات نوجوان کھلاڑیوں اور عوام پر پڑتے ہیں۔ جب ساز و سامان اور انفراسٹرکچر کے معاہدے غیر شفاف ہوں، تو کھلاڑی مطلوبہ سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کمپیوٹرز، کھیل کے سامان اور دیگر وسائل کی عدم موجودگی سے تربیت اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں، یہ صورتحال ایسے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ شکن ہے جو کھیل میں ملک کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں لیکن ادارے کی ناکامی کی وجہ سے صحیح مواقع نہیں مل پاتے۔ ای ٹینڈرننگ کے نظام کا مقصد شفافیت اور احتساب ہے، لیکن جب اس میں تعطل آتا ہے، تو اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا۔ شفافیت قائم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں: ای ٹینڈرننگ کے تمام مراحل کی تفصیلات عوام کے لیے دستیاب ہوں۔ کمیٹی ممبران اور کمپنیوں کے انتخاب کی وجوہات شفاف طور پر بیان کی جائیں۔ مبینہ طور پر غیر تجربہ کار کمپنیوں کو دیے گئے معاہدوں کی تحقیقات کی جائیں۔ خریداری اور دیگر وسائل کی موجودگی کی باقاعدہ آڈٹ رپورٹ تیار کی جائے۔ ملوث افسران کے مفادات کی جانچ کی جائے اور احتساب یقینی بنایا جائے۔
خیبر پختونخواہ اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ میں ای ٹینڈرننگ کے عمل کی غیر شفافیت نہ صرف ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ جب سرکاری فنڈز کے استعمال میں شفافیت نہ ہو، تو نہ صرف مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔یہ فیچر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شفافیت اور احتساب صرف قوانین کی موجودگی سے ممکن نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد لازمی ہے۔ ای ٹینڈرننگ کے نظام کو مکمل طور پر فعال بنانے کے بغیر، خیبر پختونخواہ میں اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کی استعداد اور نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی کے امکانات محدود رہیں گے۔
#KPSportsDirectorate #ETendering #Transparency #PendingInformation #SportsProcurement #CorruptionAlert #KPNews #GovernmentAccountability #ProcurementScandal #PublicFunds
|