پشاور میں ٹی ٹوئنٹی: کھیل، شور اور شہریوں کی جدوجہد


پشاور میں ٹی ٹوئنٹی میچز شروع ہو گئے ہیں۔ ہاں، وہی میچز جو نوجوانوں کو خوشی دیتے ہیں، قوم کو صحت مند مقابلے کا درس دیتے ہیں، اور سرکاری پریس ریلیز کے مطابق “عوام کی فلاح و بہبود” کے لئے منعقد کیے جاتے ہیں۔لیکن ہمارے پشاور والے تجربے کے مطابق، یہ میچز صرف کھیل نہیں، بلکہ ایک مکمل شہری تنازعہ، سڑکوں کی جنگ، اور دکانداروں کے لیے روزگار کی المناک کہانی بھی ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی میچ کے ساتھ ہی ہشتنگری سے گورنمنٹ کالج پشاور اور باچا خان چوک تک سڑکیں بند کر دی گئیں۔ سیکورٹی؟ ہاں، سیکورٹی ضروری ہے۔لیکن کیا ہر شہری کو سزا دینے کے لئے سیکورٹی کے بہانے شہر بند کر دینا بھی ضروری ہے؟ سبزی فروش، رکشہ ڈرائیور، مزدور، چھوٹے دکاندار — سب کو اچانک اطلاع دی گئی:“آج کرکٹ ہو رہی ہے، روزگار کل دیکھیں گے۔”ایک سبزی فروش کہہ رہا تھا “صاحب، روزی تو بند کر دی، لیکن کہتے ہیں بیٹا میچ دیکھنے آ جاو¿۔”رمضان کے مہینے میں، دکانداروں نے منتظمین کے حق میں دعائیں بھی کیں، کیونکہ بھوکا آدمی صرف روٹی کے لیے روتا ہے، ٹی ٹوئنٹی کے اسٹریک ریٹ کے لیے نہیں۔

کھیلوں کا ایک “عالمی” فائدہ یہ بھی ہے کہ شہری پیدل چلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سڑکیں بند، ٹریفک جام، پیدل چلنا لازمی۔ ہاں، فٹنس کے لیے یہ بہترین طریقہ ہے۔لیکن یہ مزہ تب آتا ہے جب آپ پانچ منٹ پیدل چلیں، آدھا گھنٹہ رکشہ نہ ملے، اور آخر میں سبزی لینے کے بعد کہیں پہنچیں تو میچ ختم ہو گیا ہو۔یہ ہے پشاور ماڈل: کھیل کرو، صحت مند رہو، اور غصے کے ساتھ دعائیں بھی کرو۔

پشتو کا مشہور مثل یاد ہے؟“گھوڑوں کو نعل لگ رہے تھے، مینڈک نے بھی پاوں اٹھا دیے کہ ہمیں بھی نعل لگا دو۔” ہمارے ہاں بھی یہی ہوا: پنجاب میں بڑے اسٹیڈیم، بڑے ایونٹس، تو پھر پشاور میں بھی کروانا ضروری ہو گیا۔لیکن فرق صرف یہ ہے کہ گھوڑے محفوظ ہیں، مینڈک شہر کی ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں، اور شہری بھوک اور پریشانی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پشاور کے ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم پر دو ارب روپے خرچ ہوئے۔دو ارب!لیکن اگر آپ اسی روڈ پر کسی سے پوچھیں:“عمران خان اسٹیڈیم کہاں ہے؟”تو جواب ملے گا:“سٹیڈیم؟ ارے وہ کہاں ہے؟ کیا کھانے کا نام ہے؟”اب اسٹیڈیم کا نام عمران خان رکھ دیا گیا ہے، لیکن شہری اب بھی پوچھتے ہیں:“ارباب نیاز یا عمران خان؟ کون سا اسٹیڈیم ہے؟”یہ بالکل ایسے ہے جیسے کسی بچے کا نام بدل دیا جائے، مگر محلہ اب بھی پرانے نام سے پکار رہا ہو۔اگر اتنی بڑی رقم حیات آباد اسٹیڈیم پر لگ جاتی، تو شہریوں کی زندگی آسان، اور کھیل محفوظ بھی ہوتا۔

سرکاری بیان یہی ہے کہ “یہ سب عوام کی بہتری کے لیے ہو رہا ہے۔”عملی طور پر،باپ کی دکان بند کروبیٹے کو کہو جا کر میچ دیکھو،ٹریفک جام ہو جائے،مزدور گھر واپس جائیں،اور پھر اعلان کرو،“پشاور میں اسپورٹس فیسٹیول ہو رہا ہے، خوشی منائیں!”یہ وہی خوشی ہے جو “چائے پیو اور روٹی تلاش کرو” کے بیچ میں آتی ہے۔یہ سب پاکستانی کھلاڑی ہیں، مختلف ریجنز کے۔اب سوچیں جب پی ایس ایل کا ایک میچ پشاور آئے گا۔،شاید پورا شہر گھروں میں قید ہو جائے، مزدور بھوکا رہے،،سبزی فروش کا اسٹاک سڑک پر خراب ہو جائے،اور والدین دعائیں کریں،“یا اللہ، یہ میچ پنجاب میں کرا دے، پشاور چھوڑ دے۔”

اگر واقعی مقابلہ دکھانا ہے، تو صرف میچ کرا کے نہیں دکھانا چاہیے۔دکھائیں کہ خیبر پختونخوا کے کتنے کھلاڑی قومی سطح پر کھیل رہے ہیں۔کتنے بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں شامل ہیں۔کتنے کوچنگ اکیڈمیاں چل رہی ہیں۔یہ اصل مقابلہ ہے، نہ کہ سڑکیں بند کرنا اور دو ارب روپے کے اسٹیڈیم میں مٹی پھینکنا۔یہ میچز اصل میں کھیل نہیں ہیں۔یہ شہریوں کے لیے تماشا ہیں۔کھیل سے مقصد یہ ہوتا ہے: خوشی، فٹنس، معاشرتی میل جول۔لیکن اگر شہری دن بھر ٹریفک میں پھنس جائیں، دکاندار روٹی کے لیے پریشان ہوں، اور شہری نفسیاتی پریشانی میں مبتلا ہوں، تو یہ کھیل نہیں، سزا ہے۔ہمارے ہاں کھیلوں کی منصوبہ بندی کا طریقہ کچھ یوں ہے،فیصلہ کرو: میچ ہوگا۔اعلان کرو: شہری پریشان ہوں۔نتیجہ؟ دیکھیں، خدا کرے سب ٹھیک رہے۔کوئی ٹریفک مینجمنٹ نہیں،کوئی روزگار کی حفاظت نہیں،کوئی شہری سہولت کا تصور نہیںصرف ایک اعلان، اور شہر اسے برداشت کرے۔

کھیل ضروری ہیں، بالکل۔لیکن عقل بھی ضروری ہے۔اگر کھیلوں کے لیے پورا شہر عذاب میں ڈالا جائےتو پھر سوال یہ بنتا ہے کھیل عوام کے لیے ہیں یا عوام کو کھیل کے لیے سزا دی جا رہی ہے؟اور اگر یہی سسٹم رہا، تو اگلی بار پشاور والے شاید یہ دعا کریں“یا اللہ، یہ میچ کسی اور شہر میں کرا دے، پشاور کو آرام دے۔”پشاور میں ٹی ٹوئنٹی کھیلنا ایک آرٹ بن گیا ہے۔کھیل، شور، دکاندار کا غم، شہری کی پریشانی، اور رمضان میں دعاو¿ں کا تڑکا۔یہ سب مل کر ایک نیا اسپورٹس ماڈل بناتے ہیں،اور آخر میں، سب شہری یہ سوچ رہے ہیں کیا واقعی ہم کھیل کے لیے ہیں، یا کھیل ہمارے لیے؟

#PeshawarCricketChaos #T20OrTrafficJam #PublicVsPlayers #CricketVsCommonMan #UrbanSportsComedy
#PeshawarCricketChaos #T20OrTrafficJam #PublicVsPlayers


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776351 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More