ایران کی خواتین فٹبال ٹیم: قومی ترانہ، خوف اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا المیہ

ایران کی خواتین قومی فٹبال ٹیم کی ایشین کپ میں شرکت اور ان کے قومی ترانے کے حوالے سے حالات نے کھیل اور سیاست کے درمیان غیر معمولی الجھن پیدا کر دی ہے۔ وہ لمحے جو عام طور پر صرف کھیل کے آغاز کی علامت ہوتے ہیں، یہاں ایک سیاسی، انسانی اور بین الاقوامی مسئلے کا مرکز بن گئے۔ چند دن پہلے، ان کھلاڑیوں نے قومی ترانہ نہیں گایا اور اس پر انہیں ‘جنگ کے غدار’ قرار دیا گیا۔ یہ لفظ، اگرچہ ریڈیو اور ٹی وی کی سطح پر بولا گیا، لیکن اس کے اثرات حقیقی اور فوری تھے، اور ان کھلاڑیوں کی جان اور مستقبل کے لیے خطرات پیدا کر گئے۔

کوئینزلینڈ میں ٹیم کی آخری میچ کے موقع پر ترانہ گانے کا عمل بظاہر ایک معمولی روایت نظر آیا، لیکن اس کے پس منظر میں شدت سے سیاسی اور انسانی تناو¿ تھا۔ چھ دن قبل، کھلاڑیوں نے ترانہ نہیں گایا اور ریاستی ٹی وی پر ان پر شدید تنقید کی گئی۔ اس واقعے نے دکھا دیا کہ کھیل کے روایتی عناصر جیسے قومی ترانہ، کبھی کبھار محض رواج نہیں رہتے، بلکہ وہ سیاسی اور سماجی دباو¿ کا بھی آلہ بن جاتے ہیں۔

ایشین کپ کے آغاز میں، ایران کی ٹیم نے جنوبی کوریا کے خلاف میچ کے دوران ترانہ نہیں گایا۔ اس فیصلے کا کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، مگر اس پر ملک میں شدید ردعمل ہوا۔ ایک ویڈیو جس میں ایران کے ریاستی نشریاتی ادارے کے میزبان محمد رضا شہبازیز نے کھلاڑیوں کو غیر ملکی حب الوطنی کے الزامات سے نوازا، نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا۔ اس کے بعد قومی ترانہ محض ایک روایتی عمل نہیں رہا بلکہ ہر بار اس پر گہری نگاہ رکھی جانے لگی۔

دوسرے میچ میں، میزبان ٹیم کے خلاف شکست کے باوجود ایران کی خواتین نے ترانہ گایا۔ اس تبدیلی نے انسانی حقوق کے کارکنوں میں خدشات پیدا کیے کہ ممکنہ طور پر کھلاڑیوں پر حکومتی دباو? تھا۔ اگرچہ کوئی عوامی ثبوت نہیں دیا گیا، لیکن کھلاڑیوں کی واپسی کے قریب یہ بے چینی بڑھ گئی۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر ردعمل بھی پیدا کیا۔

آسٹریلیا میں ایک عوامی تحریک شروع ہوئی، جس کے تحت Change.org پر ایک پٹیشن میں درخواست کی گئی کہ حکومت ٹیم کو پناہ دے، کیونکہ کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے حقیقی خطرات موجود ہیں۔ اس پٹیشن کو چند دنوں میں 51,000 سے زائد افراد نے سائن کیا۔ پٹیشن نے ہوم افیئرز منسٹر ٹونی برک سے درخواست کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹیم کو صرف اسی وقت واپس بھیجا جائے جب ان کی حفاظت کے بارے میں شواہد موجود نہ ہوں۔

عالمی کھلاڑیوں کی یونین FIFPRO نے بھی ایشین فٹبال کنفیڈریشن اور فیفا سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور ایران کی ٹیم کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔ اسی طرح، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس موقف کی حمایت کی۔

آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا موقف رکھتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں کھیل کا پہلو ثانوی ہو چکا ہے۔ اصل مسئلہ اب کھلاڑیوں کی محفوظ واپسی اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو واضح کرتا ہے کہ کھیل کبھی کبھار سیاست اور جنگ کی زد میں آ جاتا ہے، اور کھلاڑی صرف کھیل کے نمائندہ نہیں رہتے بلکہ انسانی جانوں کے ساتھ جڑے فیصلوں کا مرکز بھی بن جاتے ہیں۔

اس بحران کی شدت کو بڑھانے والے عوامل میں خطے کی سیاسی غیر یقینی صورتحال بھی شامل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہوائی حملے، اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں، ایک خطرناک پس منظر فراہم کرتی ہے جس میں کھلاڑیوں کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ منظر نامہ ظاہر کرتا ہے کہ کھیل کے دوران کھلاڑیوں کو محض فٹنس یا تکنیکی تیاری کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی و سیاسی خطرات کے پیش نظر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب ایران کی ٹیم کے پانچ کھلاڑی، جن میں کپتان زہرہ گنبری بھی شامل ہیں، کو آسٹریلین فیڈرل پولیس نے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ انہوں نے وہاں پناہ حاصل کی اور اپنے مستقبل کے بارے میں اعلان کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کھلاڑیوں کے فیصلے نہ صرف ذاتی بلکہ سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اثر رکھتے ہیں۔

ریزا پہلوی کے دفتر نے اعلان کیا کہ یہ پانچ کھلاڑی 'ایران کے شیر و سورج قومی انقلاب' میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ کھیل کی دنیا میں ہونے والے اقدامات کبھی کبھار بڑے سیاسی اور انسانی تحریکوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔

یہ واقعہ صرف ایران تک محدود نہیں رہتا۔ اس نے بین الاقوامی سطح پر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ عالمی کھیل کے ادارے، جیسے فیفا، کس حد تک کھلاڑیوں کی حفاظت اور انسانی حقوق کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں۔ FIFA، AFC اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے کہ وہ کھیل کو انسانی جانوں کے تحفظ کے بغیر کیسے منظم کر سکتے ہیں۔

یہ المیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ خواتین کھلاڑی، خاص طور پر وہ جو سخت سیاسی ماحول میں کھیلتی ہیں، زیادہ خطرات کا سامنا کرتی ہیں۔ ان کے خلاف دباو¿، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، کھیل کی بنیاد پر جاری رہ سکتی ہیں۔ عالمی برادری اور کھیل کے ادارے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتے کہ کھیل کا میدان صرف مقابلہ نہیں، بلکہ انسانی زندگی اور حفاظت کے لیے بھی ایک آزمائش ہے۔

ایسی صورتحال میں میڈیا کی ذمہ داری بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ حقائق کی واضح اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ، کھلاڑیوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کی بنیاد پر فیصلہ سازی میں مدد کر سکتی ہے۔ عالمی اور مقامی میڈیا کا کام یہ ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے حالات اور خطرات کو اجاگر کرے، نہ کہ صرف کھیل کے نتائج پر توجہ دے۔

نتیجہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ کھیل اور سیاست کے درمیان تعلق کبھی کبھار ناقابلِ تصور حد تک گہرا ہو جاتا ہے۔ ایران کی خواتین فٹبال ٹیم کے کیس میں یہ دکھا کہ کھلاڑی صرف قومی نمائندہ نہیں، بلکہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی سیاسی دباو¿ کے بیچ پھنسے ہوئے افراد بھی ہیں۔ عالمی اداروں، حکومتی نمائندوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کے لیے یہ وقت ایک سنجیدہ اور حساس فیصلہ کا ہے: کھیل کے میدان میں محفوظ رہنے کی ضمانت کیسے دی جائے؟

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ کھیل کو انسانی زندگی اور حفاظت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کسی بھی کھلاڑی کی جان یا مستقبل کو صرف کھیل کے نتائج کے لیے خطرے میں ڈالنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔

#IranWomenFootball #AsianCup2026 #HumanRights #FIFA #AFC #PlayerSafety #PoliticalPressure #Asylum #WomenInSports #InternationalSolidarity

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776377 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More