جب ہاکی نہیں، فٹبال نہیں… سیاست کھیلتی ہے: ایرانی ویمنز ٹیم کا بحران
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کھیل عام طور پر ایک سادہ چیز سمجھا جاتا ہے۔ گیند، میدان، دو ٹیمیں اور ایک نتیجہ۔ لیکن ایرانی ویمنز فٹبال ٹیم کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ کھیل کبھی صرف کھیل نہیں ہوتا۔ خاص طور پر جب ریاست، شناخت، جنگی ماحول اور آزادی کے سوالات اس میں شامل ہو جائیں۔آسٹریلیا میں ہونے والے ایشین کپ میں ایرانی ٹیم کی شرکت ایک مثبت کہانی ہونی چاہیے تھی۔ دو دہائیوں بعد کوالیفائی کرنا خود ایک بڑی کامیابی تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ ایران میں خواتین کھیل کے میدان میں جگہ بنا رہی ہیں۔ لیکن جو ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔ ٹیم میدان سے زیادہ سیاست کے میدان میں پھنس گئی۔
اصل مسئلہ ایک سادہ سے لمحے سے شروع ہوا۔ قومی ترانہ بجا، اور کچھ کھلاڑی خاموش رہیں۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا عمل تھا، لیکن اس کے اثرات بڑے نکلے۔ اس خاموشی کی کوئی باضابطہ وضاحت نہیں دی گئی، لیکن ہر کسی نے اپنی مرضی کی تشریح کر لی۔ کسی نے اسے احتجاج کہا، کسی نے سوگ، اور کسی نے بغاوت۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ایک کھلاڑی کو قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ اگر وہ نہیں گاتا تو کیا وہ غدار ہو جاتا ہے؟ ایران کے سرکاری ٹی وی پر ایک اینکر نے کھلاڑیوں کو "جنگی غدار" کہا۔ یہ لفظ صرف تنقید نہیں تھا، یہ ایک پیغام تھا۔ ایک واضح اشارہ کہ ریاست اس معاملے کو کیسے دیکھ رہی ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا جہاں کھیل ختم اور خوف شروع ہوا۔کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست دینا شروع کر دی۔ سات افراد نے یہ قدم اٹھایا۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہوتا۔ ایک کھلاڑی اپنی زندگی، کیریئر، خاندان اور شناخت سب کچھ داو¿ پر لگاتا ہے جب وہ پناہ مانگتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے واقعی خطرہ محسوس ہو رہا ہے، چاہے وہ حقیقی ہو یا نفسیاتی۔لیکن یہاں بھی کہانی سیدھی نہیں رہی۔ انہی میں سے پانچ، جن میں کپتان زہرا غنبری بھی شامل تھیں، نے بعد میں اپنی درخواست واپس لے لی اور ٹیم کے ساتھ واپس چلی گئیں۔ صرف دو کھلاڑی آسٹریلیا میں رہ گئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ واپسی رضاکارانہ تھی یا دباو¿ کا نتیجہ؟
یہ وہ حصہ ہے جہاں حقیقت دھندلی ہو جاتی ہے انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ کھلاڑیوں کے خاندانوں پر دباو¿ ڈالا گیا۔ پوچھ گچھ، دھمکیاں، اور غیر رسمی پیغامات۔ ایران نے ان سب الزامات کو مسترد کر دیا۔ دوسری طرف آسٹریلیا نے کچھ کھلاڑیوں کو انسانی بنیادوں پر ویزے دیے، اور کہا کہ انہیں "مشکل فیصلے" کرنے پڑے۔یعنی ہر فریق اپنی کہانی سنا رہا ہے، اور سچ کہیں درمیان میں کھو گیا ہے۔یہ معاملہ صرف ایران تک محدود نہیں رہا۔ عالمی سیاست بھی اس میں شامل ہو گئی۔ امریکی صدر رٹرمپ ڈونلڈ نے کھلاڑیوں کی حفاظت پر تشویش ظاہر کی اور انہیں پناہ دینے کی حمایت کی۔ ایران نے اسے بیرونی مداخلت قرار دیا۔ یہ وہی پرانا کھیل ہے جہاں انسانی حقوق اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کھلاڑی اس کھیل کے مہرے بن جاتے ہیں۔واپسی کے بعد ایرانی حکومت نے اس واقعے کو "وفاداری" کے بیانیے میں بدلنے کی کوشش کی۔ بارڈر پر استقبال، بیانات، اور پھر تہران میں تقریب کی منصوبہ بندی۔ پیغام واضح تھا: سب کچھ ٹھیک ہے، کھلاڑی محفوظ ہیں، اور ریاست ان کے ساتھ ہے۔لیکن اگر واقعی سب کچھ ٹھیک تھا، تو پناہ کی درخواست کیوں دی گئی؟اور اگر واقعی خطرہ تھا، تو پھر واپسی کیوں ہوئی؟
یہ تضاد اس پوری کہانی کا سب سے کمزور اور سب سے اہم نکتہ ہے۔ ایک اور دلچسپ پہلو زبان کا استعمال ہے۔ فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ کھلاڑیوں نے "مردوں جیسی ہمت" دکھائی۔ بظاہر یہ تعریف ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک مسئلہ ہے۔ یہ جملہ خود اس معاشرتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے جہاں بہادری کو اب بھی مردانگی سے جوڑا جاتا ہے۔ یعنی خواتین کی کامیابی کو بھی مردانہ پیمانے سے ناپا جاتا ہے۔یہ صرف ایک بیان نہیں، ایک ذہنیت ہے۔
اب ذرا کھیل کے بڑے تناظر کو دیکھیں۔ ایران کی ویمنز ٹیم نے 20 سال بعد ایشین کپ کے لیے کوالیفائی کیا۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا۔ اسے ایک مثبت بیانیہ بننا چاہیے تھا۔ نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک مثال، ایک امید۔ لیکن اب یہ واقعہ ایک وارننگ بن گیا ہے۔پیغام کیا گیا؟ کہ اگر آپ کھیلیں گے، تو آپ صرف کھیل نہیں کھیل رہے ہوں گے۔ آپ سیاست، ریاست اور عالمی بیانیے کا حصہ بن جائیں گے۔یہ صرف ایران کا مسئلہ نہیں۔ دنیا بھر میں کھیل اور سیاست کا تعلق پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ اولمپکس سے لے کر فٹبال ورلڈ کپ تک، ہر جگہ سیاسی بیانیے گھس چکے ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ کچھ ممالک میں کھلاڑیوں کے پاس انتخاب ہوتا ہے، اور کچھ میں نہیں۔
ایرانی کھلاڑیوں کے کیس میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے: انتخاب کی آزادی۔کیا وہ واقعی آزاد تھیں کہ ترانہ گائیں یا نہ گائیں؟کیا وہ واقعی آزاد تھیں کہ پناہ لیں یا واپس آئیں؟یا یہ سب فیصلے دباو¿، خوف اور حالات کے درمیان کیے گئے؟ ان سوالات کے واضح جواب نہیں ہیں، اور شاید کبھی نہ ہوں۔لیکن ایک چیز واضح ہے: کھیل اب نیوٹرل نہیں رہا۔ایرانی ٹیم کی واپسی کو ایک کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ اور ادھوری کہانی ہے۔ کچھ کھلاڑی واپس آ گئیں، کچھ رک گئیں، اور باقی دنیا دیکھ رہی ہے کہ آگے کیا ہوگا۔
یہ واقعہ ختم نہیں ہوا۔ یہ صرف ایک مرحلہ ہے۔ اگر آپ اس کو سیدھے الفاظ میں سمجھیں تو یہ تین چیزوں کی کہانی ہے:طاقت، خوف، اور بیانیہ۔ طاقت ریاست کے پاس ہے۔ خوف کھلاڑیوں کے پاس ہے۔اور بیانیہ دونوں کے درمیان لڑ رہا ہے۔آخر میں ایک سیدھا سوال، کیا ہم واقعی چاہتے ہیں کہ کھلاڑی صرف کھیلیں، یا ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے سیاسی اور سماجی تنازعات کا بوجھ بھی اٹھائیں؟ اگر جواب پہلا ہے، تو پھر ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ موجودہ نظام اس کے برعکس کام کر رہا ہے۔ اور جب تک یہ نہیں بدلے گا، ایسے واقعات بار بار سامنے آئیں گے۔ کبھی ایران میں، کبھی کسی اور ملک میں۔
#IranWomensTeam #SportsAndPolitics #AsianCup #HumanRights #FootballCrisis #AsylumCase #GlobalSports #WomenInSports #PowerAndPolitics
|