فلائی اوور کے نیچے کھیل: پشاور میں کھیلوں کے نام پر ایک اور تماشا


پشاور میں فلائی اوور کے نیچے انڈور اسپورٹس سہولت کا افتتاح کر دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک “ترقیاتی قدم” لگتا ہے، مگر ذرا گہرائی میں جائیں تو یہ منصوبہ سوالات، تضادات اور بدانتظامی کی ایک نئی مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ شہری ڈیڑھ ہزار روپے فی گھنٹہ دے کر یہاں کرکٹ اور فٹسال کھیل سکیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سہولت واقعی کھیل کے فروغ کے لیے ہے یا صرف ایک دکھاوا؟

سب سے پہلے بنیادی بات۔ فلائی اوور کے نیچے بنائی گئی ایک محدود جگہ میں فٹسال کیسے کھیلا جائے گا؟ فٹسال ایک تیز رفتار، تکنیکی کھیل ہے جس کے لیے مناسب سائز کا کورٹ، حفاظتی انتظامات اور معیاری ماحول ضروری ہوتا ہے۔ کیا یہ سب کچھ وہاں موجود ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ صرف ایک نام کا فٹسال کورٹ ہے، حقیقت میں نہیں۔ اسی طرح کرکٹ۔ کیا کرکٹ انڈور اس طرح کی جگہوں پر کھیلا جاتا ہے؟ پیشہ ورانہ یا حتیٰ کہ سنجیدہ سطح پر کرکٹ کے لیے یا تو مکمل میدان درکار ہوتا ہے یا پھر خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا انڈور ہال۔ فلائی اوور کے نیچے چند نیٹس لگا دینا کرکٹ کی سہولت نہیں کہلاتا، بلکہ یہ کھیل کی توہین ہے۔

اب آتے ہیں سب سے اہم نکتے پر، یعنی رسائی اور لاگت۔ ڈیڑھ ہزار روپے فی گھنٹہ۔ یہ پشاور کے متوسط یا غریب طبقے کے نوجوان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ گلبہار جیسے علاقے میں کتنے نوجوان ایسے ہیں جو باقاعدگی سے یہ فیس ادا کر سکیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کھیلوں کے میدانوں میں زیادہ تر وہی نوجوان آتے ہیں جو مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس یہی واحد صحت مند سرگرمی ہوتی ہے۔ آپ نے ان کے لیے سہولت بنائی بھی، تو ایسی کہ وہ استعمال ہی نہ کر سکیں۔

یہاں اصل مسئلہ نیت اور ترجیح کا ہے۔ اگر مقصد واقعی کھیلوں کو فروغ دینا ہوتا، تو شہر میں بڑے، کھلے اور محفوظ گراو¿نڈز بنائے جاتے۔ ایسے میدان جہاں بچے، نوجوان اور حتیٰ کہ خواتین بھی بلاخوف کھیل سکیں۔ مگر اس کے بجائے ہم نے کیا دیکھا؟ فلائی اوور کے نیچے ایک محدود، غیر معیاری اور مہنگی سہولت۔یہ صرف ایک منصوبے کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سوچ کا مسئلہ ہے۔ پچھلے کئی سالوں میں کھیلوں کے نام پر اربوں روپے کے منصوبے آئے، مگر ان کا زمینی اثر کہاں ہے؟ خود حکومت کے “ہزار سہولیات” منصوبے میں تقریباً 90 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کی بات سامنے آئی، انکوائریاں ہوئیں، مگر نتیجہ؟ خاموشی۔

اب ایک اور نیا تجربہ سامنے آ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر ناکام پالیسی کے بعد ایک نیا “شو پیس” منصوبہ لا کر عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے؟ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کام اس ادارے کے دائرہ اختیار میں آ رہا ہے جس کا بنیادی کام شہر کی خوبصورتی اور منصوبہ بندی ہے، نہ کہ کھیلوں کی پالیسی بنانا۔ اگر ہر ادارہ اپنی حدود سے نکل کر ایسے فیصلے کرے گا، تو نتیجہ یہی نکلے گا: وسائل کا ضیاع اور غیر سنجیدہ منصوبے۔

ایک اور پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ ہے حفاظت۔ فلائی اوور کے نیچے کھیلوں کی سرگرمیاں۔ شور، آلودگی، ٹریفک، اور ممکنہ حادثات۔ کیا ان سب خطرات کا کوئی سنجیدہ جائزہ لیا گیا ہے؟ یا یہ بھی صرف ایک کاغذی کارروائی تھی؟حقیقت تلخ ہے، مگر واضح ہے۔ یہ منصوبہ کھیلوں کے فروغ سے زیادہ “optics” کا کھیل لگتا ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جس کا مقصد تصاویر بنانا ہے، نہ کہ کھلاڑی بنانا۔

حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کھیل صرف انفراسٹرکچر کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہے۔ اس میں مناسب جگہ، تربیت، رسائی اور سیکیورٹی سب شامل ہیں۔ اگر آپ صرف نام کے لیے سہولت بنائیں گے، تو نہ کھلاڑی بنیں گے اور نہ ہی معاشرہ بہتر ہوگا۔آخر میں ایک سیدھا سوال: کیا ہم واقعی اپنے نوجوانوں کو کھیل کے مواقع دینا چاہتے ہیں، یا صرف انہیں ایک اور ناکام منصوبے کا تماشائی بنانا چاہتے ہیں؟

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776518 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More