چارسدہ میں کھیلوں کا زوال: کوچز فارغ، آسامیاں خالی، اور نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
چارسدہ میں کھیلوں کا شعبہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف کھیلوں کے فروغ کے دعوے کیے جا رہے ہیں، دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کی تربیت کرنے والے کوچز کو فارغ کیا جا رہا ہے، مستقل آسامیاں خالی پڑی ہیں، اور کھیلوں کے مستقبل پر بڑے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ضلعی کھیلوں کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ متعلقہ اداروں کی ترجیحات پر بھی سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔
چارسدہ میں مستقل کوچز کی آٹھ آسامیاں کئی برسوں سے خالی ہیں۔ یہ آسامیاں نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نہایت اہم تھیں، مگر متعلقہ حکام نے ان پر مستقل بھرتیاں نہیں کیں۔ ان آسامیوں کے خالی رہنے کے باعث فٹ بال، کرکٹ اور بیڈمنٹن سمیت چار ڈیلی ویجز کوچز گزشتہ پانچ سے تیرہ سال تک اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔
یہ کوچز مقامی نوجوانوں کی تربیت، ضلعی مقابلوں کی تیاری، اور کھیلوں کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے۔ محدود وسائل اور غیر یقینی ملازمت کے باوجود انہوں نے اپنے فرائض جاری رکھے اور چارسدہ میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو زندہ رکھا۔مگر ایک ماہ قبل ان کوچز سمیت گیارہ ملازمین کو اچانک فارغ کر دیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے ان کی خدمات مزید جاری نہیں رکھی جا سکتیں۔یہ جواز اس وقت مزید مشکوک ہو جاتا ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ انہی ملازمین کو فارغ کرنے کے فوراً بعد بیس نئے افراد بھرتی کیے گئے۔
یہاں سب سے اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی فنڈز کی کمی تھی تو پھر نئی بھرتیاں کیسے ہوئیں؟ اگر بجٹ موجود نہیں تھا تو کئی سال سے خدمات انجام دینے والے تجربہ کار کوچز کو نکال کر نئے افراد کو کیوں رکھا گیا؟ یہ سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کوچز کو فارغ کرنے کے فیصلے میں سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبرپختونخوا کا کردار موجود تھا۔ اطلاعات کے مطابق رمضان المبارک کے آخری ہفتے میں، عید سے دو دن پہلے کوچز کو ہدایت کی گئی کہ اگلے روز کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں۔ کوچز نے مو¿قف اختیار کیا کہ کھلاڑیوں کو اطلاع دینے اور انتظامات مکمل کرنے کے لیے کم از کم دو دن درکار ہیں۔
یہ بات متعلقہ حکام کو ناگوار گزری اور چند ہی دن بعد انہی کوچز کو یہ کہہ کر فارغ کر دیا گیا کہ فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔ یہ صورتحال اس شبہے کو تقویت دیتی ہے کہ فنڈز کی کمی کا مو¿قف محض ایک بہانہ تھا اور اصل معاملہ انتظامی ناراضی کا نتیجہ تھا۔ معاملہ مزید پیچیدہ اس لیے بھی ہے کہ ذرائع کے مطابق ان کوچز کی تنخواہیں ڈپٹی کمشنر چارسدہ کے اکاو¿نٹ فور سے ادا کی جاتی تھیں، نہ کہ ضلعی سپورٹس آفس کے معمول کے بجٹ سے۔
اگر ایسا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ جب تنخواہیں الگ اکاو¿نٹ سے جاری ہو رہی تھیں تو فنڈز کی کمی کا جواز کیوں پیش کیا گیا؟ اگر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفس ان کوچز کو نہیں رکھنا چاہتا تھا تو کیا ضلعی انتظامیہ بھی کھیلوں کے فروغ میں دلچسپی نہیں رکھتی؟ متاثرہ ملازمین نے جب سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبرپختونخوا کے حکام سے رابطہ کیا تو مبینہ طور پر انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے مقامی ممبران اسمبلی سے رجوع کریں، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
جب انہوں نے منتخب نمائندوں سے رابطہ کیا تو جواب ملا "ہم نے صرف اپنے کلاس فور ملازمین بھرتی کیے ہیں، کسی کوچ کو فارغ نہیں کیا۔"یہ تمام صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ہر ادارہ ذمہ داری دوسرے پر ڈال رہا ہے، مگر اصل مسئلے کا حل کوئی پیش نہیں کر رہا۔ اس وقت چارسدہ میں مستقل کوچز کی آٹھ آسامیاں خالی ہیں اور جو ڈیلی ویجز کوچز تیرہ سال سے کھیلوں کے فروغ میں مصروف تھے انہیں بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔
ایسے میں یہ سوال نہایت اہم ہے اب چارسدہ میں کھیلوں کی ترقی کیسے ہوگی؟ یہ معاملہ مزید سنگین اس لیے ہو جاتا ہے کہ ماضی میں بھی چارسدہ کے سپورٹس نظام کے حوالے سے بے ضابطگیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل گریڈ 10 کے کوچز کو کاغذوں میں چارسدہ ٹرانسفر کیا گیا مگر انہوں نے یہاں عملی طور پر ڈیوٹی انجام نہیں دی۔ اس کے باوجود وہ ترقی کرتے ہوئے گریڈ 16 تک پہنچ گئے۔ اگر یہ درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ چارسدہ کو کھیلوں کے فروغ کے بجائے محض پروموشن کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ یعنی بجٹ اور آسامیوں کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے بجائے انتظامی مفادات بن گئے۔اس غفلت کا سب سے بڑا نقصان نوجوان نسل کو پہنچ رہا ہے۔
وہ کوچز جنہوں نے پانچ سے تیرہ سال اپنی زندگی کھیلوں کے فروغ کے لیے وقف کیے، آج بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر اب اوور ایج ہو چکے ہیں، اس لیے ان کے لیے نئی ملازمت حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہ صرف چند ملازمین کی بے روزگاری کا مسئلہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کا مسئلہ بھی ہے۔ جب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دیکھتے ہیں کہ برسوں خدمات انجام دینے والے کوچز کو ایک زبانی حکم پر فارغ کیا جا سکتا ہے تو ان کے ذہن میں ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کوچز کی یہی حیثیت ہے تو کھیلوں میں آنے کا فائدہ کیا ہے؟ یہ صورتحال نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ نہ محنت کی قدر ہے، نہ خدمات کا تحفظ، اور نہ ہی کھیلوں کے شعبے میں کوئی روشن مستقبل موجود ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان کھیلوں سے دور ہو جاتے ہیں، خاندان اپنے بچوں کو کھیلوں کی طرف لانے سے ہچکچاتے ہیں، اور ضلع ایک پوری نسل کے ممکنہ کھلاڑیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔یہ مسئلہ صرف کوچز کی بحالی کا نہیں بلکہ چارسدہ کے کھیلوں کے مستقبل کا ہے۔ اب متعلقہ اداروں کو واضح جواب دینا ہوگا کہ مستقل آسامیاں کیوں خالی ہیں؟ تجربہ کار کوچز کو کیوں فارغ کیا گیا؟اگر فنڈز نہیں تھے تو نئی بھرتیاں کیسے ہوئیں؟ اور آخر چارسدہ میں کھیلوں کے فروغ کی ذمہ داری کس کی ہے؟ جب تک ان سوالات کے شفاف جواب نہیں دیے جاتے، عوامی اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔
چارسدہ میں کھیلوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ مستقل کوچز کی بھرتیاں کی جائیں، تجربہ کار کوچز کو بحال کیا جائے، اور کھیلوں کے نظام میں شفافیت لائی جائے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کوچز کے بغیر کھلاڑی نہیں بنتے، اور کھلاڑیوں کے بغیر کھیل ترقی نہیں کرتے۔ اگر آج اصلاحات نہ کی گئیں تو کل چارسدہ صرف کوچز ہی نہیں بلکہ اپنی پوری کھیلوں کی شناخت کھو دے گا۔
#CharsaddaSports #SaveSportsCoaches #SportsCrisis #YouthAtRisk #SportsDevelopment #Accountability
|